Skip to main content

وَالّۤـٰـئِـيْ يَٮِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۤٮِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّالّۤـٰـئِـيْ لَمْ يَحِضْنَ ۗ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۗ وَمَنْ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا

وَٱلَّٰٓـِٔى
اور وہ عورتیں
يَئِسْنَ
جو مایوس ہوچکی ہوں
مِنَ
سے
ٱلْمَحِيضِ
حیض (سے)
مِن
سے
نِّسَآئِكُمْ
تمہاری عورتوں میں (سے)
إِنِ
اگر
ٱرْتَبْتُمْ
شک ہو تم کو
فَعِدَّتُهُنَّ
تو ان کی عدت
ثَلَٰثَةُ
تین
أَشْهُرٍ
مہینے ہے
وَٱلَّٰٓـِٔى
اور وہ عورتیں
لَمْ
نہیں
يَحِضْنَۚ
جنہیں ابھی حیض آیا ہو۔ جو حائضہ ہوئی ہوں
وَأُو۟لَٰتُ
اور والیاں
ٱلْأَحْمَالِ
حمل والیاں
أَجَلُهُنَّ
ان کی عدت
أَن
کہ
يَضَعْنَ
وہ رکھ دیں
حَمْلَهُنَّۚ
اپنا حمل
وَمَن
اور جو
يَتَّقِ
ڈرے گا
ٱللَّهَ
اللہ سے
يَجْعَل
وہ کردے گا
لَّهُۥ
اس کے لیے
مِنْ
سے
أَمْرِهِۦ
اس کے کام میں
يُسْرًا
آسانی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،

احمد علی Ahmed Ali

اور تمہاری عورتوں میں سے جن کو حیض کی امید نہیں رہی ہے اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا اور حمل والیوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو الله سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہوگئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو (١) اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے (٢) اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔

٤۔١ یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔
٤۔٢ مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہو جائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہوجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور تمہاری (مطلقہ) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان عورتوں کا ہے جنہیں (باوجود حیض کے سن و سال میں ہو نے کے کسی وجہ سے) حیض نہ آتا ہو اور حاملہ عورتوں کی میعاد وضعِ حمل ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر ان کے یائسہ ہونے میں شک ہو تو ان کا عدہ تین مہینے ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جن کے یہاں حیض نہیں آتا ہے اور حاملہ عورتوں کا عدہ وضع حمل تک ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے امر میں آسانی پیدا کردیتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مسائل عدت
جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہوگئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گذاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ کی آیت، اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گذرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاصہ کی بیماری کا، دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو، یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ حضتر ابی بن کعب نے کہا تھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی کمسن لڑکیاں بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری، پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ وضع حمل اس کی عدت ہے گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہوجائے، جیسے کہ اس آیہ کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلفو خلف کا قول ہے، ہاں حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ سورة بقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گذارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہوگیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گذر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے، صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور اس وقت حضرت ابوہریرہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہوجائے آپ نے فرمایا دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گذارنی پڑے گی یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے، ابو سلمہ نے کہا قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا و جانا ہے، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا میں بھی اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابو سلمہ کے ساتھ ہوں یعنی میرا بھی یہی فوتویٰ ہے، حضرت ابن عباس نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ (رض) کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں چالیس راتوں کے بعد بچہ ہوگیا اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کردیا پیغام دینے والوں میں حضرت ابو السنابل بھی تھے۔ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے، حضرت عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند حضرت سعد بن خولہ (رض) تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہوگئے اس وقت یہ حمل سے تھیں تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہوگیا جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں حضرت ابو السنابل بن بلک جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو واللہ تم نکاح نہیں کرسکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گذر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے یہ مسئلہ پوچھا آپ نے فرمایا بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کرلو (مسلم) صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت میں اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ حضرت ممد بن سیرین ایک مجلس میں تھے جہاں حضرت عبدالرحمن بن ابو یعلی بھی تھے جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی اس پر میں نے حضرت سبیعہ والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہو کے لگانے لگے میں نے کہا پھر تو میں نے بڑی جرات کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے میں حضرت ابو عطیہ مالک بن عامر سے ملا انہوں نے مجھے حضرت سبیعہ والی حدیث پوری سنائی میں نے کہا تم نے اس بابت حضرت عبداللہ سے بھی کچھ سنا ہے ؟ فرمایا یہ حضرت عبداللہ کہتے تھے آپ نے فرمایا کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے ؟ سورة نساء قصریٰ یعنی سورة طلاق سورة نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے، ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جو ملاعنہ کرنا چاہے میں اس سے ملاعنہ کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہوجانا ہے پہلے عام حکم تھا کہ جن عرتوں کی خاوند مرجائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گذاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہوجانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہوگئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مرجائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہوجائے، عدت سے نکل گئی۔ ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعود نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت علی کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی آپ نے فرمایا دونوں کی، یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لئے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ متقیوں کے لئے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے۔