Skip to main content

وَاَسِرُّوْا قَوْلَـكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖۗ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ

وَأَسِرُّوا۟
اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو
قَوْلَكُمْ
بات اپنی
أَوِ
یا
ٱجْهَرُوا۟
ظاہر کرو
بِهِۦٓۖ
اس کو
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
عَلِيمٌۢ
جاننے والا ہے
بِذَاتِ
بھید
ٱلصُّدُورِ
سینوں کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو بے شک وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو (١) وہ تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے

١٣۔١ یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور تم اپنی بات آہستہ کرو یا بلند آواز سے کرو وہ (خدا) تو سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور تم لوگ اپنی باتوں کو آہستہ کہو یا بلند آواز سے خدا تو سینوں کی رازوں کو بھی جانتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور تم لوگ اپنی بات چھپا کر کہو یا اُسے بلند آواز میں کہو، یقیناً وہ سینوں کی (چھپی) باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے،