Skip to main content

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَهْلَـكَنِىَ اللّٰهُ وَمَنْ مَّعِىَ اَوْ رَحِمَنَا ۙ فَمَنْ يُّجِيْرُ الْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ

قُلْ
کہہ دیجئے
أَرَءَيْتُمْ
کیا دیکھا تم نے
إِنْ
اگر
أَهْلَكَنِىَ
ہلاک کردے مجھ کو
ٱللَّهُ
اللہ
وَمَن
اور اسے جو
مَّعِىَ
میرے ساتھ ہے
أَوْ
یا
رَحِمَنَا
وہ رحم کرے ہم پر
فَمَن
تو کون
يُجِيرُ
پناہ دے گا
ٱلْكَٰفِرِينَ
کافروں کو
مِنْ
سے
عَذَابٍ
عذاب
أَلِيمٍ
دردناک

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو بھلادیکھو تو سہی اگر الله مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو منکروں کو دردناک عذاب سے بچا سکے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالٰی ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟ (۱)

۲۸۔۱مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے چاہے اللہ تعالٰی اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے ہلا کر دے یا انہیں مہلت دے دے یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ کیا تم نے غور کیا ہے اگر (تمہاری خواہش کے مطابق) خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا (ہماری خواہش کے مطابق) ہم پر رحم فرمائے (بہرحال) کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے تو ان کافروں کا دردناک عذاب سے بچانے والا کون ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ اگر اللہ مجھے موت سے ہم کنار کر دے (جیسے تم خواہش کرتے ہو) اور جو میرے ساتھ ہیں (ان کو بھی)، یا ہم پر رحم فرمائے (یعنی ہماری موت کو مؤخر کر دے) تو (ان دونوں صورتوں میں) کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

زمین سے پانی ابلنا بند ہوجائے تو ؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچایا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا ؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہوسکتا ؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں، نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورت تلاش کرو۔ پھر فرمایا ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے، جیسے ارشاد فرمایا آیت (فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ\012\03 ) 11 ۔ ھود ;123) اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر، اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسران میں کون پڑتا ہے ؟ رب کی رحمت کس پر ہے ؟ اور ہدایت پر کون ہے ؟ اللہ کا غضب کس پر ہے اور بری راہ پر کون ہے ؟ پھر فرماتا ہے اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے ہی نہیں گو تم کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا ابلنے اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے ؟ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں، وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھرجاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پوری کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہوجاتا ہے، فالحمد للہ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سورة ملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد للہ رب العالمین۔
(حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں اللہ رب العالمین کہنا چاہئے۔ مترجم) ۔