Skip to main content

وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَـبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ

وَإِذْ
اور جب
نَتَقْنَا
ہم نے اٹھایا
ٱلْجَبَلَ
پہاڑ کو
فَوْقَهُمْ
ان کے اوپر
كَأَنَّهُۥ
گویا کہ وہ
ظُلَّةٌ
ایک سائبان ہے
وَظَنُّوٓا۟
اور انہوں نے سمجھ لیا
أَنَّهُۥ
کہ بیشک وہ
وَاقِعٌۢ
گرنے والا ہے
بِهِمْ
ان پر
خُذُوا۟
پکڑو
مَآ
جو
ءَاتَيْنَٰكُم
دیا ہم نے تم کو
بِقُوَّةٍ
مضبوطی کے ساتھ
وَٱذْكُرُوا۟
اور یاد کرو
مَا
جو
فِيهِ
اس میں ہے
لَعَلَّكُمْ
تاکہ تم
تَتَّقُونَ
متقی بن جاؤ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،

احمد علی Ahmed Ali

اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ (١)۔

١٧١۔١ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے، تو انہوں نے پھر حسب عادت ان پر عمل کرنے سے انکار و اعراض کیا جس پر اللہ تعالٰی نے ان پر پہاڑ کو بلند کر دیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبے پر پیش آیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالٰی پہاڑ کو ہمارے اوپر بلند کرکے دکھائے، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے واللہ اَعلَم۔ یہاں مطلق پہاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے قبل سورہ بقرہ آیت ٦۳اور آیت ۹۳میں دو جگہ اس واقعہ کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس کا نام صراحت کے ساتھ کوہ طور بتلایا گیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر (اور جڑ سے اکھاڑ کر)۔ اس طرح ان کے اوپر بلند کیا۔ کہ گویا سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ( اور ان سے کہا کہ) جو کچھ (کتاب) ہم نے تمہیں عطا کی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ لو۔ اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اس وقت کو یاد دلِاؤ جب ہم نے پہاڑ کو ایک سائبان کی طرح ان کے سروں پر معلّق کردیا اور انہوں نے گمان کرلیا کہ یہ اب گرنے والا ہے تو ہم نے کہا کہ توریت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو شاید اس طرح متقی اور پرہیزگار بن جاؤ

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو (یوں) بلند کر دیا جیسا کہ وہ (ایک) سائبان ہو اور وہ (یہ) گمان کرنے لگے کہ ان پر گرنے والا ہے۔ (سو ہم نے ان سے فرمایا: ڈرو نہیں بلکہ) تم وہ (کتاب) مضبوطی سے (عملاً) تھامے رکھو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور ان (احکام) کو (خوب) یاد رکھو جو اس میں (مذکور) ہیں تاکہ تم (عذاب سے) بچ جاؤ،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اسی طرح کی آیت ( وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 63۝) 2 ۔ البقرة ;63) ہے یعنی ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کردیا تو بحکم الہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کردیا (نسائی میں) مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ صلوات نے فرمایا کہ لوگو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ اس میں کیا احکام ہیں ؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کرلیں گے ورنہ نہ مانیں گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بار بار کے اصرار پر بھی یہ لوگ یہی کہتے رہے آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہوگیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا بو لو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے ؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گرپڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چناچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کردیا ہے۔ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اسی وقت تمام پہاڑ درخت پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔