Skip to main content

وَنَزَعْنَا مَا فِىْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ هَدٰٮنَا لِهٰذَاۗ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَاۤ اَنْ هَدٰٮنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَاۤءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَـقِّ ۗ وَنُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَـنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

وَنَزَعْنَا
اور ہم نکال لیں گے
مَا
جو
فِى
میں
صُدُورِهِم
ان کے سینوں میں ہے
مِّنْ
سے
غِلٍّ
حسد میں سے
تَجْرِى
بہتی ہوں گی
مِن
سے
تَحْتِهِمُ
ان کے نیچے (سے)
ٱلْأَنْهَٰرُۖ
نہریں
وَقَالُوا۟
اور وہ کہیں گے
ٱلْحَمْدُ
سب تعریف
لِلَّهِ
اللہ کے لئے ہے
ٱلَّذِى
وہ ذات
هَدَىٰنَا
جس نے راہ نمائی کی ہماری
لِهَٰذَا
اس کے لئے
وَمَا
اور نہ
كُنَّا
تھے ہم
لِنَهْتَدِىَ
کہ ہم ہدایت پاتے
لَوْلَآ
اگر نہ
أَنْ
کہ
هَدَىٰنَا
ہدایت دیتا ہم کو
ٱللَّهُۖ
اللہ
لَقَدْ
البتہ تحقیق
جَآءَتْ
آئے
رُسُلُ
رسول
رَبِّنَا
ہمارے رب
بِٱلْحَقِّۖ
کے حق لے کر
وَنُودُوٓا۟
اور وہ پکارے جائیں گے
أَن
کہ
تِلْكُمُ
یہ (تمہاری)
ٱلْجَنَّةُ
جنت ہے
أُورِثْتُمُوهَا
تم وارث بنائے گئے ہو اس کے
بِمَا
بوجہ اس کے
كُنتُمْ
جوتھے تم
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ "تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے" اُس وقت ندا آئے گی کہ "یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ "تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے" اُس وقت ندا آئے گی کہ "یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی صلہ تمہارے اعمال کا،

احمد علی Ahmed Ali

اور جوکچھ ان کے دلو ں میں خفگی ہو گی ہم اسے دور کردیں گے ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گےکہ الله کاشکر ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا اور ہم راہ نہ پاتے اگر الله ہماری رہنمائی نہ فرماتا بے شک ہمارے رب کے رسول سچی بات لائے تھے جور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث ہو گئے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کر دیں گے (١) ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی۔ اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالٰی ہم کو نہ پہنچاتا (٢) ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے (٣)۔

٤٣۔١ اللہ تعالٰی اہل جنت پر انعام فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت کے جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث میں ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہونگی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دلایا جائے گا، حتّی کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی (صحیح بخاری)
٤٣۔٢ یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر بارگاہ الٰہی قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا، یہ اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے۔ اگر یہ رحمت اور فضل نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے، اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی نے فرمایا ' یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، جب تک اللہ تعالٰی کی رحمت نہ ہوگی۔ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک کہ رحمت الہی مجھے اپنے دامن میں نہیں سمیٹ لے گی۔
٤٣۔٣ یہ تشریح پچھلی بات اور حدیث مذکورہ کے منافی نہیں، اس لئے کہ نیک عمل کی توفیق بھی بجائے خود اللہ کا فضل و احسان ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کردیں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وه لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتا۔ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جو کچھ ان کے دلوں میں کدورت ہوگی ہم اسے باہر نکال دیں گے ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ شکر کرتے ہوئے کہیں گے ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اس منزلِ مقصود تک پہنچایا اور ہم کبھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر وہ ہمیں نہ پہنچاتا۔ یقینا ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے اور انہیں ندا دی جائے گی کہ یہ بہشت ہے جس کے تم اپنے ان اعمال کی بدولت وارث بنائے گئے ہو۔ جو تم انجام دیا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر کینہ کو الگ کردیا. ان کے قدموں میں نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ طُکر ہے پروردگار کا کہ اس نے ہمیں یہاں تک آنے کا راستہ بتادیا ورنہ اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم یہاں تک آنے کا راستہ بھی نہیں پاسکتے تھے -بیشک ہمارے رسول سب دینِ حق لے کر آئے تھے تو پھر انہیں آواز دی جائے گی کہ یہ وہ جّنتہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی بنا پر وارث بنایا گیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہم وہ (رنجش و) کینہ جو ان کے سینوں میں (دنیا کے اندر ایک دوسرے کے لئے) تھا نکال (کے دور کر) دیں گے ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا، اور ہم (اس مقام تک کبھی) راہ نہ پا سکتے تھے اگر اﷲ ہمیں ہدایت نہ فرماتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق (کا پیغام) لائے تھے، اور (اس دن) ندا دی جائے گی کہ تم لوگ اس جنت کے وارث بنا دیئے گئے ہو ان (نیک) اعمال کے باعث جو تم انجام دیتے تھے،