Skip to main content

ثُمَّ بَدَّلْـنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۤءَنَا الضَّرَّاۤءُ وَالسَّرَّاۤءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ

ثُمَّ
پھر
بَدَّلْنَا
بدل دیا ہم نے
مَكَانَ
جگہ
ٱلسَّيِّئَةِ
بدحالی کی
ٱلْحَسَنَةَ
خوشحالی کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
عَفَوا۟
وہ بڑھ گئے
وَّقَالُوا۟
وہ کہنے لگے
قَدْ
تحقیق
مَسَّ
پہنچی
ءَابَآءَنَا
ہمارے باپ دادا کو
ٱلضَّرَّآءُ
تکلیف
وَٱلسَّرَّآءُ
اور خوشی
فَأَخَذْنَٰهُم
تو پکڑ لیا ہم نے ان کو
بَغْتَةً
اچانک
وَهُمْ
اور وہ
لَا
نہ
يَشْعُرُونَ
شعور رکھتے تھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ "ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں" آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ "ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں" آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا

احمد علی Ahmed Ali

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ زیادہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ داداؤں کو بھی تکلیف اور خوشی کا وقت آیا تھا پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑا اور ان کو خبر نہ ہوئی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر ہم نے اس بد حالی کی جگہ خوش حالی میں بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباؤ اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتًا پکڑ لیا (١) اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔

٩٥۔١ یعنی فقر و بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جب کے ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کو تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت عافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر کریں۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے تو پھر ہم نے اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ اسی لیے حدیث مومنوں کامعاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہ اَرام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباواجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب بڑھے (اور پھلے پھولے) اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی کبھی تکلیف اور کبھی راحت یونہی پہنچتی رہی ہے۔ تو ایک دم ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو سکا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر ہم نے برائی کی جگہ اچھائی دے دی یہاں تک کہ وہ لوگ بڑھ نکلے اور کہنے لگے کہ یہ تکلیف و راحت تو ہمارے بزرگوں تک بھی آچکی ہے تو ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہوسکا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر ہم نے (ان کی) بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی، یہاں تک کہ وہ (ہر لحاظ سے) بہت بڑھ گئے۔ اور (نا شکری سے) کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی (اسی طرح) رنج اور راحت پہنچتی رہی ہے سو ہم نے انہیں اس کفرانِ نعمت پر اچانک پکڑ لیا اور انہیں (اس کی) خبر بھی نہ تھی،