Skip to main content

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا ۙ

إِنَّهُمْ
بیشک وہ
كَانُوا۟
وہ تھے
لَا
نہ
يَرْجُونَ
امید رکھتے تھے
حِسَابًا
حساب کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا

احمد علی Ahmed Ali

بے شک وہ حساب کی امید نہ رکھتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ا نہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ لوگ (روزِ) حساب (قیامت) کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ لوگ حساب و کتاب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اس لئے کہ وہ قطعًا حسابِ (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے،