Skip to main content

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْۗ وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَـتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ

وَلَوْ
اور اگر
عَلِمَ
جان لیا ہوتا
ٱللَّهُ
اللہ نے
فِيهِمْ
ان میں
خَيْرًا
بھلائی کو
لَّأَسْمَعَهُمْۖ
البتہ ضرور سنوا دیتا ان کو
وَلَوْ
اور اگر
أَسْمَعَهُمْ
وہ سنوا دیتا ان کو
لَتَوَلَّوا۟
یقینا وہ منہ پھیر جائے
وَّهُم
اور وہ
مُّعْرِضُونَ
ہیں ہی منہ پھیرنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر الله ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگر انہیں اب سنا دے تو منہ پھیر کر بھاگیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اگر اللہ تعالٰی ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا (١) اور اگر ان کو اب سنادے تو ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے (٢)

٢٣۔١ یعنی ان کے سماع کو نافع بناکر ان کو فہم صحیح عطا فرمادیتا، جس سے وہ حق کو قبول کر لیتے اور اسے اپنالیتے۔ لیکن چونکہ ان کے اندر خیر یعنی حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں۔
٢٣۔٢ پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے۔ اس دوسرے سماع سے مراد مطلق سماع ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی انہیں حق بات سنوا بھی دے تو چونکہ ان کے اندر حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ بدستور اس سے اعراض کریں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اگر اللہ جانتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو ضرور انہیں سنوا دیتا اور اگر (اس بھلائی کے بغیر) انہیں سنواتا۔ تو وہ بے رخی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دیتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اگر خدا ان میں کسی خیر کو دیکھتا تو انہیں ضرور سناتا اور اگر سنا بھی دیتا تو یہ منہ پھرا لیتے اور اعراض سے کام لیتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھی خیر (کی طرف رغبت) جانتا تو انہیں (ضرور) سنا دیتا، اور (ان کی حالت یہ ہے کہ) اگر وہ انہیں (حق) سنا دے تو وہ (پھر بھی) روگردانی کر لیں اور وہ (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہیں،