Skip to main content

لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَ يَجْعَلَ الْخَبِيْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِىْ جَهَـنَّمَۗ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ

That may distinguish
لِيَمِيزَ
تاکہ ممتاز کرے۔ الگ کر دے
Allah
ٱللَّهُ
اللہ
the wicked
ٱلْخَبِيثَ
ناپاک کو
from
مِنَ
سے
the good
ٱلطَّيِّبِ
پاک
and place
وَيَجْعَلَ
اور کردے
the wicked
ٱلْخَبِيثَ
ناپاک کو
some of them
بَعْضَهُۥ
اس کے بعض کو
on
عَلَىٰ
اوپر
others
بَعْضٍ
بعض کے
and heap them
فَيَرْكُمَهُۥ
پھر جمع کردے اس کو
all together
جَمِيعًا
سارے کا سارا
and put them
فَيَجْعَلَهُۥ
پھر ڈال دے اس کو
in
فِى
میں
Hell
جَهَنَّمَۚ
جہنم
Those
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
they
هُمُ
وہ
(are) the losers
ٱلْخَٰسِرُونَ
جو خسارہ پانے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں

English Sahih:

[It is] so that Allah may distinguish the wicked from the good and place the wicked some of them upon others and heap them all together and put them into Hell. It is those who are the losers.

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

تاکہ الله ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور ایک ناپاک کو دوسرے پر دھر کر ڈھیر بنائے پھر اسے دوزخ میں ڈال دے وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تاکہ اللہ تعالٰی ناپاک کو پاک سے الگ کردے (١) اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملادے، پس ان سب کو اکٹھا ڈھیر کردے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں۔

٣٧۔١ یہ علیحدگی یا تو آخرت میں ہوگی کہ اہل سعادت کو اہل بد بخت سے الگ کر دیا جائے گا، جیسا کہ فرمایا۔ (وَامْتَا زُوا الْیَوْ مَ اَتُہاَ الْمُجْرِمُوْنَ) (سورت یس۔٥٩) ' اے گناہ گارو! آج الگ ہو جاؤ ' یعنی نیک لوگوں سے اور مجرموں سے یعنی کافروں، مشرکوں اور نافرمانوں کو اکٹھا کرکے سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یا پھر اس کا تعلق دنیا سے ہے۔ یعنی کافر اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو مال خرچ کر رہے ہیں، ہم ان کو ایسا کرنے کا موقع دیں گے تاکہ اس طریقے سے اللہ تعالٰی خبیث کو طیب سے، کافر کو مومن سے اور منافق کو مخلص سے الگ کردے۔ اس اعتبار سے آیت کے معنی ہونگے، کفار کے ذریعے سے ہم تمہاری آزمائش کریں گے، وہ تم سے لڑیں گے اور ہم انہیں ان کے مال بھی لڑائی پر خرچ کرنے کی قدرت دیں گے تاکہ خبیث، طیب سے ممتاز ہو جائے۔ پھر وہ خبیث کو ایک دوسرے سے ملا دے گا یعنی سب کو جمع کردے گا (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے۔ ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک لوگوں سے جدا کر دے اور جو ناپاک ہیں ان کو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ رکھ کر ڈھیر بنائے اور پھر اس سارے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ (نقصان) اٹھانے والے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تاکہ خدا خبیث کو پاکیزہ سے الگ کردے اور پھر خبیث کو ایک پر ایک رکھ کر ڈھیر بنادے اور سب کو اکٹھا جہّنم میں جھونک دے کہ یہی لوگ خسارہ اور گھاٹے والے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تاکہ اللہ (تعالیٰ) ناپاک کو پاکیزہ سے جدا فرما دے اور ناپاک (یعنی نجاست بھرے کرداروں) کو ایک دوسرے کے اوپر تلے رکھ دے پھر سب کو اکٹھا ڈھیر بنا دے گا پھر اس (ڈھیر) کو دوزخ میں ڈال دے گا، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں،