Skip to main content

وَ اِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِىْۤ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّيُقَلِّلُكُمْ فِىْۤ اَعْيُنِهِمْ لِيَـقْضِىَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۗ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ

وَإِذْ
اور جب
يُرِيكُمُوهُمْ
وہ دکھا رہا تھا تمہیں ان کو
إِذِ
اس وقت جب
ٱلْتَقَيْتُمْ
تم ملے (ان کو)
فِىٓ
میں
أَعْيُنِكُمْ
تمہاری نگاہوں میں
قَلِيلًا
تھوڑا کم
وَيُقَلِّلُكُمْ
اور تم کو دکھا رہا تھا
فِىٓ
میں
أَعْيُنِهِمْ
ان کی نگاہوں میں
لِيَقْضِىَ
تاکہ پورا کردے
ٱللَّهُ
اللہ
أَمْرًا
اس کام کو
كَانَ
جو ہو
مَفْعُولًاۗ
کر رہنے والا تھا
وَإِلَى
اور طرف
ٱللَّهِ
اور اللہ کی
تُرْجَعُ
لوٹائے جاتے ہیں
ٱلْأُمُورُ
سب معاملات

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پو را کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور جب تمہیں وہ فوج مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑی کر کے دکھائی اور تمہیں ان کی آنکھوں میں تھوڑا کر کے دکھایا تاکہ الله ایک کام پورا کر دے جو مقرر ہو چکا تھا اور ہر کام الله تک ہی پہنچتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھایا (١) تاکہ اللہ تعالٰی اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا (٢) اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں۔

٤٤۔١ تاکہ وہ کافر بھی تم سے خوف کھا کر پیچھے نہ ہٹیں، پہلا واقعہ خواب کا تھا اور یہ دکھلانا عین قتال کے وقت تھا، جیسا کہ الفاظ قرآنی سے واضح ہے۔ تاہم یہ معاملہ ابتدا میں تھا، لیکن جب باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی تو پھر کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے، جیسا کہ سورہ، آل عمران کی آیت ١٣ سے معلوم ہوتا ہے۔ بعد میں زیادہ دکھانے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ کثرت دیکھ کر ان کے اندر مسلمانوں کا خوف اور دہشت بیٹھ جائے، جس سے ان کے اندر بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہو، اس کے برعکس پہلے کم دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ لڑنے سے گریز نہ کریں۔
٤٤۔٢ اس سب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے جو فیصلہ کیا ہوا تھا، وہ پورا ہو جائے۔ اس لئے اس نے اس کے اسباب پیدا فرما دے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جبکہ اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ وقت یاد کرو۔ کہ جب اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں میں کم کرکے دکھایا۔ اور تمہاری تعداد کو ان کی نظروں میں کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ اس کو پورا کرے جو ہو کر رہنا تھا۔ اور تمام معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب خدا مقابلہ کے وقت تمہاری نظروں میں دشمنوں کو کم دکھلا رہا تھا اور ان کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھلا رہا تھا تاکہ اس امر کا فیصلہ کردے جو ہونے والا تھا اور سارے امور کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (وہ منظر بھی انہیں یاد دلائیے) جب اس نے ان کافروں (کی فوج) کو باہم مقابلہ کے وقت (بھی محض) تمہاری آنکھوں میں تمہیں تھوڑا کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی آنکھوں میں تھوڑا دکھلایا (تاکہ دونوں لشکر لڑائی میں مستعد رہیں) یہ اس لئے کہ اللہ اس (بھر پور جنگ کے نتیجے میں کفار کی شکستِ فاش کے) امر کو پورا کر دے جو (عند اللہ) مقرر ہو چکا تھا، اور (بالآخر) اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں،