Skip to main content

فَاِذَا جَاۤءَتِ الصَّاۤخَّةُۖ

فَإِذَا
تو جب
جَآءَتِ
آجائے گی
ٱلصَّآخَّةُ
کان پھاڑنے والی/ بہرا کردینے والی سخت آواز

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ

احمد علی Ahmed Ali

پھر جس وقت کانوں کا بہرا کرنے والا شور برپا ہوگا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس جب کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آ جائے گی (١)

٣٣۔١ یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو جب (قیامت کا) غل مچے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آجائے گی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر جب کان کے پردے پھاڑنے والی قیامت آجائے گی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر جب کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ (رض) عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27؀) 71 ۔ نوح ;27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !