Skip to main content

وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
رَءَاهُ
اس نے دیکھا اس کو
بِٱلْأُفُقِ
آسمان کے کنارے پر
ٱلْمُبِينِ
کھلے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک انہوں نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا

احمد علی Ahmed Ali

اور اس نے اس کو کُھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے (١)

٢٣۔١ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورہ نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اس (پیغمبر(ص)) نے اس (پیغامبر) کو روشن افق (کنارے) پر دیکھا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اس نے فرشتہ کو بلند اُفق پر دیکھا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک انہوں نے اس (مالکِ عرش کے حُسنِ مطلق) کو (لامکاں کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے٭، ٭ یہ ترجمہ حضرت عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عکرمہ، ابو سلمہ، ضحّاک، ابو العالیہ، حسن، کعب الاحبار، شریک بن عبد اللہ اور شعبی و غیرھم رضی اللہ عنھم کے اَقوال پر کیا گیا ہے جنہیں بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر، بغوی اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے اور کثیر ائمہ تفسیر نے بھی اسے اختیار کیا ہے۔