Skip to main content

وَالسَّمَاۤءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ

وَٱلسَّمَآءِ
قسم ہے آسمان کی
ذَاتِ
والا ہے
ٱلْبُرُوجِ
جو برجوں (والا ہے)

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

قسم آسمان کی، جس میں برج ہیں

احمد علی Ahmed Ali

آسمان کی قسم ہے جس میں برج ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

برجوں والے آسمان کی قسم (١)

١۔١بروج، برج کی جمع ہے، برج کے اصل معنی ظہور کے ہیں، یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حثییت حاصل ہے ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں برج کہا جاتا ہے تفصیل کے لیے دیکھیے الفرقان،٦۱ کا حاشیہ بعض نے بروج سے مراد ستارے لیے ہے۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم، بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں (فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

برجوں والے آسمان کی قسم!

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

قَسم ہے بُرجوں (قلعوں) والے آسمان کی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

برجوں والے آسمان کی قسم

طاہر القادری Tahir ul Qadri

برجوں (یعنی کہکشاؤں) والے آسمان کی قَسم،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سب سے افضل اور اعلیٰ دن اور ذکر ایک موحد کا
بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں جیسے کہ آیت ( جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61؀) 25 ۔ الفرقان ;61) کی تفسیر میں گزر چکا، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بروج وہ ہیں جن میں حفاطت کرنے والے رہتے ہیں۔ یحییٰ فرماتے ہیں یہ آسمانی محل ہے، منہال بن عمرو کہتے ہیں مراد اچھی بناوٹ والے آسمان ہیں، ابن خیثمہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں جو بارہ ہیں کہ سورج ان میں سے ہر ایک میں ایک مہینہ چلتا رہتا ہے اور چاند ان میں سے ہر ایک میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا ہے تو یہ اٹھائیس دن ہوئے اور دو راتوں تک وہ پوشیدہ رہتا ہے، نہیں نکلتا، ابن ابی حاتم کی حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں یوم موعود سے مراد قیامت کا دن ہے اور شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، سورج جن جن دنوں میں نکلتا اور ڈوبتا ہے ان میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں بندہ جو بھلائی طلب کرے مل جاتی ہے اور جس برائی سے پناہ چاہے ٹل جاتی ہے اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے، ابن خزیمہ میں بھی یہ حدیث ہے موسیٰ بن عبید زیدی اس کے راوی ہیں اور یہ ضعیف ہیں یہ روایت حضرت ابوہریرہ (رض) سے خود ان کے قول سے مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، مسند میں حضرت ابوہریرہ سے بھی یہی مروی ہے اور حضرات سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اور ان میں اختلاف نہیں فالحمد اللہ، اور روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ جمعے کے دن کو جسے یہاں شاہد کہا گیا ہے یہ خاص ہمارے لیے بطور خزانے کے چھپا رکھا تھا اور حدیث میں ہے کہ تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد خود ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی، آیت (ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ\010\03 ) 11 ۔ ھود ;103) یعنی اس دن کے لیے لوگ جمع کئے گئے ہیں اور یہ دن مشہود یعنی حاضر کیا گیا ہے ایک شخص نے حضرت امام حسن بن علی (رض) سے سوال کیا کہ شاہد اور مشہود کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم نے کسی اور سے بھی پوچھا ؟ اس نے کہا ہاں ابن عمر اور ابن زبیر سے، فرمایا انہوں نے کیا جواب دیا ؟ کہا قربانی کا دن اور جمعہ کا دن، کہا نہیں بلکہ مراد شاہد سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے آیت ( فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41؀ڲ) 4 ۔ النسآء ;41) یعنی کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے قرآن کہتا ہے، وذالک یوم مشھود یہ بھی مروی ہے کہ شاہد سے مراد ابن آدم اور مشہود سے مراد قیامت کا دن اور مشہود سے مراد جمعہ بھی مروی ہے اور شاہد سے مراد خود اللہ بھی ہے اور عرفہ کا دن بھی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جمعہ کا دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو وہ مشہود دن ہے جس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں شاہد اللہ ہے قرآن کہتا ہے آیت (وَكَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًا 28؀ۭ ) 48 ۔ الفتح ;28) اور مشہود ہم ہیں قیامت کے دن ہم سب اللہ کے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے اکثر حضرات کا یہ فرمان ہے کہ شاہد جمعہ کا دن ہے اور مشہود عرفے کا دن ہے۔ ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ خندقوں والوں پر لعنت ہو یہ کفار کی ایک قوم تھی جنھوں نے ایمان داروں کو مغلوب کر کے انہیں دین سے ہٹانا چاہا اور ان کے انکار پر زمین میں گڑھے کھود کر ان میں لکڑیاں بھر کر آگ بھڑکائی پھر ان سے کہا کہ اب بھی دین سے پلٹ جاؤ لیکن ان بخدا لوگوں نے انکار کیا اور ان ناخدا ترس کفار نے ان مسلمانوں کو اس بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، اسی کو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہوئے یہ ایندھن بھری بھڑکتی ہوئی آگ کی خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ان مومنوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے اور اس عداوت و عذاب کا سبب ان مومنوں کا کوئی قصور نہ تھا، انہیں تو صرف ان کی ایمان داری پر غضب و غصہ تھا دراصل غلبہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کی پناہ میں آجانے والا کبھی برباد نہیں ہوتا وہ اپنے تمام اقوال افعال شریعت اور تقدیر میں قابل تعریف ہے وہ اگر اپنے خاص بندوں کو کسی وقت کافروں کے ہاتھ سے تکلیف بھی پہنچا دے اور اس کا راز کسی کو معلوم نہ ہو سکے تو نہ ہو لیکن دراصل وہ مصلحت و حکمت کی بنا پر ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ زمینوں، آسمانوں اور کل مخلوقات کا مالک ہے، اور وہ ہر چیز پر حاضر ناظر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اہل فارس کا ہے ان کے بادشاہ نے یہ قانون جاری کرنا چاہا کہ محرمات ابدیہ یعنی ماں بہن بیٹی وغیرہ سب حلال ہیں اس وقت کے علماء کرام نے اس کا انکار کیا اور روکا، اس پر اس نے خندقیں کھدوا کر اس میں آگ جلا کر ان حضرات کو اس میں ڈال دیا، چناچہ یہ اہل فارس آج تک ان عورتوں کو حلال ہی جانتے ہیں یہ بھی مروی ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے، مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہوئی مسلمان غالب آگئے پھر دوسری لڑائی میں کافر غالب آگئے تو انہوں نے گڑھے کھدوا کر ایمان والوں کو جلا دیا، یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ اہل حبش کا ہے یہ بھی مروی ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے انہوں نے دانیال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اوراقوال بھی ہیں مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک جادوگر تھا، جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری موت کا وقت آ رہا ہے مجھے کوئی بچہ سونپ دو تو میں اسے جادو سکھا دوں چناچہ ایک ذہین لڑکے کو وہ تعلیم دینے لگا لڑکا اس کے پاس جاتا تو راستے میں ایک راہب کا گھر پڑتا جہاں وہ عبادت میں اور کبھی وعظ میں مشغول ہوتا یہ بھی کھڑا ہوجاتا اور اسکے طریق عبادت کو دیکھتا اور وعظ سنتا آتے جاتے یہاں رک جایا کرتا تھا، جادوگر بھی مارتا اور ماں باپ بھی کیونکہ وہاں بھی دیر میں پہنچتا اور یہاں بھی دیر میں آتا، ایک دن اس بچے نے راہب کے سامنے اپنی یہ شکایت بیان کی راہب نے کہا کہ جب جادوگر تجھ سے پوچھے کہ کیوں دیر لگ گئی تو کہہ دینا گھر والوں نے روک لیا تھا اور گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ آج جادوگر نے روک لیا تھا، یونہی ایک زمانہ گزر گیا کہ ایک طرف تو جادو سیکھتا تھا اور دوسری جانب کلام اللہ اور دین اللہ سیکھتا تھا ایک دن وہ دیکھتا ہے کہ راستے میں ایک زبردست ہیبت ناک جانور پڑا ہوا ہے، اس نے لوگوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے ادھر والے ادھر اور ادھر والے ادھر نہیں آسکتے، اور سب لوگ ادھر ادھر حیران و پریشان کھڑے ہیں اس نے اپنے دل میں سوچا کہ آج موقعہ ہے کہ میں امتحان کرلوں کہ راہب کا دین اللہ کو پسند ہے یا جادوگر کا ؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا کہ اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کے امر سے زیادہ محبوب ہے تو تو اس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے پتھر کے لگتے ہی وہ جانور مرگیا اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہوگیا پھر جا کر راہب کو خبر دی اس نے کہا پیارے بچے تو مجھ سے افضل ہے اب اللہ کی طرف سے تیری آزمائش ہوگی اگر ایسا ہوا تو تو کسی کو میری خبر نہ کرنا، اب اس بچے کے پاس حاجت مند لوگوں کو تانتا لگ گیا اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے کوڑھی جذامی اور ہر قسم کے بیمار اچھے ہونے لگے، بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں بھی یہ آواز پڑی وہ بڑے تحائف لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر تو مجھے شفاء دے دے تو یہ سب تجھے دے دوں گا اس نے کہا شفا میرے ہاتھ نہیں میں کسی کو شفا نہیں دے سکتا شفا دینے والا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرے تو میں اس سے دعا کروں اس نے اقرار کیا بچے نے اس کے لیے دعا کی اللہ نے اسے شفاء دے دی اور بادشاہ کے دربار میں آیا اور جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا کرنے لگا، اور آنکھیں بالکل روشن تھیں بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ تجھے آنکھیں کس نے دیں ؟ اس نے کہا میرے رب نے بادشاہ نے کہا ہاں یعنی میں نے، وزیر نے کہا نہیں نہیں، میرا اور تیرا رب اللہ ہے، بادشاہ نے کہا اچھا تو کیا میرے سوا تیرا کوئی اور بھی رب ہے وزیر نے کہا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ عز و جل ہے۔ اب اس نے اسے مار پیٹ شروع کردیا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچانے لگا اور پوچھنے لگا کہ تجھے یہ تعلیم کس نے دی ؟ آخر اس نے بتادیا کہ اس بچے کے ہاتھ پر میں نے اسلام قبول کیا اور اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں خوب کامل ہوگئے ہو کہ اندھوں کو دیکھتا اور بیماروں کو تندرست کرنے لگ گئے اس نے کہا غلط ہے نہ میں کسی کو شفا دے سکتا ہوں نہ جادو، شفا تو اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے کہنے لگا ہاں یعنی میرے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اللہ تو میں ہی ہوں اس نے کہا ہرگز نہیں، کہا پھر کیا تو میرے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا ہاں ! میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے اس نے اب اسے بھی طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں یہاں تک کہ راہب کا پتہ لگا لیا راہب کو بلا کر اس نے کہا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے اور اس دین سے پلٹ جا، اس نے انکار کیا تو اس بادشاہ نے آرے سے اس کے چہرے کو چیر دیا اور ٹھیک دو ٹکڑے کر کے پھینک دیا پھر اس نوجوان سے کہا کہ تو بھی دین سے پھرجا مگر اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی اسے فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائیں اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ کر پھر اسے اس کے دین چھوڑ دینے کو کہیں اگر مان لے تو اچھا ورنہ وہیں سے لڑھکا دیں چناچہ یہ لوگ اسے لے گئے جب وہاں سے دھکا دینا چاہا تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی (اللھم اکفنیھم بما شئت) اللہ جس طرح چاہ مجھے ان سے نجات دے، اس دعا کے ساتھ پہاڑ ہلا اور وہ سب سپاہی لڑھک گئے صرف وہ بچہ بچا رہا، وہاں سے وہ اترا اور ہنسی خوشی پھر اس ظالم بادشاہ کے پاس آگیا، بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا میرے سپاہی کہاں ہیں ؟ فرمایا میرے اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا اس نے کچھ اور سپاہی بلوائے اور ان سے بھی یہی کہا کہ اسے کشتی میں بٹھا کرلے جاؤ، اور بیچوں بیچ سمندر میں ڈبو کر چلے آؤ یہ اسے لے کر چلے اور بیچ میں پہنچ کر جب سمندر میں پھینکنا چاہا تو اس نے پھر وہی دعا کی کہ بار الہی جس طرح چاہ مجھے ان سے بچا، موج اٹھی اور وہ سپاہی سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے صرف وہ بچہ ہی باقی رہ گیا یہ پھر بادشاہ کے پاس آیا، اور کہا میرے رب نے مجھے ان سے بھی بچا لیا اے بادشاہ تو چاہے تمام تدبیریں کر ڈال لیکن مجھے ہلاک نہیں کرسکتا ہاں جس طرح میں کہوں اس طرح اگر کرے تو البتہ میری جان نکل جائے گی۔ اس نے کہا کیا کروں فرمایا تو لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر پھر کھجور کے تنے پر سولی چڑھا اور میرے ترکش میں سے ایک تنکا نکال میری کمان پر چڑھا اور بسم اللہ رب ھٰذا الغلام یعنی اسی اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے کہہ کر وہ تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے اور اس سے میں مروں گا چناچہ بادشاہ نے یہی کیا تیر بچے کی کنپٹی میں لگا اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا اور شہید ہوگیا۔ اس کے اس طرح شہید ہوتے ہی لوگوں کو اس کے دین کی سچائی کا یقین آگیا چاروں طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ ہم سب اس بچے کے رب پر ایمان لا چکے یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے مصاحب گھبرائے اور بادشاہ سے کہنے لگے اس لڑکے کی ترکیب ہم سمجھے ہی نہیں دیکھئے اس کا یہ اثر پڑا کہ یہ تمام لوگ اس کے مذہب پر ہوگئے ہم نے تو اسی لیے قتل کیا تھا کہ کہیں یہ مذہب پھیل نہ جائے لیکن وہ ڈر تو سامنے ہی آگیا اور سب مسلمان ہوگئے بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کہ تمام محلوں اور راستوں میں خندقیں کھدواؤ ان میں لکڑیاں بھرو اور اس میں آگ لگا دو جو اس دین سے پھرجائے اسے چھوڑ دو اور جو نہ مانے اسے اس آگ میں ڈال دو ان مسلمانوں نے صبر و ضبط کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کرلیا اور اس میں کود کود گرنے لگے، البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا چھوٹا بچہ تھا وہ ذرا ہچکچائی تو اس بچہ کو اللہ نے بولنے کی طاقت دی اس نے کہا اماں کیا کر رہی ہو تم تو حق پر ہو صبر کرو اور اس میں کود پڑو۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے اور صحیح مسلم کے آخر میں بھی ہے اور نسائی میں بھی قدرت اختصار کے ساتھ ہے، ترمذی شریف کی حدیث میں ہے حضرت صہیب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کے بعد عموماً زیر لب کچھ فرمایا کرتے تھے تو آپ سے پوچھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فرماتے ہیں فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی تھے جو اپنی امت پر فخر کرتے تھے کہنے لگے کہ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ انہیں اختیار ہے خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں خود ان سے انتقام لوں خواہ اس بات کو پسند کریں کہ میں ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کروں، انہوں نے انتقام کو پسند کیا چناچہ ایک ہی دن میں ان میں سے ستر ہزار مرگئے، اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ حدیث بھی بیان کی جو اوپر گزری پھر آخیر میں آپ نے قتل سے مجید تک کی آیتوں کی تلاوت فرمائی، یہ نوجوان شہید دفن کر دئیے گئے تھے اور حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خلافت کے زمانہ میں ان کی قبر سے انہیں نکالا گیا تھا ان کی انگلی اسی طرح ان کی کنپٹی پر رکھی ہوئی تھی جس طرح بوقت شہادت تھی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں لیکن اس روایت میں یہ صراحت نہیں کہ یہ واقعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا تو ممکن ہے کہ حضرت صہیب رومی (رض) نے ہی اس واقعہ کو بیان فرمایا ہو ان کے پاس نصرانیوں کی ایسی حکایتیں بہت ساری تھیں واللہ اعلم، امام محمد بن اسحاق (رض) نے بھی اس قصہ کو دوسرے الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نجرانی لوگ بت پرست مشرک تھے، اور نجران کے پاس ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ جس میں ایک جادوگر تھا، نجبرانیوں کو جادو سکھایا کرتا تھا۔ فیمون نامی ایک بزرگ عالم یہاں آئے اور نجران اور اسکے گاؤں کے درمیان انہوں نے اپنا پڑاؤ ڈالا۔ شہر کے لڑکے جو جادوگر سے جادو سیکھنے جایا کرتے تھے ان میں تاجر کا ایک لڑکا عبداللہ نامی بھی تھا اسے آتے جاتے راہب کی عبادت اور اس کی نماز وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا اس پر غور و خوض کرتا اور دل میں اس کے مذہب کی سچائی جگہ کرتی جاتی پھر تو اس نے یہاں آنا جانا شروع کردیا۔ اور مذہبی تعلیم بھی اس راہب سے لینے لگا۔ کچھ دنوں بعد اس مذہب میں داخل ہوگیا اور اسلام قبول کرلیا توحید کا پابند ہوگیا اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگا اور علم دین اچھی طرح حاصل کرلیا وہ راہب اسم اعظم بھی جانتا تھا اس نے ہرچند خواہش کی کہ اسے بتادے لیکن اس نے نہ بتایا اور کہہ دیا کہ ابھی تم میں اس کی صلاحیت نہیں آئی تم ابھی کمزور دل والے ہو اس کی طاقت میں تم میں نہیں پاتا۔ عبداللہ کے باپ تامر کو اپنے بیٹے کے مسلمان ہوجانے کی مطلق خبر نہ تھی وہ اپنے نزدیک یہی سمجھ رہا تھا کہ میرا بیٹا جادو سیکھ رہا ہے، اور وہیں جاتا آتا رہتا ہے عبداللہ نے جب دیکھا کہ راہب مجھے اسم اعظم نہیں سکھاتے اور انہیں میری کمزوری کا خوف ہے تو ایک دن انہوں نے تیر لئے اور جتنی نام اللہ تبارک و تعالیٰ کے انہیں یاد تھے ہر تیر پر ایک نام لکھا پھر آگ جلا کر بیٹھ گیا اور ایک ایک تیر کو اس میں ڈالنا شروع کیا جب وہ تیر آیا جس پر اسم اعظم تھا تو وہ آگ میں پڑتے ہی اچھل کر باہر نکل آیا اور اس پر آگ نے بالکل اثر نہ کیا سمجھ لیا کہ یہی اسم اعظم ہے۔ اپنے استاد کے پاس آئے اور کہا حضرت اسم اعظم کا علم مجھے ہوگیا استاد نے پوچھا بتاؤ کیا ہے ؟ اس نے بتایا راہب نے پوچھا کیسے معلوم ہوا تو اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا فرمایا بھئی تم نے خوب معلوم کرلیا واقعی یہی اسم اعظم ہے۔ اسے اپنے ہی تک رکھو لیکن مجھے تو ڈر ہے کہ تم کھل جاؤ گے ان کی یہ حالت ہوئی کہ یہ نجران میں آئے یہاں جس بیمار پر جس دکھی پر جس ستم رسیدہ پر نظر پڑی اس سے کہا کہ اگر تم موحد بن جاؤ اور دین اسلام قبول کرلو تو میں رب سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفا اور نجات دے دے گا، اور دکھ بلا کو ٹال دے گا، وہ اسے قبول کرلیتا یہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرتے اللہ اسے بھلا چنگا کردیتا اب تو نجرانیوں کے ٹھٹھ لگنے لگے اور جماعت کی جماعت روزانہ مشرف بہ اسلام اور فائزالمرام ہونے لگی آخر بادشاہ کو اس کا علم ہوا اس نے اسے بلا کر دھمکایا کہ تو نے میری رعیت کو بگاڑ دیا اور میرے اور میرے باپ دادا کے مذہب پر حملہ کیا میں اس کی سزا میں تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تجھے چورا ہے پر رکھوا دوں گا۔ عبداللہ بن تامر نے جواب دیا کہ تو ایسا نہیں کرسکتا اب بادشاہ نے اسے پہاڑ پر سے گرا دیا لیکن وہ نیچے آ کر صحیح سلامت رہا جسم پر کہیں چوٹ بھی نہ آئی نجران کے ان طوفان خیز دریاؤں میں گرداب کی جگہ انہیں لا ڈالا جہاں سے کوئی بچ نہیں سکتا لیکن یہ وہاں سے بھی صحت و سلامتی کے ساتھ واپس آگئے غرض ہر طرح عاجز آگیا تو پھر حضرت عبداللہ بن تامر نے فرمایا سن اے بادشاہ تو میرے قتل پر کبھی قادر نہ ہوگا یہاں تک کہ تو اس دین کو مان لے جسے میں مانتا ہوں اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے اگر یہ کرلے گا تو پھر تو مجھے قتل کرسکتا ہے، بادشاہ نے ایسا ہی کیا اس نے حضرت عبداللہ کا بتلایا ہوا کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو کر جو لکڑی اس کے ہاتھ میں تھی اس سے حضرت عبداللہ کو مارا جس سے کچھ یونہی سے خراش آئی اور اسی سے وہ شہید ہوگئے اللہ ان سے خوش ہو اور اپنی خاص رحمتیں انہیں عنایت فرمائے ان کے ساتھ ہی بادشاہ بھی مرگیا اس واقعہ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات پیوست کردی کہ دین ان کا ہی سچا ہے چناچہ نجران کے تمام لوگ مسلمان ہوگئے اور حضرت عیسیٰ کے سچے دین پر قائم ہوگئے اور وہی مذہب اس وقت برحق بھی تھا۔ ابھی تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی بن کر دنیا میں آئے نہ تھے لیکن پھر ایک زمانہ کے بعد ان میں بدعتیں پیدا ہونے لگیں اور پھیل گئیں اور دین حق کا نور چھن گیا غرض نجران میں عیسائیت کے پھیلنے کا اصلی سبب یہ تھا۔ اب ایک زمانہ کے بعد ذونواس یہودی نے اپنے لشکر سمیت ان نصرانیوں پر چڑھائی کی اور غالب آگیا پھر ان سے کہا یا تو یہودیت قبول کرلو یا موت، انہوں نے قتل ہونا منظور کیا اس نے خندقیں کھدوا کر آگ سے پر کر کے ان کو جلا دیا بعض کو قتل بھی کیا بعض کے ہاتھ پاؤں ناک کان کاٹ دئیے وغیرہ تقریباً بیس ہزار مسلمانوں کو سرکش نے قتل کیا اور اسکا ذکر آیت (قتل اصحاب الاخدود) میں ہے ذونواس کا نام زرعہ تھا اس کی بادشاہت کے زمانہ میں اسے یوسف کہا جاتا تھا اس کے باپ کا نام بیان اسعد ابی کریب تھا جو تبع مشہور ہے جس نے مدینہ میں غزوہ کیا اور کعبہ کو پردہ چڑھایا اس کے ساتھ دو یہودی عالم تھے، یمن والے ان کے ہاتھ پر یہودی مذہب میں داخل ہوئے ذونواس نے ایک ہی دن میں صرف صبح کے وقت ان کھائیوں میں بیس ہزار ایمان والوں کو قتل کیا ان میں سے صرف ایک ہی شخص بچ نکلا جس کا نام دوس ذی ثعلبان تھا یہ گھوڑے پر بھاگ کھڑا ہوا گو اس کے پیچھے بھی گھوڑے سوار دوڑائے لیکن یہ ہاتھ نہ لگا، یہ سیدھا شاہ روم قیصر کے پاس گیا اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو لکھا چناچہ دوس وہاں سے حبشہ کے نصرانیوں کا لشکر لے کر یمن آیا اس کے سردار اریاط اور ابرہہ تھے یہودی مغلوب ہوئے یمن یہودیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ذونواس بھاگ نکلا لیکن وہ پانی میں غرق ہوگیا پھر ستر سال تک یہاں حبشہ کے نصرانیوں کا قبضہ رہا بالاخر سیف بن ذی یزن حمیری نے فارس کے بادشاہ سے امدادی فوجیں اپنے ساتھ لیں اور سات سو قیدی لوگوں سے اس پر چڑھائی کر کے فتح حاصل کی اور پھر سلطنت حمیری قائم کی اس کا کچھ بیان سورة فیل میں بھی آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ، سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نجرانی نے حضرت عمر فاروق (رض) کے زمانہ میں نجران کی ایک بنجر غیر آباد زمین اپنے کسی کام کے لیے کھودی تو دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن تامر (رح) کا جسم اس میں ہے آپ بیٹھے ہوئے ہیں سر پر جس جگہ چوٹ آئی تھی وہیں ہاتھ ہے، ہاتھ اگر ہٹاتے ہیں تو خون بہنے لگتا ہے پھر ہاتھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہاتھ اپنی جگہ چلا جاتا ہے، اور خون تھم جاتا ہے ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی ہے جس پر ربی اللہ لکھا ہوا ہے یعنی میرا رب اللہ ہے۔ چناچہ اس واقعہ کی اطلاع قصر خلافت میں دی گئی، یہاں سے حضرت فارون اعظم (رض) کا فرمان گیا کہ اسے یونہی رہنے دو اور اوپر سے مٹی وغیرہ جو ہٹائی ہے، وہ ڈال کر جس طرح تھا اسی طرح بےنشان کردو چناچہ یہی کیا گیا۔ ابن ابی الدنیا نے لکھا ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اصفہان فتح کیا تو ایک دیوار دیکھی کہ وہ گر پڑی ہے ان کے حکم پر وہ بنادی گئی لیکن پھر گر پڑی پھر بنوائی پھر گر پڑی آخر معلوم ہوا کہ اس کے نیچے کوئی نیک بخت شخص مدفون ہیں جب زمین کھودی تو دیکھا کہ ایک شخص کا جسم کھڑا ہوا ہے ساتھ ہی ایک تلوار ہے جس پر لکھا ہے میں حارث بن مضاض ہوں میں نے کھائیوں والوں کا انتقام لیا حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اس لاشے کو نکال لیا اور وہاں دیوار کھڑی کرا دی جو برابر رہی میں کہتا ہوں یہ حارث بن مضاض بن عمرو جرہی ہے جو کعبۃ اللہ کے متولی ہوئے تھے، ثابت بن اسماعیل بن ابراہیم کی اولاد کے بعد اس کا لڑکا عمرو بن حاث بن مضاض تھا جو مکہ میں جرہم خاندان کا آخری بادشاہ تھا، جس وقت کہ خزاعہ قبیلے نے انہیں یہاں سے نکال اور یمن کی طرف جلا وطن کیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے پہلے پہلے عرب میں شعر کہا جس شعر میں ویران مکہ کو اپنا آباد کرنا اور زمانہ کے ہیر پھیر اور انقلابات سے پھر وہاں سے نکالا جانا اس نے بیان کیا۔ اس واقعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ حضرت اسماعیل کے کچھ زمانہ کا اور بہت پرانا ہے جو کہ حضرت اسماعیل کے تقریباً پانچ سو سال کے بعد کا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ابن اسحاق کی اس مطول روایت سے جو پہلے گزری ہے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کا ہے زیادہ ٹھیک بھی یہی معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں کئی بار ہوا ہو، جیسے کہ ابن ابی حاتم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن جبیر فرماتے ہیں کہ تبع کے زمانہ میں یمن میں خندقیں کھدوائی گئی تھیں اور قسطنطین کے زمانہ میں قسطنطنیہ میں بھی مسلمانوں کے یہی عذاب دیا گیا تھا۔ جبکہ نصرانیوں نے اپنا قبلہ بدل دیا دین مسیح میں بدعتیں ایجاد کرلیں توحید کو چھوڑ بیٹھے اس وقت جو سچے دیندار تھے انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور اصلی دین پر قائم رہے تو ان ظالموں نے خندقیں آگ سے بھروا کر انہیں جلا دیا اور یہی واقعہ بابل کی زمین پر عراق میں بخت نصر کے زمانہ میں ہوا جس نے ایک بت بنا لیا تھا اور لوگوں سے اسے سجدہ کراتا تھا، حضرت دانیال اور ان کے دونوں ساتھی عزریا اور مشایل نے اس سے انکار کردیا تو اس نے انہیں اس آگ کی خندق میں ڈال دیا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر ٹھنڈا کردیا انہیں سلامتی عطا فرمائی صاف نجات دی اور اس سرکش کافروں کو ان خندقوں میں ڈال دیا یہ نو قبیلے تھے سب جل کر خاک ہوگئے۔ سدی فرماتے ہیں تین جگہ یہ معاملہ ہوا عراق میں شام میں اور یمن میں، مقاتل فرماتے ہیں کہ خندقیں تین جگہ تھیں ایک تو یمن کے شہر نجران میں، دوسری شام میں تیسری فارس میں۔ شام میں اس کا بانی انطنانوس رومی تھا اور فارس میں بخت نصر اور زمین عرب پر یوسف ذونواس، فارس اور شام کی خندقیوں کا ذکر قرآن میں نہیں یہ ذکر نجران کا ہے۔ حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے فترۃ کے زمانے میں یعنی حضرت عیسیٰ اور پیغمبر آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کے زمانہ میں ایک قوم تھی انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ فتنے اور شر میں گرفتار ہوگئے ہیں اور گروہ گروہ بن گئے ہیں اور ہر گروہ اپنے خیالات میں خوش ہے تو ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا یہاں سے ہجرت کر کے الگ ایک جگہ بنا کر وہیں رہنا سہنا شروع کیا اور اللہ کی مخلصانہ عبادت میں یکسوئی کے ساتھ مشغول ہوگئے نمازوں کی پابندی ذکاتوں کی ادائیگی میں لگ گئے اور ان سے الگ تھلگ رہنے لگے یہاں تک کہ ایک سرکش بادشاہ کو اس اللہ والی جماعت کا پتہ لگ گیا اس نے ان کے پاس اپنے آدمی بھیجے اور انہیں سمجھایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ اور بت پرستی شروع کردو ان سب نے بالکل انکار کیا کہ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کسی اور کی بندگی کریں بادشاہ نے کہلوایا کہ اگر یہ تمہیں منظور نہیں تو میں تمہیں قتل کرا دوں گا، جواب ملا کہ جو چاہو کرو لیکن ہم سے دین نہیں چھوڑا جائے گا، اس ظالم نے خندقیں کھدوائیں آگ جلوائی اور ان سب مرد و عورتوں اور بچوں کو جمع کرلیا اور ان خندقوں کے کنارے کھڑا کر کے کہا بولو یہ آخری سوال جواب ہے آیا بت پرستی قبول کرتے ہو یا آگ میں گرنا قبول کرتے ہو انہوں نے کہا ہمیں جل مرنا منظور ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے بچوں نے چیخ و پکار شروع کردی بڑوں نے انہیں سمجھایا کہ بس آج کے بعد آگ نہیں۔ نہ گھبراؤ اور اللہ کا نام لے کر کود پڑو چناچہ سب کے سب کود پڑے انہیں آنچ بھی نہیں لگنے پائی تھی کہ اللہ نے ان کی روحیں قبض کرلیں اور آگ خندقوں سے باہر نکل پڑی اور ان بدکردار سرکشوں کو گھیر لیا اور جتنے بھی تھے سارے کے سارے جلا دئیے گئے ان کی خبر ان آیتوں قتل الخ میں ہے۔ تو اس بنا پر فتوں کے معنی ہوئے کہ جلایا تو فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کو جلا دیا ہے اگر انہوں نے توبہ نہ کی یعنی اپنے اس فعل سے باز نہ آئے نہ اپنے اس کئے پر نادم ہوئے تو ان کے لیے جہنم ہے اور جلنے کا عذاب ہے تاکہ بدلہ بھی ان کے عمل جیسا ہو، حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے کرم و رحم اس کی مہربانی اور عنایت کو دیکھو کہ جب بدکاروں نے اس کے پیارے بندوں کو ایسے بدترین عذابوں سے مارا انہیں بھی وہ توبہ کرنے کو کہتا ہے اور ان سے بھی مغفرت اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اپنے وسیع رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔