Skip to main content

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۗ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُ ۗ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کئے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
لَهُمْ
ان کے لئے
جَنَّٰتٌ
باغ ہیں
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
سے
تَحْتِهَا
ان کے نیچے (سے)
ٱلْأَنْهَٰرُۚ
نہریں
ذَٰلِكَ
یہ
ٱلْفَوْزُ
کامیابی ہے
ٱلْكَبِيرُ
بڑی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بے شک جو ایما ن لائے اور اچھے کام کئے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں یہی بڑی کامیابی ہے،

احمد علی Ahmed Ali

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کیے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہی بڑی کامیابی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے (جنت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بے شک جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے
اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی ؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہوجاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہوجاتی ہیں، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند وبالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے۔ مجید کی دو قرأتیں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائیگا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے حضرت صدیق اکبر (رض) سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا ہاں پوچھا پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا انی فعال لما یرید پھر فرماتا ہے کہ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کرسکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا، مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے جا رہے تھے کہ آپ نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں۔ ( هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17؀ۙ ) 85 ۔ البروج ;17) آپ کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا نعم قد جآءَنی یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آگئیں، یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے ؟ پھر فرمایا کہ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کرسکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سر تا پا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ حضرت اسرافیل کی پیشانی پر ہے، عبدالرحمن بن سلمان فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا ہو رہا ہے اور ہوگا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ حضرت اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے حضرت ابن عباس (رض) ما سے مروی ہے کہ لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کریگا فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے طبرانی میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے الحمد اللہ سورة سروج کی تفسیر ختم ہوئی۔