Skip to main content

هَلْ اَتٰٮكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِۗ

هَلْ
کیا
أَتَىٰكَ
آئی ہے تیرے پاس
حَدِيثُ
خبر
ٱلْغَٰشِيَةِ
ڈھانپ لینے والی کی/ چھا جانے والی آفت کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی

احمد علی Ahmed Ali

کیا آپ کے پاس سب پرچھا جانے والی (قیامت) کا حال پہنچا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے (١)۔

١۔١غاشیہ سے مراد قیامت ہے، اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تمہیں (کائنات پر) چھا جانے والی (مصیبت یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تمہیں ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات معلوم ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا آپ کو (ہر چیز پر) چھا جانے والی قیامت کی خبر پہنچی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت
غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا حضرت کیا بات ہے ؟ تو فرمایا اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آگئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد نصرانی ہیں عکرمہ اور سدی فرماتے ہیں کہ دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے ضریع کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔