Skip to main content

ارْجِعِىْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ۚ

ٱرْجِعِىٓ
واپس چلو
إِلَىٰ
طرف
رَبِّكِ
اپنے رب کی
رَاضِيَةً
راضی
مَّرْضِيَّةً
پسندیدہ/ خوشی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،

احمد علی Ahmed Ali

اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔ (۱)

۲۸۔۱یعنی اس کے اجر و ثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تومن بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو اس حالت میں اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب)،