Skip to main content

وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىۙ

وَٱلَّيْلِ
قسم ہے رات کی
إِذَا
جب
يَغْشَىٰ
وہ چھا جائے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور رات کی قسم جب چھائے

احمد علی Ahmed Ali

رات کی قسم ہے جب کہ وہ چھاجائے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

قسم ہے رات کی جب چھا جائے، (۱)

۱۔۱یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

قسم ہے اس رات کی جب چھا جائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

قَسم ہے رات کی جب کہ وہ (دن کو) ڈھانپ لے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

رات کی قسم جب وہ دن کو ڈھانپ لے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

رات کی قَسم جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے ;
مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچالئے گئے تھے وہ نہیں ؟ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ۔ یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے شاگرد اور ساتھی حضرت ابو الدردا کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں حضرت عبداللہ کی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے ؟ کہا کہ ہم سب ہیں، پھر پوچھا کہ تم سب میں حضرت عبداللہ کی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والاکون ہے ؟ لوگوں نے حضرت علقمہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ واللیل اذا یغشیکو حضرت عبداللہ سے تم نے کس طرح سنا ؟ تو کہا وہ والذکر والانثی پڑھتے تھے کہا میں نے بھیحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں وما خلق الذکر والا انثی پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں، الغرض حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو الدرداء (رض) کو قرأت یہی ہے اور حضرت ابو الدرداء نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآن وں میں ہے، پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والا ہے، جیسے فرمایا وخلقنا کم ازواجاہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور فرمایا۔ وکل شئی خلقنا زوجین ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں، ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھاکر اب فرماتا ہے کہ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں پھر فرمایا ہے کہ جس نے دیا یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف الہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا حسنیٰ کے معنی لا الہ الا اللہ کے بھی کئے گئے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں، نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں پھر فرمایا ہے کہ ہم آسانی کی راہ آسان کردیں گے یعنی بھلائی، جنت اور نیک بدلے کی اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بےنیازی برتی اور حسنٰی کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کردیں گے جیسے فرمایا ونقلب افیدتگم وابصارھم الخ، یعنی ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے، اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم کی جگہ موجد ہیں کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے۔ اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں، حضرت صدیق اکبر نے ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق، کہنے لگے پھر عمل کی کیا ضرورت ؟ فرمایا ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے (مسند احمد) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ نے فرمایا سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے۔ اور لکھی ہوئی ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس پر بھروسہ کرکے بیٹھ کیوں نہ رہیں ؟ تو آپ نے فرمایا عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے پھر آپ نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں (صحیح بخاری شریف) اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے، مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں حضرت صدیق کا گذرا مروی ہے اور آپ کا جواب بھی تقریبا ً ایسا ہی مروی ہے۔ ابن جریر میں حضرت جابر سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے، ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسا ہی جواب مروی ہے، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے حضرت ابو الدرداء سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آکر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اسکی شکایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی آپ نے اس سے فرما دیا کہ اچھا تم جاؤ اور آپ اس باغ والے سے ملے اور فرمایا کہ تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دے دے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا وہ کہنے لگا اچھا حضرت میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔ ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا حضرت اگر یہ درخت میرا ہوجائے اور میں آپ کا کردوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ حضرت مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہے پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دے دے۔ لیکن کون دے سکتا ہے ؟ پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو ؟ کہا چالیس درخت خرما کے۔ اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس ؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوں اس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کرلو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہوگیا گواہ مقرر ہوگئے پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا اس نے کہا اچھا منظور۔ چناچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔ یہ شخص خوشی خوشی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب وہ درخت میرا ہوگیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے۔ یہ درخت تمہارا ہے اور تمہارے بال بچوں کا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی ابن جریر میں مروی ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہوجاتے تھے آزاد کردیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد حضرت ابو قحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جو ان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمہارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو صدیق اکبر (رض) نے جواب دیا کہ ابا جی میرا ارادہ دینوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ تروی کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔