Skip to main content

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَـكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ۗ قُلْ اٰۤللّٰهُ اَذِنَ لَـكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ

قُلْ
کہہ دیجیے
أَرَءَيْتُم
کیا سوچا تم نے
مَّآ
جو
أَنزَلَ
نازل کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
لَكُم
تمہارے لیے
مِّن
میں سے
رِّزْقٍ
رزق
فَجَعَلْتُم
تو بنا لیا تم نے
مِّنْهُ
اس میں سے
حَرَامًا
حرام
وَحَلَٰلًا
اور حلال
قُلْ
کہہ دیجیے
ءَآللَّهُ
کیا اللہ تعالیٰ نے
أَذِنَ
اجازت دی تھی
لَكُمْۖ
تم کو
أَمْ
یا
عَلَى
اوپر
ٱللَّهِ
اللہ کے
تَفْتَرُونَ
تم جھوٹ گھڑتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، ان سے کہو “تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا!" اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، ان سے کہو “تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا!" اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرالیا تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو بھلا دیکھو تو الله نے تمہارے لیے جو رزق نازل فرمایاہے تم نے اس میں سے بعض کو حرام اوربعض کو حلال کر دیا کہہ دو الله نے تمہیں حکم دیا ہے یا الله پر افترا کرتے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہیے یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا (١)۔ آپ پوچھئے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر بہتان ہی کرتے ہو۔

٥٩۔١ اس سے مراد وہی بعض جانوروں کا حرام کرنا جو مشرکین اپنے بتوں کے ناموں پر چھوڑ کر کیا کرتے ہیں تھے، جس کی تفصیل سورہ انعام میں گزر چکی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا۔ آپ پوچھیے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر افترا ہی کرتے ہو؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) کہیے! لوگو ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے غور کیا ہے کہ خدا نے تمہارے لئے جو رزق اتارا ہے تو تم نے خود (اپنی خواہشِ نفس سے) کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا ہے ان سے پوچھئے! کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ خدانے تمہارے لئے رزق نازل کیا تو تم نے اس میں بھی حلال و حرام بنانا شروع کردیا تو کیا خدا نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم خدا پر افترا کررہے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں: کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت
مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے۔ حضرت عوف بن مالک بن فضلہ (رض) فرماتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ کس قسم کا مال ؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے ؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کا کیا خیال ہے ؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بےبس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل وکرم ہی کرتا ہے۔ وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کردی ہیں۔ صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے۔ جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیا اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہوگا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہوجائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں ؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔ پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں ؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کرلے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔