Skip to main content

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۤءَ رَبُّكَ ۗ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ

خَٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا
اس میں
مَا
جب تک
دَامَتِ
قائم ہیں
ٱلسَّمَٰوَٰتُ
آسمان
وَٱلْأَرْضُ
اور زمین
إِلَّا
مگر
مَا
جو
شَآءَ
چاہے
رَبُّكَۚ
تیرا رب
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
فَعَّالٌ
بہت کرنے والا ہے۔ کر گزرنے والا ہے
لِّمَا
اس چیز کے لیے
يُرِيدُ
جس کو وہ چاہتا ہے۔ جو وہ چاہتا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے،

احمد علی Ahmed Ali

اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان زمین قائم ہیں ہاں اگر تیرے الله ہی کو منظور ہو (تو دوسری بات ہے) بے شک تیار رب جو چاہے اسے پورےطور سے کر سکتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین برقرار رہیں (١) سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے (٢) یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے۔

١٠٧۔١ ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ موقت ہے یعنی اس وقت تک رہے گا جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ یہاں (مَا دَ امَتِ السِّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ) اہل عرب کے روز مرہ کی گفتگو اور محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کا دوام ثابت کرنا مقصود ہوتا تو وہ کہتے تھے (یہ چیز اسی طرح ہمیشہ رہے گی۔ جس طرح آسمان و زمین کا دوام ہے) اسی محاورے کو قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر و شرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس کو قرآن نے متعدد جگہ خالدین فیھا کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی بیان کی گیا ہے کہ آسمان و زمین سے مراد جنس ہے۔ یعنی دنیا کے آسمان و زمین اور ہیں جو فنا ہو جائیں گے لیکن آخرت کے آسمان و زمین ان کے علاوہ اور ہوں گے، جیسا کہ قران کریم میں اس کی صراحت ہے، (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48؁) 14۔ ابراہیم;48)، اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دئیے جائیں گے۔ اور آخرت کے یہ آسمان وزمین، جنت اور دوزخ کی طرح ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت میں یہی آسمان وزمین مراد ہے نہ کہ دنیا کے آسمان وزمین جو فنا ہو جائیں گے۔ (ابن کثیر) ان دونوں مفہوموں میں سے کوئی بھی مفہوم مراد لے لیا جائے، آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے اور وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو مذکور ہوا۔ امام شوکانی نے اس کے اور بھی کئی مفہوم بیان کیے ہیں جنہیں اہل علم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
١٠٧۔٢ اس استثناء کے بھی کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ صحیح مفہوم یہی ہے کہ یہ استثناء ان گناہ گاروں کے لئے ہے جو اہل توحید و اہل ایمان ہوں گے۔ اس اعتبار سے اس سے ما قبل آیت میں شَقِی کا لفظ عام یعنی کافر اور عاصی دونوں کو شامل ہوگا اور (اِ لَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ) سے عاصی مومنوں کا استثناء ہو جائے گا اور مَا شَآءِ میں مَا، مَنْ کے معنی میں ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں، اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں۔ سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے۔ یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اِلا یہ کہ آپ کا پروردگار (کچھ اور) چاہے بے شک آپ کا پروردگار (قادرِ مختار ہے) جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں مگر یہ کہ آپ کا پروردگار نکالنا چاہے کہ وہ جو بھی چاہے کرسکتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین (جو اس وقت ہوں گے) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب چاہے۔ بیشک آپ کا رب جو ارادہ فرماتا ہے کر گزرتا ہے،