Skip to main content

فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِى النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ ۙ

فَأَمَّا
تو رہے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
شَقُوا۟
جو بدبخت ہوئے
فَفِى
تو میں
ٱلنَّارِ
آگ (میں) ہوں گے
لَهُمْ
ان کے لیے
فِيهَا
اس میں
زَفِيرٌ
چیخ پکار ہوگی
وَشَهِيقٌ
اور دھاڑتا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس گدھے کی طرح رینکیں گے

احمد علی Ahmed Ali

پھر جو بد ہوں گےتو وہ آگ میں ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑی رہے گی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

لیکن جو بدبخت ہوئے وہ دوزخ میں ہونگے وہاں چیخیں گے چلائیں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

لیکن جو بدبخت ہوئے وه دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب وہ دن آئے گا تو جو بدبخت ہیں وہ آتشِ دوزخ میں ہوں گے ان کیلئے وہاں چیخنا چلانا ہوگا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پس جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ جہّنم میں رہیں گے جہاں اُن کے لئے صرف ہائے وائے اور چیخ پکار ہوگی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو جو لوگ بدبخت ہوں گے (وہ) دوزخ میں (پڑے) ہوں گے ان کے مقدر میں وہاں چیخنا اور چلّانا ہوگا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں
گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے (النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ\012\08 ) 6 ۔ الانعام ;128) میں ہے۔ اس استثنا کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔