Skip to main content

وَيٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـــَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۗاِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَاۡ بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۗ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَلٰـكِنِّىْۤ اَرٰٮكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ

وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
لَآ
نہیں
أَسْـَٔلُكُمْ
میں سوال کرتا تم سے
عَلَيْهِ
اس پر
مَالًاۖ
کسی مال کا
إِنْ
نہیں
أَجْرِىَ
میرا اجر
إِلَّا
مگر
عَلَى
کے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے ذمہ
وَمَآ
اور نہیں ہوں
أَنَا۠
میں
بِطَارِدِ
دور کرنے والا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو۔ پرے کرنے والا ان لوگوں کو
ءَامَنُوٓا۟ۚ
جو ایمان لائے
إِنَّهُم
بیشک وہ
مُّلَٰقُوا۟
ملاقات کرنے والے ہیں
رَبِّهِمْ
اپنے رب سے
وَلَٰكِنِّىٓ
لیکن میں
أَرَىٰكُمْ
دیکھتا ہوں تم کو
قَوْمًا
ایک قوم
تَجْهَلُونَ
تم جہالت برت رہے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں

احمد علی Ahmed Ali

اور اے میری قوم میں تم سے اس پر کچھ مال نہیں مانگتا میری مزدوری الله ہی کے ذمہ ہے اور میں ایمانداروں کو ہٹانے والا نہیں بے شک و ہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن تمہیں جاہل قوم دیکھتا ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا (١) میرا ثواب تو صرف اللہ تعالٰی کے ہاں ہے نہ میں ایمان داروں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں (٢) انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو (٣)۔

٢٩۔١ تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آ جائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔
٢٩۔٢ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح علیہ السلام سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں ' اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (سورہ، الا نعام ٥٢) (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 52؀) 6۔ الانعام;52) ' اپنے نفسوں کو ان لوگوں کے ساتھ جوڑے رکھئے! جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں، اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے گزر کر کسی اور کی طرف تجاوز نہ کریں (سورۃ الکہف۔ ٢٨) (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) 18۔ الکہف;28)
٢٩۔٣ یعنی اللہ اور رسول کے پیروکار کو حقیر سمجھنا اور پھر انہیں قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یہ تمہاری جہالت ہے۔ یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے نہ کہ دور دھتکارا جائے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا ﺛواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے میری قوم! میں اس (تبلیغِ حق) پر تم سے کوئی مالی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاوضہ اللہ کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں (وہ تمہاری نگاہ میں جس قدر پست ہوں) میں ان کو اپنے پاس سے نکال نہیں سکتا۔ بے شک وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری دینے والے ہیں البتہ میں دیکھتا ہوں کہ تم جہالت سے کام لینے والے لوگ ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اے قوم میں تم سے کوئی مال تو نہیں چاہتا ہوں -میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں صاحبان هایمان کو نکال بھی نہیں سکتا ہوں کہ وہ لوگ اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے والے ہیں البتہ میں تم کو ایک جاہل قوم تصور کررہا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اسکی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دیدوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔ یہی طلب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری ( وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ 52؀) 6 ۔ الانعام ;52) یعنی صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال۔ اور آیت میں ہے ( وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53؀) 6 ۔ الانعام ;53) اسی طرح ہم نے ایک کو دورے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا ؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا ؟