Skip to main content

وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٰٟىهَا وَمُرْسٰٮهَا ۗ اِنَّ رَبِّىْ لَـغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

And he said
وَقَالَ
اور اس نے کہا
"Embark
ٱرْكَبُوا۟
سوار ہوجاؤ
in it
فِيهَا
اس میں
in the name
بِسْمِ
نام کے ساتھ
of Allah
ٱللَّهِ
اللہ کے
(is) its course
مَجْر۪ىٰهَا
چلنا ہے اس کا
and its anchorage
وَمُرْسَىٰهَآۚ
اور ٹھہرنا ہے اس کا
Indeed
إِنَّ
بیشک
my Lord
رَبِّى
میرا رب
(is) certainly Oft-Forgiving
لَغَفُورٌ
البتہ غفور
Most Merciful"
رَّحِيمٌ
رحیم ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"

English Sahih:

And [Noah] said, "Embark therein; in the name of Allah [are] its course and its anchorage. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بولا اس میں سوار ہو اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور کہا اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور ٹھیرنا الله کے نا م سے ہےبے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

نوح نے کہا اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، (١) یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے۔

٤١۔١ یعنی اللہ ہی کے نام سے اس کا پانی کی سطح پر چلنا اور اسی کے نام پر اس کا ٹھہرنا ہے۔ اس سے ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی اور حوصلہ دینا بھی تھا کہ بلا خوف و خطر کشتی میں سوار ہو جاؤ، اللہ تعالٰی ہی اس کشتی کا محافظ اور نگران ہے اسی کے حکم سے چلے گی اور اسی کے حکم سے ٹھہرے گی۔ جس طرح اللہ تعالٰی نے دوسرے مقام پر فرمایا کہ ' اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں آرام سے بیٹھ جائیں تو کہو (اَلْحَمْدُ لِللّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ہ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکَا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ) (المومنون ٢٨،٢٩) ' سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی اور کہہ کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر اتارنے والا ہے '۔
بعض علماء نے کشتی یا سواری پر بیٹھتے وقت (بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھا ومُرْسٰھِا) کا پڑھنا مستحب قرار دیا ہے، مگر حدیث سے (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) 43۔ الزخرف;13) پڑھنا ثابت ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

نوح(ع) نے کہا (کشتی میں) سوار ہو جاؤ اللہ کے نام کے سہارے اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی بے شک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

نوح نے کہا کہ اب تم سب کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کے سہارے اس کا بہاؤ بھی ہے اور ٹھہراؤ بھی اور بیشک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور نوح (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ اﷲ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا ؟
حضرت نوح جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ آؤ اس میں سوار ہوجاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔ ایک قرآت میں مجرھا و مرسھا بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ کو حکم تھا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 28؀) 23 ۔ المؤمنون ;28) اور یہ بھی دعا کرنا کہ (اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 29؀) 23 ۔ المؤمنون ;29) اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو، جیسے فرمان باری ہے کہ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لئے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو، الخ،۔ حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورة زخرف میں اس کا پورا بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ طبرانی میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں (آیت بسم اللّٰہ الملک وما قدرواللہ حق قدرہ) پوری (بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 41؀) 11 ۔ ھود ;41) اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔ جیسے فرمان ہے تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے۔ اور آیت میں ہے (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝) 13 ۔ الرعد ;6) یعنی تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقولے اسی میل اوپر کو ہوگیا ہے باوجود اس کی کشتی نوح بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔ خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے ( اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۝ ۙ ) 69 ۔ الحاقة ;11) یعنی پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں اور آیت میں ہے کہ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنادیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے ؟ اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بدنیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی واللہ اعلم۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا ؟ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔ یہاں عاصم معصوم کے معنی میں ہے جیسے طاعم مطعوم کے معنی میں اور کا سی مکسو کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح کو لے ڈوبی۔