Skip to main content

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ

قُلْ
کہہ دیجئے
أَعُوذُ
میں پناہ چاہتا ہوں
بِرَبِّ
رب کی
ٱلْفَلَقِ
صبح کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو صبح کے پیدا کرنے والے کی پناہ مانگتا ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں (١)

١۔١ فلَق کے معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالٰی رات کا اندھیرا ختم کر کے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کر کے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہو جائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) آپ(ص) کہہ دیجئے کہ میں پناہ لیتا ہوں صبح کے پروردگار کی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کہہ دیجئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ چاہتا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ عرض کیجئے کہ میں (ایک) دھماکے سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں لانے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی۔ غاسق سے مراد رات ہے۔ اذا وقت یس مراد سورج کا غروب ہوجانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لئے ہوئے آجائے، ابن زید کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو غاسق کہتے ہیں۔ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ غاسق ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے، ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ اور روایت میں ہے کہ غاسق اذا وقب سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں با آسانییہ تطبیق ہوسکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آجائے، واللہ اعلم۔ گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں نہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ دعا پڑھی
یعنی اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفا دے۔ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفا بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کردیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کردیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفا عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک یہودی نے جادہ کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گر ہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گر ہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا، صحیح بخاری شریف کتاب الطب میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہا آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے، حضرت سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ کی ہوگئی ایک دن آپ فرمانے لگے عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتادیا دو شخص آئے ایک میری سرہانے ایک پائیتوں کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا ان کا کیا حال ہے ؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا کس نے جادو کیا ہے ؟ کہا عبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں ؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں، پھر حضور صلی اللہ (علیہ السلام) اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے، میں نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسے بدلہ لینے چائے آپ نے فرمایا الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفا دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کرچکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حم سے بند کردیا گیا، یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں حضرت ابن عباس اور حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہکا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لئے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذرو ان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیما ہوگئے سر کے بال جھڑنے لگے خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہوگیا اور آپ نے حضرت علی حضرت زبیر اور حضرت عمار بن یاسر (رض) کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گر ہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہوگئے، ادھر جبرائیل (علیہ السلام) نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گذر چکی ہے، لوگوں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کردیں آپ نے فرمایا نہیں اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہوچکے ہیں واللہ اعلم۔