Skip to main content

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزّٰهِدِيْنَ

وَشَرَوْهُ
اور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو
بِثَمَنٍۭ
قیمت پر
بَخْسٍ
کم
دَرَٰهِمَ
درہموں میں
مَعْدُودَةٍ
گنے چنے
وَكَانُوا۟
اور وہ تھے
فِيهِ
اس کے بارے میں
مِنَ
سے
ٱلزَّٰهِدِينَ
بےرغبت لوگوں میں سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی

احمد علی Ahmed Ali

اسے بھائی ناقص قیمت پر بیچ آئے گنتی کی چونیوں پر اور اس سے بیزار ہو رہے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے (١) اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر بیچ ڈالا، وہ تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بےرغبت تھے (٢)

٢٠۔١ بھائیوں یا دوسری تفسیر کی رو سے اہل قافلہ نے بیچا۔
٢٠۔٢ کیونکہ گری پڑی چیز انسان کو یوں ہی کسی محنت کے بغیر مل جاتی ہے، اس لئے چاہے وہ کتنی بھی قیمتی ہو، اس کی صحیح قدر وقیمت انسان پر واضح نہیں ہوتی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور انہوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (ادھر برادرانِ یوسف بھی آپہنچے اور یوسف کو اپنا غلام ظاہر کرکے) بالکل کم قیمت پر یعنی گنتی کے چند درہموں کے عوض بیج ڈالا۔ اور ان (بھائیوں) کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی (بلکہ اس سے بیزار تھے)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان لوگوں نے یوسف کو معمولی قیمت پر بیچ ڈالا چند درہم کے عوض اور وہ لوگ تو ان سے بیزار تھے ہی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے (جو موقع پر آگئے تھے اسے اپنا بھگوڑا غلام کہہ کر انہی کے ہاتھوں) بہت کم قیمت گنتی کے چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا کیونکہ وہ راہ گیر اس (یوسف علیہ السلام کے خریدنے) کے بارے میں (پہلے ہی) بے رغبت تھے (پھر راہ گیروں نے اسے مصر لے جا کر بیچ دیا)،