یوسف آية ۵۸
وَجَاۤءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ
طاہر القادری:
اور (قحط کے زمانہ میں) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (غلہ لینے کے لئے مصر) آئے تو ان کے پاس حاضر ہوئے پس یوسف (علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا اور وہ انہیں نہ پہچان سکے،
English Sahih:
And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.
1 Abul A'ala Maududi
یوسفؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے
2 Ahmed Raza Khan
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے
3 Ahmed Ali
اور یوسف کے بھائی آئے پھر اس کے ہاں داخل ہوئے تواس نے انہیں پہچان لیا اور وہ پہچان نہیں سکے
4 Ahsanul Bayan
یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا (١)
٥٨۔١ یہ اس وقت کا وقع ہے جب خوش حالی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط سالی شروع ہوگئی جس نے ملک مصر کے تمام علاقوں اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حتیٰ کہ کنعان تک بھی اس کے اثرات جا پہنچے جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی رہائش پذیر تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے حسن تدبیر سے اس قحط سالی سے نمٹنے کے لئے جو انتظامات کئے تھے وہ کام آئے اور ہر طرف سے لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس غلہ لینے کے لئے آرہے تھے حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ شہرت کنعان تک بھی جا پہنچی کہ مصر کا بادشاہ اس طرح غلہ فروخت کر رہا ہے۔ چنانچہ باپ کے حکم پر یہ بردران یوسف علیہ السلام بھی گھر کی پونجی لے کر غلے کے حصول کے لئے دربار شاہی میں پہنچ گئے جہاں حضرت یوسف علیہ السلام تشریف فرما تھے، جنہیں یہ بھائی تو نہ پہچان سکے لیکن یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
6 Muhammad Junagarhi
یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا
7 Muhammad Hussain Najafi
اور (قحط سالی کے دنوں میں غلہ خریدنے) یوسف کے بھائی (مصر) آئے اور (یوسف) کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا جبکہ وہ اسے نہ پہچان سکے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور جب یوسف کے بھائی مصر آئے اور یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے سب کو پہچان لیا اور وہ لوگ نہیں پہچان سکے
9 Tafsir Jalalayn
اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔
آیت نمبر ٥٨ تا ٦٨
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ غلہ لینے کیلئے آئے ہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم جاسوس ہو، کہنے لگے اللہ کی پناہ (پھر ان سے) پوچھا تم کہاں سے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بلاد کنعان سے اور ہمارے والد یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں، یوسف (علیہ السلام) نے ان سے معلوم کیا کہ تمہارے علاوہ بھی اس کی کوئی اولاد ہے جواب دیا ہاں ہم کل بارہ بھائی تھے ہمارا چھوٹا بھائی تو جنگل میں گیا تھا ہلاک ہوگیا وہ ہمارے والد کو ہم سب میں زیادہ پیارا تھا، اور اس کا حقیقی بھائی موجود ہے اس کو ہمارے والد صاحب نے اپنے پاس روک لیا ہے تاکہ اس سے تسلی حاصل کرے، تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اکرام کے ساتھ ٹھہرانے کا حکم دیا، اور جب ان کا سازوسامان تیار کرا دیا اور ان کو خوب پیمانہ بھر بھر کے دیدیا، تو فرمایا کہ تم (آئندہ) اپنے علاقی بھائی کو بھی لے کر آنا یعنی بنیامین کو تاکہ تمہاری بات کی سچائی کو میں جان سکوں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں یعنی بغیر کمی پورا بھرتا ہوں، اور میں بہترین میزبانی کرنے والوں میں سے ہوں، اگر تم اس کو میرے پاس نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ (وَلَّہ) نہیں ہے اور میرے پاس بھی مت آنا (لا یقربون) نہی ہے فلا کیل کے محل پر عطف ہے یعنی تم کو محروم کردیا جائیگا اور تم قریب (بھی) مت آنا، تو بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم اسکے باپ کو اس کے بارے میں پھسلائیں گے (سمجھائیں گے) اور ان سے لینے کیلئے پوری کوشش کریں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے اور (یوسف نے) اپنے خادموں سے کہا اور ایک قراءت میں لفتیانہ ای لغلمانہ ہے کہ تم ان کی پونجی کو جس کو وہ غلہ خریدنے کیلئے لائے ہیں اور وہ دراہم تھے ان کی بوریوں میں رکھ دو شاید کہ جب وہ اپنے گھر پہنچیں اور اپنی بوریوں کو خالی کریں تو اپنی پونجی کو پہچان لیں تو ممکن ہے کہ وہ ہمارے پاس واپس آئیں اسلئے کہ وہ اس (پونجی) کو اپنے پاس رکھنا حلال نہ سمجھیں گے، چناچہ جب وہ اپنے ابا جان کے پاس واپس پہنچے تو کہا اے ہمارے ابا جان (آئندہ) ہم کو غلہ دینے سے منع کردیا گیا ہے، اگر آپ ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو اس کے پاس نہ بھیجیں گے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ حاصل کرسکیں، (نکتل) نون اور یاء کے ساتھ ہے، اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے اوپر بنیامین کے بارے میں اعتماد نہیں کرسکتا مگر ویسا ہی جیسا کہ اس کے بھائی یوسف کے بارے میں اس سے پہلے اعتماد کیا تھا، اور اس کے ساتھ تم نے وہی کیا جو تم نے کیا، لہٰذا اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور ایک قراءت میں (حفیظ) کے بجائے حافظا ہے یہ تمیز ہے جیسا کہ ان کے قول للہ درہٗ فارسا میں اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، مجھے امید ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرکے احسان کریگا اور جب بھائیوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کو پونچی ان ہی کو لوٹا دی گئی ہے اور بھائیوں نے کہا اے ہمارے ابا جان بادشاہ کی طرف سے اس سے زیادہ ہمیں اور کیا اکرام چاہیے ؟ (ما نبغی) میں ما استفہامیہ ہے اور (نبغی) کو تاء کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے حضرت یعقوب کو خطاب کرتے ہوئے، اور بھائیوں نے اپنے اباجان سے بادشاہ کے ان کے اکرام کرنے کا تذکرہ کیا تھا، دیکھئے یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں لوٹا دیا گیا ہے اور ہم اپنے اہل خانہ کیلئے غلہ لائیں گے اور میرہ غلہ کو کہتے ہیں، اور اپنے بھائی کی حفاظت رکھیں گے اور ہم اپنے بھائی کا ایک اونٹ بوجھ مزید لائیں گے اور یہ مقدار بادشاہ کیلئے اس کی سخاوت کی وجہ سے آسان ہے (یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا تاآنکہ تم اللہ کی قسم کھا کر عہد نہ کرو کہ تم اس کو ضرور میرے پاس (واپس) لاؤ گے الایہ کہ تم گھیر لیے جاؤ یعنی مرجاؤ یا مغلوب کر دئیے جاؤ جس کی وجہ سے تم اسے میرے پاس نہ سکو، چناچہ بھائیوں نے شرطیں منظور کرلیں، جب بھائیوں نے اپنے اباجان سے اس کا عہد و پیمان کرلیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ہم اور تم جو عہد و پیمان کر رہے ہیں اللہ اس پر گواہ ہے اور یعقوب (علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو تم سب مصر میں ایک دروازہ سے مت داخل ہونا (بلکہ) متفرق دروازوں سے داخل ہونا تاکہ تم کو نظر نہ لگ جائے، میں اپنے اس قول سے اللہ کی طرف سے کسی ہونے والی چیز کو نہیں ٹال سکتا من زائدہ ہے (یعنی) جو چیز اس نے تمہارے لئے مقدر کردی ہے (اس کو نہیں ٹال سکتا) یہ تو محض شفقت (پدری) ہے حکم صرف اللہ وحدہٗ کا چلتا ہے میرا بھروسا تو اسی پر ہے یعنی اسی پر اعتماد کیا ہے، اور ہر بھروسا کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جب بھائی اپنے اباجان کے کہنے کے مطابق متفرق دروازوں سے داخل ہوئے تو اللہ کی تقدیر سے انھیں کوئی چیز نہیں بچا سکی لیکن یعقوب کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے انہوں نے پورا کیا (ظاہر کیا) اور وہ شفقۃً نظر بد دفع کرنے کا ارادہ تھا، بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ اور وہ کفار ہیں، اپنے اولیاء پر اللہ کے الہام کو نہیں جانتے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وجائ اخوۃ یوسف واؤ عاطفہ ہے اس کو عطف محذوف پر ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے یعنی فراغت اور خوشحالی کے سال ختم ہو کر جب قحط اور تنگی کے سال شروع ہوئے اس کے اثرات کنعان و شام وغیرہ میں بھی محسوس کئے گئے جس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ کو بھی تنگی لاحق ہوئی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مصر کا نیک دل بادشاہ مناسب قیمت پر غلہ فروخت کر رہا ہے لہٰذا تم بھی جاؤ اور اپنی حاجت کی بقدر لے کر آؤ چناچہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے، (ای، وجاء اخوۃ یوسف) ۔
قولہ : یمتاروا ای لیشتروا المیرۃ، میرۃ اس غلہ کو کہا جاتا ہے جس کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو لایا جاتا ہے۔
قولہ : لاے تقربون یا تو نہی ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اس کا نون وقایہ کا ہے، یا فلا کیل پر عطف ہے اس صورت میں محل جزاء پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوگا۔
قولہ : تحرموا یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فلا کیل لکم کی تفسیر تحرموا سے کیوں کی ہے ؟
جواب : اس لئے کہ لاتقربوا کا عطف لاکیل لکم پر ہے اور یہ عطف الفعل علی الاسم کے قبیل سے ہے جو کہ جائز نہیں ہے لہٰذا لاکیل لکم کو تحرموا کی تاویل میں کردیا تاکہ فعل کا عطف فعل پر ہوجائے۔
قولہ : لتعلمینا، اس میں اشارہ ہے کہ لما کا ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ۔
تفسیر و تشریح
وجاء۔۔۔۔ (الآیۃ) غرض جب قحط سالی کا زمانہ شروع ہوا تو مصر کے قرب و جوار کے علاقہ میں بھی سخت کام پڑا، کنعان میں خاندان یعقوب (علیہ السلام) بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا جب حالت نزاکت اختیار کرگئی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے صاحبزادوں سے کہا کہ مصر میں عزیز مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس غلہ محفوظ ہے تم سب جاؤ اور غلہ خرید کر لاؤ چناچہ والد صاحب کے حکم سے یہ نکعانی قافلہ غلہ خریدنے کیلئے مصر کیلئے روانہ ہوا خدا کی قدرت دیکھئے کہ برادران یوسف کا یہ قافلہ اسی بھائی سے غلہ لینے چلا ہے جس کو اپنے خیال میں وہ کسی مصری گھرانے کا معمولی غلام بنا چکے تھے مگر اس یوسف فروش قافلہ کو کیا معلوم کہ وہ کل کا ” غلام “ آج مصر کے تاج و تخت کا مالک و مختار ہے اور اس کو اسی کے سامنے عرض حال کرنا ہے بہرحال جب دربار یوسفی میں پیش ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا، البتہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچان سکے کیونکہ جب یوسف کو کنویں میں ڈالا تو اس وقت ان کی عمر دس بارہ سال رہی ہوگی اور اب چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اتنی مدت میں ہر چیز میں تبدیلی آجاتی ہے اور اگر کسی طرح شبہ کرتے بھی تو کس طرح ؟ ان کے وہم و گمان میں بھی بات نہیں آسکتی تھی کہ یوسف، اور تخت شاہی۔ !
برادران یوسف پر جاسوسی کا الزام : تورات کا بیان ہے کہ برادران یوسف پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا اور اسی وجہ سے ان کو یوسف (علیہ السلام) کے روبرو پیش کیا گیا جس کی وجہ ان کو یوسف (علیہ السلام) سے بالمشافہ گفتگو کرنے کا موقعہ ملا، غرض یہ کہ یوسف (علیہ السلام) نے والد، حقیقی بھائی اور گھر کے حالات کو خوب کرید کرید کر معلوم کیا اور آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم کرلیا، اور پھر ان کی حسب مرضی غلہ بھر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ قحط اس قدر شدید ہے کہ تم کو دوبارہ یہاں آنا پڑے گا اسلئے یاد رکھو اب کی مرتبہ اگر تم آؤ تو اپنے جھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا اگر تم اسکو ساتھ نہ لائے تو ہرگز غلہ نہیں ملے گا
برادران یوسف نے کہا کہ ہم اپنے والد کو سمجھائیں گے اور ہر طرح ترغیب دیں گے کہ وہ بنیامین کو ہمارے ساتھ یہاں بھیجنے پر راضی ہوجائیں پھر جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے الوداعی ملاقات کرنے آئے تو انہوں نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ خاموشی کے ساتھ ان کے کجاوؤں میں ان کی وہ پونجی بھی رکھ دو جو انہوں نے غلہ کی قیمت کے نام سے دی ہے تو عجب نہیں کہ وہ اس پونجی کو مصری بیت المال کا مال ہونے کی وجہ سے اپنے لئے حلال نہ سمجھتے ہوئے واپس کرنے کیلئے آئیں، ابن کثیر نے یوسف (علیہ السلام) کے اس عمل میں کئی احتمال بیان کئے ہیں ایک تو یہی جو اوپر بیان ہوا، دوسرا یہ کہ شاید یوسف (علیہ السلام) کو یہ خیال ہوا ہو کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس اس نقدی کے علاوہ اور نقدی نہ ہو جس کی وجہ سے دوبارہ غلہ لینے کیلئے نہ آسکیں تیسرے یہ کہ اپنے والد، اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گوارہ نہ کیا ہو اور اس غلہ کی قیمت شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے جمع کرا دی ہو۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے یہ انتظامات اس لئے کئے کہ آئندہ بھی بھائیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہے اور چھوٹے حقیقی بھائی بنیامین سے ملاقات بھی ہوجائے۔
برادران یوسف واپس کنعان میں : برادران یوسف کا قافلہ جب واپس کنعان پہنچا تو انہوں نے سفر کی پوری روداد اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی اور ان سے کہا کہ مصر کے والی نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اس وقت تک آئندہ غلہ کیلئے یہاں ہرگز نہ آنا جب تک کہ اپنے علاتی بھائی کو ساتھ نہ لاؤ، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اسے ہمارے ساتھ مصر بھیج دیں ہم اس کی ہر طرح نگرانی اور حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس کے بھائی یوسف کے بارے میں کرچکا ہوں اور تمہاری حفاظت ہی کیا اصل حفاظت اللہ بڑے رحم کرنے والے کی ہے۔
اس گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اپنا سامان کھولنا شروع کیا تو دیکھا کہ ان کی پونجی ان ہی کو واپس کردی گئی ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے، اباجان اس سے زیادہ اور ہم کو کیا چاہیے ؟ دیکھئے غلہ بھی ملا اور ہماری پونجی بھی جوں کی توں لوٹا دی گئی، اس نے تو ہم سے قیمت بھی نہ لی اب ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم دوبارہ اس کے پاس جائیں اور گھر والوں کے لئے رسد لائیں، اور بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں، اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے اسلئے کہ یہ غلہ جو ہم لائے ہیں کافی نہیں ہے۔
یعقوب (علیہ السلام) کا بنیامین کو ساتھ بھیجنے سے انکار : بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بنیامین کو ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام پر مجھ سے عہد نہ کرو اور یہ کہ جب تک ہم خود نہ گھیر لئے جائیں اور ہر طرح سے مجبور کر دئیے جائیں ہم اس کو ضرور آپ کے پاس واپس لائیں گے، جب سب نے متفقہ طور پر اپنے والد کے سامنے عہد کیا اور ہر طرح اطمینان دلایا تب حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہوا محض اسباب ظاہری کی بنا پر ہے ورنہ کیا تم اور کیا تمہاری حفاظت، اور کیا ہم اور کیا ہمارا عہد ہم سب کو خدا کی نگہبانی چاہیے۔
قال یا بنی۔۔۔۔ متفرقۃ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو رخصت کرتے وقت نصیحت فرمائی کہ دیکھو سب
ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا، اور یہ بھی فرمایا کہ اس نصیحت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم اپنی تدابیر پر مغرور ہو بیٹھو، کیونکہ میں تمہیں کسی ایسی بات سے ہرگز نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو، حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اسلئے میں نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف احتیاطی تدابیر کے طور پر ہے اور احتیاطی تدابیر کو استعمال کرنا خدا پرستی کے خلاف نہیں ہے۔
ولما دخلوا۔۔۔۔۔۔ الخ یعنی برادران یوسف مصر میں اپنے والد محترم کی نصیحت کے مطابق ہی داخل ہوئے مگر ضروری نہیں کہ احتیاطی تدابیر ہر جگہ راست ہی آجائیں، اگر خدا تعالیٰ کی مشیت اس کے برعکس مصلحت دیکھتی ہے تو پھر وہی ہو کر رہتا ہے اور سب تدابیر بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔
مسائل و فوائد : یوسف (علیہ السلام) سے اس بات کا جواز معلوم ہوا کہ جب کسی ملک میں اقتصادی حالات ایسے خراب ہوجائیں کہ اگر حکومت نظم قائم نہ کرے تو بہت سے لوگ اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہوجائیں گے تو حکومت ایسی چیزوں کو اپنے نظم اور کنٹرول میں لیکر مناسب قیمت مقرر کرسکتی ہے حضرات فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (معارف)
یوسف (علیہ السلام) کا اپنے والد کو اپنے حالات سے باخبر نہ کرنا امر الٰہی سے تھا ؟: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں ایک بات نہایت حیرت انگیز یہ ہے کہ ایک طرف تو ان کے والد صاحب جو خدا کے پیغمبر بھی تھے ان کی مفارقت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے نابینا ہوگئے، اور دوسری طرف یوسف (علیہ السلام) خود بھی نبی ہیں، باپ سے فطری اور طبعی محبت کے علاوہ ان کے حقوق سے بھی پوری طرح باخبر ہیں لیکن چالیس سال کے طویل زمانہ میں ایک مرتبہ بھی یہ خیال نہ آیا کہ میرے والد میری جدائی سے بےچین ہیں اپنی خیریت کی خبر کسی طرح ان تک پہنچا دیتے لیکن یوسف (علیہ السلام) سے کہیں منقول نہیں کہ انہوں نے اس کا ارادہ بھی کیا ہو، اور بھائیوں کو بھی اظہار واقعہ کے بغیر ہی رخصت کردیا۔
یہ تمام حالات کسی ادنی انسان سے بھی متصور نہیں ہوسکتے اللہ کے برگزیدہ رسول سے یہ صورت کیسے برداشت ہوئی ؟ حقیقت یہ کہ اللہ نے ہی وحی کے ذریعہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اظہار حال سے روک دیا تھا کہ اپنے گھر کسی قسم کی کوئی خبر نہ دیں تفسیر قرطبی میں اس کی صراحت موجود ہے کون اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ کرسکتا ہے ؟ اللہ اپنی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے، بظاہر اس کی اصل حکمت اس امتحان کی تکمیل تھی جو یعقوب (علیہ السلام) کا لیا جا رہا تھا۔
10 Tafsir as-Saadi
جب یوسف علیہ السلام زمین کے محاصل کے ذخیرہ کے منتظم بن گئے تو انہوں نے بہترین طریقے سے ان کا انتظام کیا۔ انہوں نے شادابی کے سالوں میں مصر کی تمام قابل کاشت زمین میں غلہ کاشت کردیا اور اس غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے بڑے مکانات بنوائے۔ خراج اور لگان میں بہت سا غلہ جمع کیا، اس کی حفاظت کی اور اس کا بہترین انتظام کیا۔ جب قحط سالی شروع ہوئی اور قحط تمام علاقوں میں پھیل گیا حتیٰ کہ فلسطین بھی قحط کی لپیٹ میں آگیا جہاں یعقوب اور ان کے بیٹے رہتے تھے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اناج کے لئے مصر بھیجا۔ ﴿ وَجَاءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنكِرُونَ ﴾ ” یوسف علیہ السلام کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے“ تو یوسف علیہ السلام نے ان کو پہچان لیا، جب کہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے“ یعنی انہوں نے یوسف علیہ السلام کو نہ پہچانا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur ( jab qehat parra to ) yousuf kay bhai aaye , aur unn kay paas phonchay , to yousuf ney unhen pehchan liya , aur woh yousuf ko nahi pehchaney .
12 Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔
اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔
سدی (رح) تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو ۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔