Skip to main content

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۗ قُلِ اللّٰهُۗ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَاۤءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّاۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۙ اَمْ هَلْ تَسْتَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ۚ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۤءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَـلْقُ عَلَيْهِمْۗ قُلِ اللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَىْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ

قُلْ
کہہ دیجئے
مَن
کون ہے
رَّبُّ
رب
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کا
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین کا
قُلِ
کہہ دیجئے کہ
ٱللَّهُۚ
اللہ
قُلْ
کہہ دیجئے
أَفَٱتَّخَذْتُم
کیا پھر بنالیے تم نے
مِّن
سے
دُونِهِۦٓ
اس کے سوا
أَوْلِيَآءَ
مدد گار
لَا
نہیں
يَمْلِكُونَ
وہ مالک ہوسکتے
لِأَنفُسِهِمْ
اپنے نفسوں کے
نَفْعًا
کسی نفع کے
وَلَا
اور نہ
ضَرًّاۚ
نقصان کے
قُلْ
کہہ دیجئے
هَلْ
کیا
يَسْتَوِى
برابر ہوسکتا ہے
ٱلْأَعْمَىٰ
اندھا
وَٱلْبَصِيرُ
اور دیکھنے والا
أَمْ
یا
هَلْ
کیا
تَسْتَوِى
برابر ہوسکتے ہیں
ٱلظُّلُمَٰتُ
اندھیرے
وَٱلنُّورُۗ
اور روشنی
أَمْ
یا
جَعَلُوا۟
انہوں نے بنا لئے
لِلَّهِ
اللہ کے لئے
شُرَكَآءَ
کچھ شریک
خَلَقُوا۟
انہوں نے پیدا کئے
كَخَلْقِهِۦ
مانند اس کی تخلیق کے
فَتَشَٰبَهَ
تو خلط ملط ہوگئی ہو
ٱلْخَلْقُ
پیدائش
عَلَيْهِمْۚ
ان پر
قُلِ
کہہ دیجئے
ٱللَّهُ
کہ اللہ
خَٰلِقُ
خالق ہے
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کا
وَهُوَ
اور وہی
ٱلْوَٰحِدُ
اکیلا ہے
ٱلْقَهَّٰرُ
زبردست ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے پوچھو، آسمان و زمین کا رب کون ہے؟ کہو، اللہ پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے اِن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا؟ کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے پوچھو، آسمان و زمین کا رب کون ہے؟ کہو، اللہ پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرا لیا جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے اِن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا؟ کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرما ؤ اللہ تم فرما ؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں تم فرما ؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرما ؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے

احمد علی Ahmed Ali

کہو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے کہہ دو الله کہو پھر کیا تم نے الله کے سوا ان چیزوں کو معبود نہیں بنا رکھا جو اپنے نفسوں کے نفع اور نقصان کےبھی مالک نہیں کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتا ہے یا کہیں اندھیرا اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں کیا جنہیں انہوں نے الله کا شریک بنا رکھا ہے انہو ں نے بھی الله کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے پھر مخلوق ان کی نظر میں مشتبہ ہو گئی ہے پیدا کرنے والااللہ ہے اور وہ اکیلا زبردست ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ (١) کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اور کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود بھی اپنی جان کے بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے (٢) کہہ دیجئے کہ اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیری اور روشنی برابر ہوسکتی ہیں (٣) کیا جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وہ اکیلا ہے (٤) اور زبردست غالب ہے۔

١٦۔١ یہاں تو پیغمبر کی زبان سے اقرار ہے۔ لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ مشرکین کا جواب بھی یہی ہوتا تھا۔
١٦۔٢ یعنی جب تمہیں اقرار و اعتراف ہے کہ آسمان و زمین کا رب اللہ ہے جو تمام اختیارات کا بلا شرکت غیر مالک ہے پھر تم اسے چھوڑ کر ایسوں کو کیوں دوست اور حمائتی سمجھتے ہو جو اپنی بابت بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔
١٦۔٣ یعنی جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح موحد اور مشرک برابر نہیں ہو سکتے اس لئے کہ موحد توحید کی بصیرت سے معمور ہے جب کہ مشرک اس سے محروم ہے۔ موحد کی آنکھیں ہیں، وہ توحید کا نور دیکھتا ہے اور مشرک کو یہ نور توحید نظر نہیں آتا، اس لئے وہ اندھا ہے۔ اسی طرح، جس طرح اندھیریاں اور روشنی برابر نہیں ہو سکتی۔ ایک اللہ کا پجاری، جس کا دل نورانیت سے بھرا ہوا ہے، اور ایک مشرک، جو جہالت و توہمات کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، برابر نہیں ہو سکتے۔
١٦۔٤ یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ یہ کسی شبے کا شکار ہوگئے ہوں بلکہ یہ مانتے ہیں کہ ہرچیز کا خالق صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ۔ کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے۔ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہے۔ کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول) ان سے کہو (پوچھو) آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (خود ہی) بتائیے کہ اللہ (نیز) ان سے کہو۔ کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر کچھ کارساز بنا لئے ہیں؟ جو اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہیں اور کیا نور و ظلمت (اندھیرا اور اجالا) یکساں ہیں؟ کیا ان لوگوں نے اللہ کے کچھ ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ مخلوق خلق کی ہے؟ جس کی وجہ سے تخلیق کا یہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا ہے؟ کہہ دیجیئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے وہ یگانہ ہے اور سب پر غالب ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر کہہ دیجئے کہ بتاؤ کہ زمین و آسمان کا پروردگار کون ہے اور بتادیجئے کہ اللہ ہی ہے اور کہہ دیجئے کہ تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کر ایسے سرپرست اختیار کئے ہیں جو خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور کہئے کہ کیا اندھے اور بینا ایک جیسے ہوسکتے ہیں یا نورو ظلمت برابر ہوسکتے ہیں یا ان لوگوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اسی کی طرح کی کائنات خلق کی ہے اور ان پر خلقت مشتبہ ہوگئی ہے. کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی یکتا اور سب پر غالب ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ان کافروں کے سامنے) فرمایئے کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ آپ (خود ہی) فرما دیجئے: اﷲ ہے۔ (پھر) آپ (ان سے دریافت) فرمایئے: کیا تم نے اس کے سوا (ان بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے جو نہ اپنی ذاتوں کے لئے کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ کسی نقصان کے۔ آپ فرما دیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں یا کیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں۔ کیا انہوں نے اﷲ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اﷲ کی مخلوق کی طرح (کچھ مخلوق) خود (بھی) پیدا کی ہو، سو (ان بتوں کی پیدا کردہ) اس مخلوق سے ان کو تشابُہ (یعنی مغالطہ) ہو گیا ہو، فرما دیجئے: اﷲ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ایک ہے، وہ سب پر غالب ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اندھیرا اور روشنی
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ یہ مشرکین بھی اس کے قائل ہیں کہ زمین و آسمان کا رب اور مدبر اللہ ہی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے اولیا کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ سب عاجز بندے ہیں۔ ان کے تو کیا خود اپنے بھی نفع نقصان کا انہیں کوئی اختیار نہیں پس یہ اور اللہ کے عابد یکساں نہیں ہوسکتے۔ یہ تو اندھیروں میں ہیں اور بندہ رب نور میں ہے۔ جتنا فرق اندھے میں اور دیکھنے والے میں ہے، جتنا فرق اندھیروں اور روشنی میں ہے اتنا ہی فرق ان دونوں میں ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں ؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کسی چیز کا خالق اللہ ہے ؟ اور کس چیز کے خالق ان کے معبود ہیں ؟ حالانکہ ایسا نہیں اللہ کے مشابہ اس جیسا اس کے برابر کا اور اس کی مثل کا کوئی نہیں۔ وہ وزیر سے، شریک سے، اولاد سے، بیوی سے، پاک ہے اور ان سب سے اس کی ذات بلند وبالا ہے۔ یہ تو مشرکین کی پوری بیوقوفی ہے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کا پیدا کیا ہوا، اس کی مملوک سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک کہ وہ خود تیری ملکیت میں ہے اور جس چیز کا وہ مالک ہے، وہ بھی دراصل تیری ہی ملکیت ہے۔ قرآن نے اور جگہ ان کا مقولہ بیان فرمایا ہے کہ آیت (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ۝) 39 ۔ الزمر ;3) یعنی ہم تو ان کی عبادت صرف اس لالچ میں کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ان کے اس اعتقاد کی رگ گردن توڑتے ہوئے ارشاد ربانی ہوا کہ اس کے پاس کوئی بھی اس کی اجازت بغیر لب نہیں ہلا سکتا۔ آسمانوں کے فرشتے بھی شفاعت اس کی اجازت بغیر کر نہیں سکتے۔ سورة مریم میں فرمایا زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ کے سامنے غلام بن کر آنے والی ہے، سب اس کی نگاہ میں اور اس کی گنتی میں ہیں اور ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے قیامت کے دن حاضری دینے والا ہے۔ پس جبکہ سب کے سب بندے اور غلام ہونے کی حیثیت میں یکساں ہیں پھر ایک کا دوسرے کی عبادت کرنا بڑی حماقت اور کھلی بےانصافی نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر اس نے رسولوں کا سلسلہ شروع دنیا سے جاری رکھا۔ ہر ایک نے لوگوں کو سبق یہ دیا کہ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں لیکن انہوں نے نہ اپنے اقرار کا پاس کیا نہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کا لحاظ کیا، بلکہ مخالفت کی، رسولوں کو جھٹلایا تو کلمہ عذاب ان پر صادق آگیا۔ یہ رب کا ظلم نہیں۔