Skip to main content

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَٮِٕنَّةً يَّأْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُـوْعِ وَالْخَـوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ

وَضَرَبَ
اور بیان کی
ٱللَّهُ
اللہ نے
مَثَلًا
ایک مثال
قَرْيَةً
ایک بستی کی
كَانَتْ
وہ تھی
ءَامِنَةً
امن والی۔ محفوظ
مُّطْمَئِنَّةً
مطمئن
يَأْتِيهَا
آتا تھا اس کے پاس
رِزْقُهَا
اس کا رزق
رَغَدًا
بافراغت
مِّن
سے
كُلِّ
ہر
مَكَانٍ
جگہ
فَكَفَرَتْ
تو اس نے ناشکری کی
بِأَنْعُمِ
ساتھ نعمتوں کے
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَأَذَٰقَهَا
تو چکھایا اس کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
لِبَاسَ
لباس
ٱلْجُوعِ
بھوک کا
وَٱلْخَوْفِ
اور خوف کا
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَانُوا۟
تھے
يَصْنَعُونَ
وہ کیا کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا،

احمد علی Ahmed Ali

اور الله ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن چین تھا اس کی روزی بافراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی پھر الله کےاحسانوں کی ناشکری کی پھر الله نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اللہ تعالٰی اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن و اطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس با فراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالٰی نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا (١)۔

١٢٢۔١ اکثر مفسرین نے اس قریہ (بستی) سے مراد مکہ لیا ہے۔ یعنی اس میں مکہ اور اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے بد دعا فرمائی ' اے اللہ مضر (قبیلے) پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط کر دے، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ہوئی ' چنانچہ اللہ تعالٰی نے مکے کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا۔ حتیٰ کہ ان کا یہ حال ہو گیا کہ ہڈیاں اور درختوں کے پتے کھا کر انہیں گزارہ کرنا پڑا۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ کفران نعمت کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہوگا، وہ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں۔ اس کے اس عموم سے جمہور مفسرین کو بھی انکار نہیں ہے، گو نزول کا سبب ان کے نزدیک خاص ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن و اطمینان سے (آباد) تھی اس کی روزی فراغت سے آرہی تھی پس اس نے کفرانِ نعمت شروع کیا تو اللہ نے اس کے باشندوں کے کرتوتوں کی پاداش میں اسے یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف کو اس کا اوڑھنا بنا دیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اللہ نے اس قریہ کی بھی مثال بیان کی ہے جو محفوظ اور مطمئن تھی اور اس کا رزق ہر طرف سے باقاعدہ آرہا تھا لیکن اس قریہ کے رہنے والوں نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا تو خدا نے انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھادیا صرف ان کے ان اعمال کی بنا پر کہ جو وہ انجام دے رہے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے
اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آجاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن وامان کا حرم نہیں دے رکھا ؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تھی جیسے ارشاد باری ہے آیت ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28؀ۙ ) 14 ۔ ابراھیم ;28) کیا تو نے انہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف پہنچا دیا جو جہنم ہے جہاں یہ داخل ہوں گے اور جو بری قرار گاہ ہے۔ ان کی اس سرکشی کی سزا میں دونوں نعمتیں دوزحمتوں سے بدل دی گئیں۔ امن خوف سے، اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے، انہوں نے اللہ کے رسول کی نہ مانی۔ آپ کے خلاف کمر کس لی تو آپ نے ان کے لئے سات قحط سالیوں کی بد دعا دی۔ جیسی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھیں۔ اس قحط سالی میں انہوں نے اونٹ کے خون میں لتھڑے ہوئے بال تک کھائے۔ امن کے بعد خوف آیا۔ ہر وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے لشکر سے خوف زدہ رہنے لگے۔ آپ کی دن دگنی ترقی اور آپ کے لشکروں کی کثرت کا سنتے اور سھمے جاتے تھے یہاں تک کہ بالآخر اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے شہر مکہ پر چڑھائی کی اور اسے فتح کر کے وہاں قبضہ کرلیا۔ یہ ان کی بد اعمالیوں کا ثمرہ تھا کیونکہ یہ ظلم و زیادتی پر اڑے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے رہے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ان میں خود ان میں سے ہی بھیجا تھا جس احسان کا بیان آیت (لقد من اللہ) الخ میں فرمایا ہے اور اسی کا بیان آیت ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ٽ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۝ ۙ ) 65 ۔ الطلاق ;10) میں ہے اور اسی معنی کی آیت (کما ارسلنا فیکم) میں ہے تکفرون تک اس لطیفے کو بھی نہ بھولئے کہ جیسے کفر کی وجہ سے امن کے بعد خوف آیا اور فراخی کے بعد بھوک آئی ایمان کی وجہ سے خوف کے بعد امن ملا اور بھوک کے بعد حکومت، سرداری امارت اور امامت ملی۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ سلیم بن نمیر کہتے ہیں ہم حضرت حفصہ زوجہ محترمہ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج سے لوٹتے ہوئے آ رہے تھے اس وقت مدینہ شریف میں خلیفتہ المومنین حضرت عثمان (رض) گھرے ہوئے تھے۔ مائی صاحبہ اکثر راہ چلتوں سے ان کی بابت دریافت فرمایا کرتی تھیں۔ دو سواروں کو جاتے ہوئے دیکھ کر آدمی بھیجا کہ ان سے خلیفتہ الرسول کا حال پوچھو۔ انہوں نے خبر دی کہ افسوس آپ شہید کردیئے گئے۔ اسی وقت آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہی وہ شہید ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وضرب اللہ) الخ عبید اللہ بن مغیرہ کے استاد کا بھی یہی قول ہے۔