Skip to main content

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ

وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
يَعْلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو کچھ
تُسِرُّونَ
تم چھپاتے ہو
وَمَا
اور جو
تُعْلِنُونَ
تم ظاہر کرتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو،

احمد علی Ahmed Ali

اور الله جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتےہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ظاہر کرو اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے (١)۔

١٩۔١ اور اس کے مطابق وہ قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اللہ وہ (سب کچھ) جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اللہ ہی تمہارے باطن و ظاہر دونوں سے باخبر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ خالق کل
چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت ( قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95؀ۙ ) 37 ۔ الصافات ;95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔