Skip to main content

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الْمَلٰۤٮِٕكَةُ ظَالِمِىْۤ اَنْفُسِهِمْۖ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَـعْمَلُ مِنْ سُوْۤءٍۗ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
تَتَوَفَّىٰهُمُ
روحیں قبض کرتے ہیں ان کی۔ فوت کرتے ہیں ان کو
ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ
فرشتے
ظَالِمِىٓ
(اس حال میں کہ وہ) ظلم کرنے والے ہوتے ہیں
أَنفُسِهِمْۖ
اپنے نفسوں پر
فَأَلْقَوُا۟
تو ڈال دیتے ہیں
ٱلسَّلَمَ
سپردگی۔ صلح
مَا
(کہتے ہیں) نہ
كُنَّا
تھے ہم
نَعْمَلُ
ہم کرتے
مِن
کوئی
سُوٓءٍۭۚ
برائی
بَلَىٰٓ
کیوں نہیں
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
عَلِيمٌۢ
جاننے والا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
كُنتُمْ
تھے تم
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں "ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے" ملائکہ جواب دیتے ہیں "کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں "ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے" ملائکہ جواب دیتے ہیں "کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے اب صلح ڈالیں گے کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے

احمد علی Ahmed Ali

پھر وہ صلح کا پیغام بھیجیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہ کرتے تھے کیوں نہیں بے شک الله کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے (١) کیوں نہیں؟ اللہ تعالٰی خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔

٢٨۔١ یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع و طاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالٰی ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔
٢٨۔۲فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہے تمہارے اس انکار سے اب کیا بنے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہ جن کی روحیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اس وقت انہوں نے (سپر ڈال دی تھی اور) صلح کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے (ان سے کہا گیا) ہاں (تم نے ضرور برائی کی تھی) تم لوگ جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے. بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (بدستور) ظلم کئے جا رہے ہوں، سو وہ (روزِ قیامت) اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کریں گے (اور کہیں گے:) ہم (دنیا میں) کوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مشرکین کی جان کنی کا عالم
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کہ کرچکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آجائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو۔ مقام برا، مکان برا، ذلت اور سوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہوجائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ) 40 ۔ غافر ;46) یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ۔