Skip to main content

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَىْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰٮهُۙ اَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍۗ هَلْ يَسْتَوِىْ هُوَۙ وَمَنْ يَّأْمُرُ بِالْعَدْلِۙ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ

وَضَرَبَ
اور بیان کی
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ نے
مَثَلًا
ایک مثال
رَّجُلَيْنِ
دو آدمیوں کی
أَحَدُهُمَآ
ان دونوں میں سے ایک
أَبْكَمُ
گونگا ہے
لَا
نہیں
يَقْدِرُ
قدرت رکھتا
عَلَىٰ
پر
شَىْءٍ
کسی چیز پر
وَهُوَ
اور وہ
كَلٌّ
بوجھ ہے
عَلَىٰ
پر
مَوْلَىٰهُ
اپنے آقا پر
أَيْنَمَا
جہاں کہیں
يُوَجِّههُّ
وہ بھیجتا ہے اس کو
لَا
نہیں
يَأْتِ
لاتا
بِخَيْرٍۖ
کوئی بھلائی
هَلْ
کیا
يَسْتَوِى
برابر ہوسکتا ہے
هُوَ
وہ
وَمَن
اور وہ جو
يَأْمُرُ
حکم دیتا ہے
بِٱلْعَدْلِۙ
انصاف کا
وَهُوَ
اور وہ
عَلَىٰ
پر
صِرَٰطٍ
راستے پر
مُّسْتَقِيمٍ
سیدھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے کیا برابر ہوجائے گا ہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے، ف۱۶۷)

احمد علی Ahmed Ali

اور الله ایک او رمثال دو آدمیوں کی بیان فرماتا ہے ایک ان میں سے گونگا ہے کچھ بھی نہیں کر سکتااور اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے جہاں کہیں اسے بھیجے اس سے کوئی خوبی کی بات بن نہ آئے کیا یہ اور وہ برابر ہے جو لوگوں کو انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اللہ تعالٰی ایک اور مثال بیان فرماتا ہے (١) دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے (٢) اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہو سکتے ہیں؟

٧٦۔١ یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔
٧٦۔٢ اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالٰی اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہو سکتے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اللہ دو آدمیوں کی مثال پیش کرتا ہے جن میں سے ایک گونگا ہے کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے وہ اسے جدھر بھی بھیجے وہ کسی بھلائی کے ساتھ واپس نہیں آتا اور دوسرا وہ ہے جو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے کیا وہ (پہلا) اور یہ (دوسرا) برابر ہو سکتے ہیں؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اللہ نے ایک اور مثال ان دو انسانوں کی بیان کی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں ہے بلکہ وہ خود اپنے مولا کے سر پر ایک بوجھ ہے کہ جس طرف بھی بھیج دے کوئی خیر لے کر نہ آئے گا تو کیا وہ اس کے برابر ہوسکتا ہے جو عدل کا حکم دیتا ہے اور سیدھے راستہ پر گامزن ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اللہ نے دو (ایسے) آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے وہ (مالک) اسے جدھر بھی بھیجتا ہے کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ (گونگا) اور (دوسرا) وہ شخص جو (اس منصب کا حامل ہے کہ) لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے (دونوں) برابر ہو سکتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

گونگے بت مشرکین کے معبود
ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کرسکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس ایک برابر ہوجائیں گے ؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا حضرت عثمان (رض) کا غلام تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد حضرت عثمان بن عفان (رض) ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد حضرت عثمان (رض) کا وہ غلام ہے جس پر آپ خرچ کرتے تھے جو آپ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔