Skip to main content

رَّبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِىْ نُفُوْسِكُمْۗ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا

رَّبُّكُمْ
رب تمہارا
أَعْلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
فِى
میں ہے
نُفُوسِكُمْۚ
تمہارے نفسوں
إِن
اگر
تَكُونُوا۟
تم ہوگے
صَٰلِحِينَ
نیک
فَإِنَّهُۥ
تو یقیناً وہ
كَانَ
ہے
لِلْأَوَّٰبِينَ
رجوع کرنے والوں کے لئے
غَفُورًا
بخشش فرمانے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وه تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تمہارا پروردگار بہتر جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح اور نیک کردار ہوئے تو وہ توبہ و انابہ کرنے والوں کے لئے بڑا ہی بخشنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تمہارا پروردگار تمہارے دلوں کے حالات سے خوب باخبر ہے اور اگر تم صالح اور نیک کردار ہو تو وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بہت بخشنے والا بھی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تمہارا رب ان (باتوں) سے خوب آگاہ ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں، اگر تم نیک سیرت ہو جاؤ تو بیشک وہ (اﷲ اپنی طرف) رجوع کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

گناہ اور استغفار
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہوجاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے، اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔ کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب عشا کی درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں جو ہر گناہ کے بعد توبہ کرلیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کرلیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں۔ دعا (اللہم اغفرلی ما اصبت فی مجلسی ھذا) ابن دریر فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کرلیا کریں۔ معصیت سے طاعت کی طرف آ جایا کریں۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کر کے اس کے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں اب فلان اور جیسے قرآن میں ہے آیت ( اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ 25؀ۙ ) 88 ۔ الغاشية ;25) ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے دعا (ائبون تائبون عابدون لربنا حامدون) لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے۔