فرما دیجئے: اگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں تو وہ (مل کر) مالکِ عرش تک پہنچنے (یعنی اس کے نظامِ اقتدار میں دخل اندازی کرنے) کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرلیتے،
English Sahih:
Say, [O Muhammad], "If there had been with Him [other] gods, as they say, then they [each] would have sought to the Owner of the Throne a way."
1 Abul A'ala Maududi
اے محمدؐ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے
2 Ahmed Raza Khan
تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے
3 Ahmed Ali
کہہ دو اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا وہ کہتے ہیں تب تو انہوں نے عرش والے تک کوئی راستہ نکال لیا ہوتا
4 Ahsanul Bayan
کہہ دیجئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وہ اب تک مالک عرش کی جانب راہ ڈھونڈ نکالتے (١)
٤٢۔١ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر لشکر کشی کر کے غلبہ و قوت حاصل کر لیتا ہے، اسی طرح دوسرے معبود بھی اللہ پر غلبے کی کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اور اب تک ایسا نہیں ہوا، جب کہ ان معبودوں کو پوجتے ہوئے صدیاں گزر گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں، کوئی با اختیار ہی نہیں، دوسرے معنی ہیں کہ وہ اب تک اللہ کا قرب حاصل کر چکے ہوتے اور یہ مشرکین جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی وہ اللہ کے قریب کر چکے ہوتے
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے
6 Muhammad Junagarhi
کہہ دیجیئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وه اب تک مالک عرش کی جانب راه ڈھونڈ نکالتے
7 Muhammad Hussain Najafi
(اے پیغمبر(ص)!) آپ کہہ دیجیے کہ اگر اس (خدا) کے ساتھ اور خدا بھی ہوتے جیساکہ یہ (کافر) کہتے ہیں تو وہ ضرور مالکِ عرش تک پہنچنے کا کوئی راستہ تلاش کرتے (اور مقابلہ تک نوبت پہنچ جاتی)۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
تو آپ کہہ دیجئے کہ ان کے کہنے کے مطابق اگر خدا کے ساتھ کچھ اور خدا بھی ہوتے تو اب تک صاحب هعرش تک پہنچنے کی کوئی راہ نکال لیتے
9 Tafsir Jalalayn
کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔
10 Tafsir as-Saadi
جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان کئے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ہیں جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿قُل﴾ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لئے ہیں۔ ﴿لَّوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ ﴾ ،، اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں،، یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿إِذًا لَّابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا ﴾ ،، تو نکالتے صاحب عرض کی طرف کوئی راستہ،، یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعلایٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟ اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ﴾ )نبی اسرائیل : 17؍57( ،، جن لوگوں کو یہ پکارٹے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔،، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ﴾ (الفرقان : 25؍17،18) ،، اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں۔،، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لئے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آجاتے اور جو غالب آجاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انہیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انہیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انہوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿مَا اتَّخَذَ اللّٰـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾ (المومنون : 23؍91) ،، اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہوجاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔۔
11 Mufti Taqi Usmani
keh do kay : agar Allah kay sath aur bhi khuda hotay jaisay kay yeh log kehtay hain to woh arsh walay ( haqeeqi khuda ) per charrhai kernay kay liye koi raasta peda kerletay .
12 Tafsir Ibn Kathir
لوگو عقل کے ناخن لو جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الہٰی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الہٰی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الہٰی دلوا دیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ احمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔