Skip to main content

وَقَالُوْا لَنْ نُّـؤْمِنَ لَـكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا ۙ

وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
لَن
ہم ہرگز نہ
نُّؤْمِنَ
ایمان لائیں گے
لَكَ
تیرے لئے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَفْجُرَ
تو جاری کرے
لَنَا
ہمارے لئے
مِنَ
سے
ٱلْأَرْضِ
زمین
يَنۢبُوعًا
ایک چشمہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بولے کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو

احمد علی Ahmed Ali

اور کہا ہم تمہیں ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین میں سے کوئی چشمہ جاری کر دے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے کہا (١) کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان لانے کے نہیں تا وقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کر دیں۔

٩٠۔١ ایمان لانے کے لئے قریش مکہ نے یہ مطالبات پیش کئے

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب وغریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کردو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان ﻻنے کے نہیں تاوقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور انہوں نے کہا ہم اس وقت تک آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک آپ یہ کام کرکے نہ دکھا دیں (مثلاً) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کریں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہم تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمارے لئے زمین سے چشمہ نہ جاری کردو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قریش کے امراء کی آخری کوشش
ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ربیعہ کے جو بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ابو سفیان بن حرب اور بنی عبدالدار قبیلے کے دو شخص اور ابو البحتری بنی اسد کا اور اسود بن مطلب بن اسعد اور زمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابو جہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ اور امیہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نبیہ اور منبہ سہمی حجاج کے لڑکے، یہ سب یا ان میں سے کچھ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے بھئی کسی کو بھیج کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلوا لو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلہ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے چناچہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان لوگوں کا ہر وقت خیال رہتا تھا آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آجائیں اس لئے آپ فورا ہی تشریف لائے۔ قریشیوں نے آپ کو دیکھتے ہی کہا سنئے آج ہم آپ پر حجت پوری کردیتے ہیں تاکہ پھر ہم پر کسی قسم کا الزام نہ آئے اسی لئے ہم نے آپ کو بلوایا ہے واللہ کسی نے اپنی قوم کو اس مصیبت میں نہیں ڈالا ہوگا جو مصیبت تم نے ہم پر کھڑی کر رکھی ہے، تم ہمارے باپ دادوں کو گالیاں دیتے ہو ہمارے دین کو برا کہتے ہو ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہو ہمارے مبعودوں کو برا کہتے ہو تم نے ہم میں تفریق ڈال دی لڑائیاں کھڑی کردیں واللہ آپ نے ہمیں کسی برائی کے پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، اب صاف صاف سن لیجئے اور سوچ سمجھ کر جواب دیئجے اگر آپ کا ارادہ ان تمام باتوں سے مال جمع کرنے کا ہے تو ہم موجود ہیں ہم خود آپ کو اس قدر مال جمع کردیتے ہیں کہ آپ کے برابر ہم میں سے کوئی مالدار نہ ہو اور اگر آپ کا ارادہ اس سے یہ ہے کہ آپ ہم پر سرداری کریں تو لو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں ہم آپ کی سرداری کو تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تابعداری منظور کرتے ہیں۔ اگر آپ بادشاہت کے طالب ہیں تو واللہ ہم آپ کی بادشاہت کا اعلان کردیتے ہیں اور اگر واقعی آپ کے دماغ میں کوئی فتور ہے، کوئی جن آپ کو ستا رہا ہے تو ہم موجود ہیں دل کھول کر رقمیں خرچ کر کے تمہارا علاج معالجہ کریں گے یہاں تک کہ آپ کو شفا ہوجائے یا ہم معذور سمجھ لئے جائیں۔ یہ سب سن کر سردار رسولاں شفیع پیغمبراں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کہ سنو بحمد اللہ مجھے کوئی دماغی عارضہ یا خلل یا آسیب نہیں نہ میں اپنی اس رسالت کی وجہ سے مالدار بننا چاہتا ہوں نہ کسی سرداری کی طمع ہے نہ بادشاہ بننا چاہتا ہوں بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف اپنا رسول برحق بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبریاں سنا دوں اور ڈرا دھمکا دوں۔ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے، تمہاری سچی خیر خواہی کی، تم اگر قبول کرلو گے تو دونوں جہان میں جہان نصیب دار بن جاؤ گے اور اگر نامنظور کردو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ جناب باری تعالیٰ شانہ مجھ میں اور تم میں سچا فیصلہ فرما دے (او کماقال)
اب سرداران قوم نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کو ہماری ان باتوں میں سے ایک بھی منظور نہیں تو اب اور سنو یہ تو خود تمہیں بھی معلوم ہے کہ ہم سے زیادہ تنگ شہر کسی اور کا نہیں، ہم سے زیادہ کم مال کوئی قوم نہیں، ہم سے پیٹ پیٹ کر بہت کم روزی حاصل کرنے والی بھی کوئی قوم نہیں تو آپ اپنے رب سے جس نے آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا ہے دعا کیجئے کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹا لے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہوجائے، ہمارے شہروں کو وسعت ہوجائے۔ اس میں نہریں چشمے اور دریا جاری ہوجائیں جیسے کہ شام اور عراق میں ہیں اور یہ بھی دعا کیجئے کہ ہمارے باپ دادا زندہ ہوجائیں اور ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو وہ ہم میں ایک بزرگ اور سچا شخص تھا ہم اس سے پوچھ لیں گے وہ آپ کی بابت جو کہہ دے گا ہمیں اطمینان ہوجائے گا اگر آپ نے یہ کردیا تو ہمیں آپ کی رسالت پر ایمان آجائے گا اور ہم آپ کی دل سے تصدیق کرنے لگیں گے اور آپ کی بزرگی کے قائل ہوجائیں گے۔ آپ نے فرمایا میں ان چیزوں کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔ ان میں سے کوئی کام میرے بس کا نہیں۔ میں تو اللہ کی باتیں تمہیں پہنچانے کے لئے آیا ہوں۔ تم قبول کرلو، دونوں جہان میں خوش رہو گے۔ نہ قبول کرو گے تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کے حکم پر منتظر رہوں گا یہاں تک کہ پروردگار عالم مجھ میں اور تم میں فیصلہ فرما دے۔ انہوں نے کہا اچھا یہ بھی نہ سہی لیجئے ہم خود آپ کے لئے ہی تجویز کرتے ہیں آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ کوئی فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کر دے آپ کی طرف سے ہمیں جواب دے اور اس سے کہہ کر آپ اپنے لئے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوا لیجئے تاکہ خود آپ کی حالت تو سنور جائے بازاروں میں چلنا پھرنا ہماری تلاش معاش میں نکلنا یہ تو چھوٹ جائے۔ یہ اگر ہوجائے تو ہم مان لیں گے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کی عزت ہے اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا نہ میں یہ کروں نہ اپنے رب سے یہ طلب کروں نہ اس کے ساتھ میں بھیجا گیا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بشیر و نذیر بنایا ہے بس اور کچھ نہیں۔ تم مان لو تو دونوں جہان میں اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو نہ سہی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا پروردگار میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ چاہے نہ کرے۔ مشرکین نے کہا سنئے کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کردیتا اور یہ بھی بتادیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہئے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں۔ ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کچھ کہنا سننا تھا کہہ سن چکے اور آپ نے ہماری واجبی اور انصاف کی بات بھی نہیں مانی اب کان کھول کر ہوشیار ہو کر سن لیجئے کہ ہم آپ کو اس حالت میں آزاد نہیں رکھ سکتے اب یا تو ہم آپ کو ہلاک کردیں گے یا آپ ہمیں تباہ کردیں کوئی کہنے لگا ہم تو فرشتوں کو پوجتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں کسی نے کہا جب تک تو اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو کھلم کھلا ہمارے پاس نہ لائے ہم ایمان نہ لائیں گے۔ پھر مجلس برخاست ہوئی۔ عبداللہ بن ابی، امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آب کی پھوپھی حضرت عاتکہ بن عبدالمطلب کا لڑکا تھا آپ کے ساتھ ہو لیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہ کیا پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہ کیا پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے تھے وہ مانگا وہ بھی آپ نے یہ کیا اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاؤں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بنا کر نہ لائیں۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے۔ گئے تو آپ بڑے شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری کچھ مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپنے دیکھی بڑے ہی مغموم ہو کر واپس اپنے گھر آئے، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ بات یہ ہے کہ ان کی یہ تمام باتیں بطور کفر وعناد اور بطور نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کے تھیں ورنہ اگر ایمان لانے کے لئے نیک نیتی سے یہ سوالات ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ معجزے دکھا دیتاچنانچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اگر آپ کی چاہت ہو تو جو یہ مانگتے ہیں میں دکھا دوں لیکن یہ یاد رہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں ان پر توبہ کی قبولیت کا اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ اللہ اپنے نبی رحمت اور نبی توبہ پر درود وسلام بہت بہت نازل فرمائے اسی بات اور اسی حکمت کا ذکر آیت (وما منعنا ان نرسل بالایات) الخ میں اور آیت ( وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا ۝) 25 ۔ الفرقان ;7) میں بھڈ ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے بس میں ہیں اور یہ سب ممکن ہے لیکن اسی وجہ سے کہ ان کے ظاہر ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو پھر ہم چھوڑا نہیں کرتے۔ ہم ان نشانات کو روک رکھتے ہیں اور ان کفار کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ان کا آخر ٹھکارنا جہنم بنا رکھا ہے۔ پس ان کا سوال تھا کہ ریگستان عرب میں نہریں چل پڑیں دریا ابل پڑیں وغیرہ ظاہر ہے کہ ان میں کوئی کام بھی اس قادر وقیوم اللہ پر بھاری نہیں سب کچھ اس کی قدرت تلے اور اس کے فرمان تلے ہے۔ لیکن وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ ازلی کافر ان معجزوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لانے کے۔ جیسے فرمان ہے ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۝ ۙ ) 10 ۔ یونس ;96) یعنی جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے انہیں باوجود تمام تر معجزات دیکھ لینے کے بھی ایمان نصیب نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ المناک عذابوں کا معائنہ نہ کرلیں۔ ولو اننا الخ میں فرمایا کہ اے نبی ان کی خواہش کے مطابق اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل فرمائیں اور مردے بھی ان سے باتیں کرلیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ غیب کی تمام چیز کھلم کھلا ان کے سامنے ظاہر کردیں تو بھی یہ کافر بغیر مشیت الہٰی ایمان لانے کے نہیں ان میں سے اکثر جہالت کے پتلے ہیں۔ اپنے لئیے دریا طلب کرنے کے بعد انہوں نے کہا اچھا آپ ہی کے لئے باغات اور نہریں ہوجائیں۔
پھر کہا کہ اچھا یہ بھی نہ سہی تو آپ کہتے ہی ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا تو اب آج ہی ہم پر اس کے ٹکڑے گرا دیئجے چناچہ انہوں نے خود بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی اے اللہ اگر یہ سب کچھ تیری جانب سے ہی برحق ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ الخ۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہی خواہش کی تھی جس بنا پر ان پر سائبان کے دن کا عذاب اترا۔ لیکن چونکہ ہمارے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمۃ العالمین اور نبی التوبۃ تھے آپ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہلاکت سے بچا لے ممکن ہے یہ نہیں تو ان کی اولادیں ہی ایمان قبول کرلیں، توحید اختیار کرلیں اور شرک چھوڑ دیں۔ آپ کی یہ آرزو پوری ہوئی، عذاب نہ اترا۔ خود ان میں سے بھی بہت سوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی یہاں تک کہ عبداللہ بن امیہ جس نے آخر میں حضرت کے ساتھ جا کر آپ کو باتیں سنائی تھیں اور ایمان نہ لانے کی قسمیں کھائیں تھیں وہ بھی اسلام کے جھنڈے تلے آئے (رض)
زخرف سے مراد سونا ہے بلکہ ابن مسعود (رض) کی قرأت میں لفظ من ذہب ہے۔ کفار کا اور مطالبہ یہ تھا کہ تیرے لئے سونے کا گھر ہوجائے یا ہمارے دیکھتے ہوئے تو سیڑھی لگا کر آسمان پر پہنچ جائے اور وہاں سے کوئی کتاب لائے جو ہر ایک کے نام کی الگ الگ ہو راتوں رات ان کے سرہانے وہ پرچے پہنچ جائیں ان پر ان کے نام لکھے ہوئے ہوں اس کے جواب میں حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلتی وہ اپنی سلطنت اور مملکت کا تنہا مالک ہے جو چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے تمہاری منہ مانگی چیز ظاہر کرے نہ کرے یہ اس کے اختیار کی بات ہے میں تو صرف پیغام رب پہنچانے والا ہوں میں نے اپنا فرض ادا کردیا احکام الہٰی تمہیں پہنچا دئیے اب جو تم نے مانگا وہ اللہ کی بس کی بات ہے نہ کہ میرے بس کی۔ مسند احمد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں بطحا مکہ کی بابت مجھ سے فرمایا گیا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے سونے کا بنا دوں میں نے گزارش کی کہ نہیں اے اللہ میری تو یہ چاہت ہے کہ ایک روز پیٹ بھرا رہوں اور دوسرے روز بھوکا رہوں میں تیری طرف جھکوں، تضرع اور زاری کروں اور بکثرت تیری یاد کروں۔ بھرے پیٹ ہوجاؤں تو تیری حمد کروں، تیرا شکر بجا لاؤں۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی (رح) نے اسے ضعیف کہا ہے۔