Skip to main content

وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۗ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ۚ

وَإِن
اور نہیں
مِّنكُمْ
کوئی تم میں سے
إِلَّا
مگر
وَارِدُهَاۚ
اس میں داخل ہونے والا
كَانَ
ہے
عَلَىٰ
اوپر
رَبِّكَ
تیرے رب کے
حَتْمًا
ہو کر رہنے والا۔ طے شدہ
مَّقْضِيًّا
ایک فیصلہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو یہ تیرے رب پر لازم مقرر کیا ہوا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، طے شدہ امر ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے واﻻ ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو (جو وہاں سے نہ گزرے) یہ حتمی طے شدہ فیصلہ ہے جس کا پورا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمہ ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے جہّنم کے کنارے حاضر نہ ہونا ہو کہ یہ تمہارے رب کا حتمی فیصلہ ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے مگر اس کا اس (دوزخ) پر سے گزر ہونے والا ہے، یہ (وعدہ) قطعی طور پر آپ کے رب کے ذمہ ہے جو ضرور پورا ہوکر رہے گا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جہنم میں دخول یا ورود ؟
مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقوے کے نجات پاجائیں گے۔ میں نے حضرت جابر (رض) سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔ اور روایت میں ہے کہ داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا۔ خالد بن معدان (رح) فرماتے ہیں کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے کہیں گے اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آرہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ کو ٹھنڈی کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو روتا دیکھ کر۔ آپ نے فرمایا مجھے تو آیت ( وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ ) 19 ۔ مریم ;71) ، یاد آگئی اور رونا آگیا۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں ؟ اس وقت آپ بیمار تھے۔ حضرت ابو میسرہ (رح) جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے ؟ تو فرمایا یہی آیت ہے۔ یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں ؟ ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں یقینا معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہوجاؤ گے ؟ انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں پھر فرمایا ہمارے لئے ہنسی خوشی کیسی ؟ یہ سن کر اس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔ نافع بن ارزق حضرت ابن عباس (رض) کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21 ۔ الأنبیاء ;98) پیش کر کے فرمایا دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں ؟ پھر آپ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی ( يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ 98؀) 11 ۔ ھود ;98) اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں ؟ پس اب غور کرو کہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں ؟ غالبا تجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لئے کہ تو اس کا منکر ہے یہ سن کر نافع کھسیانہ ہو کر ہنس دیا۔ یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت ( وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86؀ۘ) 19 ۔ مریم ;86) بھی پڑھی تھی۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ اللہم اخرجنی من النار سالمنا وادخلنی الجنۃ غانما اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ابو داؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یہ ظالم لوگ ہیں اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لئے اور گہنگاروں کے لئے بھی ورود کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں وارد تو سب ہوں گے پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے، بعض ہوا کی طرح، بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پرنور ہوگا گرتا پڑتا نجات پائے گا۔ پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے ٹکٹ ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے الخ۔ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہوجائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اسے اللہ سلامت رکھ الہٰی بچا لے بخاری ومسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ حضرت کعب (رح) کا بیان ہے کہ جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی۔ جب سب نیک وبد جمع ہوجائیں گے تو حکم باری ہوگا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مومن صاف بچ جائیں گے۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہوجاتا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایمان دار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا یہ سن کر حضرت حفصہ (رض) نے کہا یہ کیسے ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، تو آپ نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ متقی لوگ اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جس کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر۔ اس سے مراد یہی آیت ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی (رض) کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لئے رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ تشریف لے چلے آپ نے فرمایا کہ جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے میں اپنے مومن بندوں کو اس میں اس لئے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہوجائے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے بھی یہی فرمایا کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص سورة قل ہو اللہ احد دس مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنالیں گے آپ نے جواب دیا اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لے گا۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے۔ اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لئے مسلمان لشکروں کی، ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لئے پہرہ دے وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے اور روایت میں ہے سات ہزار گنا۔ ابو داؤد میں ہے کہ نماز روزہ اور ذکر اللہ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس دن بہت سے مرد عورت اس پر سے پھسل جائیں گے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہوجائیں گے، ہاں کافر گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائیکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء بھی۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں سے نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہوگی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہوگی۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہوگا وہ اول نکلیں گے، پھر اس سے کم والے، یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے بھی کمی والے، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں لا الہ الا اللہ کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکا ہے۔ یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آچکی ہیں۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہوجائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔