Skip to main content

اَفَرَءَيْتَ الَّذِىْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ۗ

أَفَرَءَيْتَ
کیا پھر دیکھا تم نے
ٱلَّذِى
اس شخص کو
كَفَرَ
جس نے کفر کیا
بِـَٔايَٰتِنَا
ہماری آیات کے ساتھ
وَقَالَ
اور کہا
لَأُوتَيَنَّ
البتہ ضرور دیاجائے گا
مَالًا
مال
وَوَلَدًا
اور اولاد

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے

احمد علی Ahmed Ali

کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں) ملے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال واوﻻد ضرور ہی دی جائے گی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال ضرور دیا جائے گا اور اولاد بھی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور یہ کہنے لگا کہ ہمیں قیامت میں بھی مال اور اولاد سے نوازا جائے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا: مجھے (قیامت کے روز بھی اسی طرح) مال و اولاد ضرور دیئے جائیں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عیار مقروض اور حضرت خباب۔
حضرت خباب بن ارت (رض) فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا ہے کہ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی ؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول قرار لے لیا ؟ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟ ہم نے کہا ہاں ہے تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں فردا تک اتریں۔ ولدا کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم۔ اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے ؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟ چناچہ آیت ( لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا 87؀ۘ) 19 ۔ مریم ;87) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہوجانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہوگا ابن مسعود (رض) کی قرأت میں ( ونرثہ ماعندہ) ہے۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا۔