Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَاۤءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ

مَثَلُھُمْ
مثال ان کی
كَمَثَلِ
جیسے مثال کی
الَّذِى
اس شخص کی
اسْـتَوْقَدَ
جس نے جلائی
نَارًا
آگ
فَلَمَّآ
پھر جب
اَضَاۗءَتْ
اس نے روشن کردیا
مَا حَوْلَهٗ
ماحول اس کا
ذَھَبَ
لے گیا
اللّٰهُ
اللہ
بِنُوْرِهِمْ
نور ان کا
وَ
اور
تَرَكَھُمْ
چھوڑ دیا ان کو
فِىْ ظُلُمٰتٍ
اندھیروں میں
لَّا
نہیں
يُبْصِرُوْنَ
وہ دیکھ پاتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا

ابوالاعلی مودودی

اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا

احمد رضا خان

ان کی کہاوت اس طرح ہے جس نے آگ روشن کی۔ تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا -

احمد علی

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب آگ نے اس کے آس پاس کو روشن کر دیا تو الله نے ان کی روشنی بجھا دی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑا کہ کچھ نہیں دیکھتے

جالندہری

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

محمد جوناگڑھی

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے

محمد حسین نجفی

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی۔ اور جب آگ نے اس کے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کی روشنی (بینائی) سلب کر لی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا اب انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

علامہ جوادی

ان کی مثال اس شخص کی ہے جس نے روشنی کے لئے آگ بھڑکائی اور جب ہر طرف روشنی پھیل گئی تو خدا نے اس کے نور کو سلب کرلیا اور اب اسے اندھیرے میں کچھ سوجھتا بھی نہیں ہے

طاہر القادری

ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے،

تفسير ابن كثير

شک، کفر اور نفاق کیا ہے ؟
مثال کو عربی میں مثیل بھی کہتے ہیں اس کی جمع امثال آتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے آیت (وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت ;43) یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جنہیں صرف عالم ہی سمجھتے ہیں۔ اس آیت شریف کا مطلب یہ ہے کہ جو منافق گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور اندھے پن کو بینائی کے بدلے مول لیتے ہیں ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اندھیرے میں آگ جلائی اس کے دائیں بائیں کی چیزیں اسے نظر آنے لگیں، اس کی پریشانی دور ہوگئی اور فائدے کی امید بندھی کہ دفعتہ آگ بجھ گئی اور سخت اندھیرا چھا گیا نہ تو نگاہ کام کرسکے، نہ راستہ معلوم ہو سکے اور باوجود اس کے وہ شخص خود بہرا ہو۔ کسی کی بات کو نہ سن سکتا ہو۔ گونگا ہو کسی سے دریافت نہ کرسکتا ہو، اندھا ہو جو روشنی سے کام نہ چلا سکتا ہو۔ اب بھلا یہ راہ کیسے پا سکے گا ؟ ٹھیک اسی طرح یہ منافق بھی ہیں کہ ہدایت چھوڑ کر راہ گم کر بیٹھے اور بھلائی چھوڑ کر برائی کو چاہنے لگے۔ اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے ایمان قبول کر کے کفر کیا تھا۔ جیسے قرآن کریم میں کئی جگہ یہ صراحت موجود ہے واللہ اعلم۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں سدی سے یہی نقل کیا ہے۔ پھر کہا ہے کہ یہ تشبیہ بہت ہی درست اور صحیح ہے، اس لئے کہ اولاً تو ان منافقوں کو نور ایمان حاصل ہوا پھر ان کے نفاق کی وجہ سے وہ چھن گیا اور یہ حیرت میں پڑگئے اور دین گم ہوجانے کی حیرت سے بڑی حیرت اور کیا ہوگی ؟ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ جن کی یہ مثال بیان کی گئی ہے انہیں کسی وقت بھی ایمان نصیب ہی نہ ہوا تھا کیونکہ پہلے فرمان الٰہی گزر چکا ہے کہ آیت (وماھم بمومنین) یعنی گو یہ زبان سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں مگر حقیقتاً یہ ایماندار نہیں۔ درحقیقت اس آیۃ مبارکہ میں ان کے کفر و نفاق کے وقت کی خبر دی گئی ہے اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس حالت کفر و نفاق سے پہلے کبھی انہیں ایمان حاصل ہی نہیں ہوا۔ ممکن ہے ایمان لائے ہوں، پھر اس سے ہٹ گئے ہوں اور اب دلوں میں مہریں لگ گئی ہوں دیکھئے دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے آیت (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ ) 63 ۔ المنافقون ;3) یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مثال میں روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے یعنی کلمہ ایمان کے ظاہر کرنے کی وجہ سے دنیا میں کچھ نور ہوگیا، کفر کے چھپانے کی وجہ سے پھر آخرت کے اندھیروں نے گھیر لیا۔ ایک جماعت کی مثال شخص واحد سے اکثر دی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اور جگہ ہے آیت (رَاَيْتَهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِيْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِـنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَي الْخَــيْرِ ) 33 ۔ الاحزاب ;19) تو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف آنکھیں پھیر پھیر کر اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شخص جو سکرات موت میں ہو۔ اور اس آیت کو بھی دیکھئے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) 31 ۔ لقمان ;28) تم سب کا پیدا کرنا اور مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کردینا ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو دوبارہ زندہ کرتا۔ تیسری جگہ توراۃ سیکھ کر عملی عقیدہ اس کے مطابق نہ رکھنے والوں کی مثال میں کہا گیا ہے آیت (كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا) 62 ۔ الجمعہ ;5) گدھے کی مانند ہیں جو کتابیں لادے ہوئے ہو۔ سب آیتوں میں جماعت کی مثال ایک ہی دی گئی ہے۔ اسی طرح مذکورہ بالا آیت میں منافقوں کی جماعت کی مثال ایک شخص سے دی گئی۔ بعض کہتے ہیں تقدیر کلام یوں ہے۔ آیت (مثل قصتھم کمثل قصۃ الذین استوقدوا نارا) یعنی ان کے واقعہ کی مثال ان لوگوں کے واقعہ کی طرح ہے جو آگ روشن کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ آگ جلانے والا تو ایک ہے۔ لیکن مجموعی طور پر پوری جماعت اس سے محظوظ ہوتی ہے جو اس کے ساتھ ہے اور اس قسم کا اور الذی یہاں الذین کے معنی میں ہیں جیسے کہ شاعروں کے شعروں میں بھی میں کہتا ہوں اس مثال میں بھی واحد کے صیغہ کے بعد ہی جمع کے صیغہ بھی ہیں بنورھم اور ترکھم اور لا یرجعون ملاحظہ ہوں۔ اس طرح کلام میں اعلیٰ فصاحت اور بہترین خوبی بھی آگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روشنی لے گیا اس سے مطلب یہ ہے کہ جو نور نفع دینے والا تھا وہ تو ان سے ہٹا لیا اور جس طرح آگ کے بجھ جانے کے بعد تپش اور دھواں اور اندھیرا رہ جاتا ہے اسی طرح ان کے پاس نقصان پہنچانے والی چیز یعنی شک و کفر و نفاق رہ گیا تو راہ راست کو نہ خود دیکھ سکیں نہ دوسرے کی بھلی بات سن سکیں نہ کسی سے بھلائی کا سوال کرسکیں۔ اب پھر لوٹ کر ہدایت پر آنا محال ہوگیا۔ اس کی تائید میں مفسرین کے اقوال سنئے۔ حضرت ابن عباس، ابن مسعود اور بعض اور صحابہ رضوان اللہ علیہم فرماتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کے بعد کچھ لوگ اسلام لے آئے مگر پھر منافق بن گئے۔ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اندھیرے میں ہو پھر آگ جلا کر روشنی حاصل کرے اور آس پاس کی بھلائی برائی کو سمجھنے لگے اور معلوم کرے کہ کس راہ میں کیا ہے ؟ کہ اچانک آگ بجھ جائے روشنی جاتی رہے۔ اب معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس راہ میں کیا کیا ہے ؟ اسی طرح منافق شرک و کفر کی ظلمت میں تھے پھر اسلام لا کر بھلائی برائی یعنی حلال حرام وغیرہ سمجھنے لگے مگر پھر کافر ہوگئے اور حرام و حلال خیرو شر میں کچھ تمیز نہ رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں نور سے مراد ایمان اور ظلمت سے مراد ضلالت و کفر ہے یہ لوگ ہدایت پر تھے لیکن پھر سرکشی کر کے بہک گئے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں ایمانداری اور ہدایت کی طرف رخ کرنے کو اس مثال میں آس پاس کی چیز کے روشنی کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت عطا خراسانی کا قول ہے کہ منافق کبھی کبھی بھلائی کو دیکھ لیتا ہے اور پہچان بھی لیتا ہے لیکن پھر اس کے دل کی کور چشمی اس پر غالب آجاتی ہے۔ عکرمہ، عبدالرحمن، حسن، سدی اور ربیع سے بھی یہی منقول ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں منافقوں کی یہی حالت ہے کہ ایمان لاتے ہیں اور اس کی پاکیزہ روشنی سے ان کے دل جگمگا اٹھتے ہیں جیسے آگ کے جلانے سے آس پاس کی چیزیں روشن ہوجاتی ہیں لیکن پھر کفر اس روشنی کو کھو دیتا ہے جس طرح آگ کا بجھ جانا پھر اندھیرا کردیتا ہے۔ مندرجہ بالا اقوال تو ہماری اس تفسیر کی تائید میں تھے کہ جن منافقوں کی یہ مثال بیان کی گئی ہے وہ ایمان لا چکے تھے پھر کفر کیا۔ اب امام ابن جریر کی تائید میں جو تفسیر ہے اسے بھی سنئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ مثال منافقوں کی ہے کہ وہ اسلام کی وجہ سے عزت پالیتے ہیں۔ مسلمانوں میں نکاح، ورثہ اور تقسیم مال غنیمت میں شامل ہوتے ہیں لیکن مرتے ہی یہ عزت چھن جاتی ہے جس طرح آگ کی روشنی آگ بجھتے ہی جاتی رہتی ہے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں جب منافق آیت (لا الہ الا اللہ) پڑھتا ہے تو دل میں نور پیدا ہوتا ہے پھر جہاں شک کیا وہ نور گیا، جس طرح لکڑیاں جب تک جلتی رہیں روشنی رہی، جہاں بجھ گئیں نور گیا۔ ضحاک فرماتے ہیں نور سے مراد یہاں ایمان ہے جو ان کی زبانوں پر تھا۔ قتادہ کہتے ہیں آیت (لا الہ الا اللہ) ان کے لئے روشنی کردیتا تھا امن وامان، کھانا پینا، بیوی بچے سب مل جاتے تھے لیکن شک و نفاق ان سے یہ تمام راحتیں چھین لیتا ہے جس طرح آگ کا بجھنا روشنی دور کردیتا ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ آیت (لا الہ الا اللہ) کہنے سے منافق کو (دنیوی نفع مثلاً مسلمانوں میں لڑکے لڑکی کا لین دین، ورثہ کی تقسیم، جان و مال کی حفاظت وغیرہ) مل جاتا ہے لیکن چونکہ اس کے دل میں ایمان کی جڑ اور اس کے اعمال میں خلوص نہیں ہوتا اس لئے موت کے وقت وہ سب منافع سلب ہوجاتے ہیں جیسے آگ کی روشنی بجھ جائے۔ ابن عباس فرماتے ہیں اندھیروں میں چھوڑ دینا سے مراد مرنے کے بعد عذاب پانا ہے۔ یہ لوگ حق کو دیکھ کر زبان سے اس کا اس کا اقرار ہیں اور ظلمت کفر سے نکل جاتے ہیں لیکن پھر اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے ہدایت اور حق پر قائم رہنا ان سے چھن جاتا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ اندھیرے سے مراد ان کا نفاق ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں موت کے وقت منافقین کی بد اعمالیاں اندھیروں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں اور کسی بھلائی کی روشنی ان کے لئے باقی نہیں رہتی جس سے ان کی توحید کی تصدیق ہو۔ وہ بہرے ہیں، حق کے سننے اور راہ راست کو دیکھنے اور سمجھنے سے اندھے ہیں۔ ہدایت کی طرف لوٹ نہیں سکتے۔ نہ انہیں توبہ نصیب ہوتی ہے نہ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔