البقرہ آية ۱۷۷
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَلٰـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۤٮِٕکَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِۙ وَالسَّاۤٮِٕلِيْنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِى الْبَأْسَاۤءِ وَالضَّرَّاۤءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِۗ اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۗ وَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ
طاہر القادری:
نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں،
English Sahih:
Righteousness is not that you turn your faces toward the east or the west, but [true] righteousness is [in] one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves; [and who] establishes prayer and gives Zakah; [those who] fulfill their promise when they promise; and [those who] are patient in poverty and hardship and during battle. Those are the ones who have been true, and it is those who are the righteous.
1 Abul A'ala Maududi
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں
2 Ahmed Raza Khan
کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں،
3 Ahmed Ali
یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ نیکی تو یہ ہے جو الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اورفرشتوں اور کتابوں او رنبیوں پر اور ا سکی محبت میں رشتہ دارو ں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے چھڑانے میں مال دے اور نماز پڑھے اور زکوةٰ دے اور جو اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کر لیں اورتنگدستی میں اور بیماری میں اور لڑائی کےوقت صبر کرنے والے ہیں یہی سچے لوگ ہیں اوریہی پرہیزگار ہیں
4 Ahsanul Bayan
ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں (١) بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
١٧٧۔١ یہ آیت قبلے کے ضمن میں ہی نازل ہوئی۔ ایک تو یہودی اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مغربی حصہ ہے) اور نصاری اپنے قبلے کو (جوبیت المقدس کا مشرقی حصہ ہے) بڑی اہمیت دے رہے تھے اور اس پر فخر کر رہے تھے۔ دوسری طرف مسلمان تحویل قبلہ پر چہ مگوئیاں کر رہے تھے جس سے بعض دفعہ رنجیدہ دل ہو جاتے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا مشرق یا مغرب کی طرف رخ کر لینا بذات خود کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے، اصل نیکی تو ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ نے بیان فرمائے اور ان اعمال و اخلاق کو اپنانا ہے جس کی تاکید اس نے فرمائی ہے۔ پھر آگے ان عقائد و اعمال کا بیان ہے۔ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ اسے اپنی ذات و صفات میں یکتا اور تمام عیوب سے پاک قرآن و حدیث میں بیان کردہ تمام صفات باری تعالٰی کو بغیر کسی تاویل کے تسلیم کیا جائے۔ آخرت کے روز جزا ہونے حشر نشر اور جنت اور دوزخ پر یقین رکھا جائے۔ الباساء سے تنگ دستی اور شدت فقر۔ الضراء سے نقصان یابیماری اَلْبَاس سے لڑائی اور اس کی شدت مراد ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر کرنا، یعنی احکامات الٰہی سے انحراف نہ کرنا نہایت کٹھن ہوتا ہے اس لئے ان حالتوں کو خاص طور پر بیان فرمایا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
6 Muhammad Junagarhi
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
نیکی صرف یہی تو نہیں ہے کہ تم (نماز میں) اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو۔ بلکہ (حقیقی) نیکی تو یہ ہے کہ آدمی خدا پر، روزِ آخرت پر، فرشتوں پر، (اللہ کی) کتابوں پر اور سب پیغمبروں پر ایمان لائے۔ اور اس (خدا) کی محبت میں اپنا مال (باوجودِ مال کی محبت کے) رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور (غلاموں، کنیزوں اور مقروضوں کی) گردنیں چھڑانے میں صرف کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے (دراصل) نیک لوگ تو وہ ہوتے ہیں کہ جب کوئی عہد کر لیں تو اپنا عہد و پیمان پورا کرتے ہیں اور تنگ دستی ہو یا بیماری اور تکلیف ہو یا ہنگام جنگ ہو وہ بہرحال ثابت قدم رہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو (سچے) ہیں اور یہی متقی و پرہیزگار ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
نیکی یہ نہیں ہے کہ اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی اس شخص کا حصّہ ہے جو اللہ اور آخرت ملائکہ اور کتاب پر ایمان لے آئے اورمحبت خدا میں قرابتداروں ً یتیموںً مسکینوں ً غربت زدہ مسافروںً سوال کرنے والوں اور غلاموں کی آزادی کے لئے مال دے اور نماز قائم کرے اور زکوِٰ ادا کرے اور جو بھی عہد کرے اسے پوراکرے اور فقر وفاقہ میں اور پریشانیوں اور بیماریوں میں اور میدانِ جنگ کے حالات میں صبرکرنے والے ہوںتویہی لوگ اپنے دعوائے ایمان و احسان میں سچے ہیں اور یہی صاحبان تقویٰ اور پرہیزگار ہیں
9 Tafsir Jalalayn
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
آیت نمبر ١٧٧ تا ١٧٩
ترجمہ : تمام تر اچھائی نماز میں مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے ہی میں نہیں یہ آیت یہود و نصاریٰ کے رد میں نازل ہوئی ہے اس لئے کہ وہ اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے، بلکہ اچھا یعنی نیک وہ شخص ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھنے والا ہو، اور البِرّ کے بجائے البَار بھی پڑھا گیا ہے، اور جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود قرابت داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوالیوں کو دے اور مکاتبوں کو اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز کی پابندی کرے اور فرض زکوٰۃ ادا کرے ما قبل (میں مذکور زکوٰۃ) سے نفلی صدقہ مراد ہے (اور نیک وہ لوگ ہیں) کہ جو اللہ سے یا لوگوں سے عہد کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں اور الصَّابرینَ منصوب بالمدح ہے اور تنگی (یعنی) شدید حاجت کے حاملین اپنے ایمان میں اور نیکی کا دعویٰ کرنے میں سچے ہیں، اور یہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کے بارے میں وصفاً اور فعلاً مماثلت (برابری) فرض کی گئی ہے آزاد آزاد کے بدلے قتل کیا جائے، اور غلام کے عوض (آزاد) قتل نہ کیا جائے، اور غلام، غلام کے عوض اور عورت عورت کے عوض (قتل کی جائے) اور سنت نے بیان کیا کہ مردوں کو عورتوں کے عوض قتل کیا جائے گا، اور یہ کہ دین میں مماثلت کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا مسلمان اگرچہ غلام ہو کافر کے عوض اگرچہ آزاد ہو قتل نہیں کیا جائے گا، ہاں ! قاتلین میں سے کسی کو اپنے مقتول بھائی کے خون کی کچھ معافی دیدی جائے، اس طریقہ سے کہ اس سے قصاص معاف کردیا جائے، اور شئ کی تنکیر بعض ورثاء کی طرف سے قصاص کا مطالبہ اور بعض کی طرف سے قصاص کی معافی کی صورت میں قصاص کے ساقط ہونے کا فائدہ دیتی ہے، اور بھائی کا ذکر کرنے میں معافی کی داعی شفقت ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ قتل اخوۃ ایمانی کو قطع نہیں کرتا، اور مَن مبتداء ہے شرطیہ ہے یا موصولہ اور فاتباع خبر ہے، تو معاف کرنے والے کا قاتل کا معروف طریقہ پر تعاقب (مطالبہ) کرنا ہے، اس طریقہ پر کہ سختی کے بغیر (نرمی سے) مطالبہ کرے، اور معافی پر اتباع کو مرتب کرنا اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ واجب ان دونوں میں سے ایک ہے، اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے ایک ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ واجب قصاص ہے، اور دیت اس کا بدل ہے چناچہ اگر مقتول کے وارث نے معاف کردیا اور دیت کا تذکرہ نہ کیا تو مقتول کے ورثاء کے لئے کچھ نہیں ہے، اور یہی قول راجح قرار دیا گیا ہے، اور قاتل پر معاف کرنے والے یعنی وارث کے پاس دیت کو خوبی کے ساتھ پہنچا دینا ہے بایں طور کہ بغیر ٹال مٹول اور کمی کے پہنچا دے یہ حکم (یعنی) جواز قصاص اور دیت کے عوض قصاص سے معافی تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سہولت اور رحمت ہے اس لئے کہ اس میں وسعت کردی ہے، اور (متعین طور پر) ان دونوں میں سے ایک واجب نہیں کیا جیسا کہ یہود پر (صرف) قصاص واجب کیا تھا، اور نصاریٰ پر (صرف) دیت واجب تھی پھر جس نے قاتل پر زیادتی کی بایں طور کہ معاف کرنے کے بعد اس کو قتل کردیا تو اس کیلئے آخرت میں آگ دردناک عذاب ہے یا دنیا میں قتل ہے، اے عقلمندو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے یعنی بقاء عظیم ہے اس لئے کہ قاتل کو جب یہ علم ہوگا کہ وہ بھی قتل کیا جائے گا تو وہ (قتل) سے باز رہے گا، تو اس نے خود اپنی جان بچائی اور جس کے قتل کا ارادہ کیا تھا اس کی بھی، لہٰذا تمہارے لئے قانون قصاص مشروع کیا گیا ہے تاکہ تم قصاص کے خوف سے قتل سے بچو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لَیْسَ الْبِرَّ لَیْسَ ماضی جامد فعل ناقص ہے اس کا مضارع مستعمل نہیں ہے اس لئے کہ لَیسَ اگرچہ صیغہ ماضی کا ہے مگر اس کے معنی نفی للحال کے ہیں، لَیِسَ اصل میں لَیِسَ بروزن فَعِلَ تھا، اگر لَیْسَ کے لئے یاء ساکنہ لَیْتَ کے مانند لازم نہ ہوتی تو لَیْسَ میں یاء ساکن ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء الف سے بدل جاتی تو ل اس ہوجاتا۔ قولہ : البرَّ بالنصب، البرَّ لَیْسَ ، کی خبر مقدم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور تُولُّوْا بتاویل مصدر ہو کر لَیْسَ کا اسم مؤخر ہے، اور بعض قراء نے البرُّ لیس قرار دے کر مرفوع بھی پڑھا ہے۔
قولہ : اَنْ تُوَلُّوا تم رخ کرو تَوْلِیَۃً سے مضارع جمع مذکر حاضر، نونِ اعرابی عامل ناصب اَنْ کی وجہ سے گرگیا ، یہ اضداد میں سے ہے اس کے معنی رخ کرنے اور منہ پھیرنے، دونوں کے آتے ہیں۔ فائدہ : لَیْسَ البرَّ پر سورة بقرہ نصف ہوگئی، نصف اول اصول دن اور بنی اسرائیل کے بیان پر مشتمل ہے اور نصف ثانی کا غالب حصہ احکام فرعیہ تفصیلیہ سے متعلق ہے۔ قولہ : فی الصلوٰۃ، فی الصلوٰۃ کے ساتھ مقید کرنے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ خارج صلوٰۃ کدھر بھی رخ کرنا کسی کے یہاں مطلوب و محمود نہیں ہے۔ قولہ : ردًا علی الیھود والنصاریٰ ۔
تنبیہ : یہ تردید نصاریٰ کے بارے میں تو درست ہے اس لئے کہ وہ عبادت میں مشرق کی جانب رخ کرتے ہیں مگر یہود کے بارے میں درست نہیں ہے اس لئے کہ یہود عبادت میں بیت المقدس کی جانب رخ کرتے ہیں، نہ کہ مغرب کی طرف، اور بیت المقدس مدینہ سے جانب شمال میں ہے نہ کہ جنوب مغرب میں (فیہ مافیہ) لہٰذا اگر یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہ کرتے ہوئے مطلق جہت مراد لی جائے بایں طور کہ عبادت میں کوئی جہت مقصود و مطلوب نہیں ہے، اصل مطلوب امتثال امر ہے، متعدد بار تحویل قبلہ کرکے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : ذَا البِرِّ وقُرِئَ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : لٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ میں مصدر کا حمل ذات پر ہو رہا ہے جو درست نہیں ہے اس لئے کہ اس کا ترجمہ ہے ” نیکی وہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا “ حالانکہ یہ درست نہیں ہے اس کے دو جواب دئیے ہیں : پہلا جواب : یہ کہ مصدر کے ماقبل ذو محذوف مانا جائے ای ذَا البرِّ اس طرح مصدر اسم فاعل بن جائے گا اور ترجمہ یہ ہوجائے گا، نیکی والا (یعنی) نیک وہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا۔ دوسرا جواب : یہ دیا ہے کہ بِرٌّ مصدر بَارٌّ اسم فاعل کے معنی میں ہے اس صورت میں حمل مصدر ولی الذات کا اعتراض ختم ہوجائے گا، بعض حضرات نے ایک تیسرا جواب دیا ہے اس کا ماحصل یہ ہے مصدر جانب خبر میں محذوف مانا جائے، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی : لکِنَّ البِرَّ برُّ مَن اٰمَنَ اس صورت میں بھی کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
قولہ : وَآتَی الْمَالَ عَلیٰ مع حُبِّہٖ لہٗ ، علیٰ بمعنی مع ہے، اس لئے کہ یہاں استعلاء کے معنی درست نہیں ہیں۔ قولہ : حُبِّہٖ لہٗ ، لہٗ کی ضمیر میں تین احتمال ہیں : (١) مال کی طرف راجع ہو یعنی مال کی حاجت و ضرورت کے باوجود اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرتے ہیں، (٢) اللہ کی طرف راجع ہو یعنی اللہ کی محبت کی وجہ سے راہ خدا میں مال صرف کرتے ہیں، (٣) آتَی سے جو اتیان مفہوم ہے اس کی طرف راجع ہو یعنی راہ خدا میں دینے کو محبوب سمجھتے ہوئے حاجت مندوں کو دیتے ہیں۔
قولہ : عَلیٰ حُبِّہٖ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ذوالحال آتٰی کی ضمیر ہے (ای آتی المال حال محبتہٖ لہٗ ) ۔ قولہ : القربیٰ مصدر ہے، نہ تو قریبٌ کی جمع ہے اور نہ اَقْرَبُ کی مؤنث ہے، اور قرینہ اس کا ذو کی اضافت ہے اگر قربیٰ قریب کی جمع یا اقرب کی مؤنث ہو تو ذو کی اضافت درست نہ ہوگی۔ قولہ : والموفون بعھدھم اس کا عطف مَن آمَنَ پر ہے۔ قولہ : نَصبٌ علی المدح اس عبارت کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : والصَّابِرُونَ رفع کے ساتھ ہونا چاہیے، اس لئے کہ یہ الموفون پر عطف ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ الموفون پر عطف کا تقاضا اگرچہ یہ ہے کہ الصَّابرونَ رفع کے ساتھ ہو لیکن نصب دیا گیا تاکہ مقصد بدرجہ اتم مکمل ہو، لہٰذا اَمدَحُ مقدر کی وجہ سے الصابرینَ منصوب ہے، اختصار کو چھوڑ کر اطناب کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقام، مقام مدح ہے اور جب مقام مدح میں صفات کثیرہ ذکر کی جاتی ہیں تو احسن طریقہ یہ ہے کہ ان کا اعراب مختلف ہو اس لئے کہ اعراب کا اختلاف انواع متعددہ پر دلالت کرتا ہے اور اتحاد فی الاعراب نوع واحد پر دلالت کرتا ہے لہٰذا جب اعراب میں اختلاف ہوگا تو مقصد حمد و مدح اکمل پورا ہوگا، گویا کہ والصابرون صفت مقطوعہ عن الموصوف ہے اور موصوف الموفون ہے، اور صفت کا قطع موصوف سے جائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وَامْرَأَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ میں ہے۔ قولہ : اُولٰئِکَ مبتداء الَّذِینَ صدقُوا جملہ ہو کر مبتداء کی خبر اول، اُولٰئِکَ ھُمُ المُتَّقونَ جملہ ہو کر خبر ثانی، یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : اَلقَتْلٰی قتیل کی جمع ہے بمعنی مقتول
قولہ : وَصْفًا وفعلاً مماثلت فی الوصف کا مطلب یہ ہے کہ حرو عبد کا تفاوت نہ ہو، اور مماثلت فی الفعل کا مطلب یہ ہے کہ جس طریقہ اور جس آلہ سے مقتول کو قتل کیا گیا ہے قاتل کو بھی اسی طرح قصاصاً قتل کیا جائے، اگر جلا کر قتل کیا ہے تو قاتل کو بھی جلا کر قتل کیا جائے، اور غرق کرکے قتل کیا ہے تو قاتل بھی غرق کرکے قتل کیا جائے، علیٰ ھٰذا القیاس۔
قولہ : المماثلۃ اس لفظ سے اس شبہ کو دور کردیا کہ قصاص کا صلہ فی نہیں آتا، مگر یہاں صلہ فی استعمال ہوا ہے۔ جواب : قصاص، مماثلت کے معنی کو متضمن ہے اس لئے فی صلہ لانا درست ہے۔ قولہ : تنکیر شئ، یُفیدُ سقوطَ القصاص الخ یعنی شئ میں فاعل کے معنی ہونے کی وجہ سے اصل تعریف ہے مگر نکرہ لاکر اشارہ کردیا کہ اگر کسی وارث نے معاد کردیا تو قصاص ساقط ہوجائے گا۔
قولہ : فی ذکر اخیہ الخ لفظ اخ سے اشارہ کردیا کہ قاتل نے اگرچہ قتل کرکے بڑا ظلم کیا ہے اور مقتول کے ورثاء کو بہت تکلیف پہنچائی ہے مگر ہے تو پھر بھی تمہارا بھائی لہٰذا اس پر رحم کرو۔ قولہ : ویذان بان القتل لا یقطع اخوۃَ الایمان اس سے معتزلہ پر رد مقصود ہے، قتل ناحق چونکہ گناہ کبیرہ ہے جو انسان کو معتزلہ کے نزدیک اسلام سے خارج کردیتا ہے، اور کافر اور مسلمان میں کوئی اخوۃ نہیں ہوتی، مگر مِن دمِ اخِیہِ کہہ کر اشارہ کردیا کہ قتل ناحق اگرچہ گناہ کبیرہ ہے مگر اسلام سے خارج نہیں کرتا ورنہ تو اس کو اخ نہ کہا جاتا۔ قولہ : وَمَنْ مبتداء ہے خواہ شرطیہ ہو یا موصولہ اور فَاتّباعٌ بالمعروفِ اس کی خبر ہے، جواب شرط ہونے کی وجہ سے فاداخل ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء نے قتل سے قصاص معاف کردیا اور دیت پر رضا مند ہوگئے تو قاتل کو یہ ہدایت ہے کہ دیت بحسن و خوبی ادا کر دے بلاوجہ ٹال مٹول نہ کرے، ادھر معاف کرنے والے ورثاء کو یہ ہدایت ہے کہ دیت وصول کرنے کے لئے قاتل کے پیچھے نہ پڑجائیں بلکہ نرمی اور سہولت سے تقاضا کریں یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے قصاص معاف کردیا ہے تو قاتل پر بڑا احسان کردیا، اس لئے کہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔ قولہ : فَعَلَی العَافی مفسر علام نے مذکورہ عبارت محذوف مان کر ایک اعتراض کا جواب دیا ہے :
اعتراض : مَن شرطیہ ہو یا موصولہ، جواب شرط کا پہلی صورت میں اور صلہ کا دوسری صورت میں جملہ ہونا ضروری ہے اس لئے کہ صلہ حکم میں جزاء کے ہوتا ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ فاتباع بھی جملہ ہے اس لئے کہ اتباع مبتداء ہے اور اس کی خبر عَلَی العَافِی خبر مقدم ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : فَعَلی العَافی اتباع بالمعروف۔
قولہ : و ترتیب الاتباع علی العفو الخ اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دیت قصاص کا بدل یا تابع نہیں ہے بلکہ مستقل واجب ہے کہ قرآن کریم میں اتباع یعنی مطالبہ دیت کو عفو قصاص پر مرتب کیا ہے یعنی اول درجہ قصاص کا ہے اگر قصاص کسی وجہ سے ساقط ہوجائے تو دیت خود بخود واجب ہوجائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ دیت قصاص کا بدل نہیں ہے کہ اگر قصاص معاف ہوجائے تو دیت بھی خود بخود معاف ہوجائے، بلکہ ان دونوں میں سے ایک واجب ہے اور مقدم قصاص ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کا یہ قول اول ہے، اگر فقط قصاص واجب ہوتا اور دیت اس کا بدل ہوتا جیسا کہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا قول ثانی ہے، تو بلا عوض یا مطلقاً قصاص معاف کرنے سے دیت بلا ذکر واجب نہ ہوتی حالانکہ دیت بلا ذکر واجب ہوتی ہے۔
قولہ : والثانی الواجب القصاص والدیۃ بدل عنہ یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے قول ثانی کا بیان ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ واجب قصاص ہے اور دیت اس کا بدل ہے اگر مقتول کے ورثاء نے قصاص معاف کردیا اور دیت کا کوئی ذکر نہ کیا تو دیت بھی خودبخود معاف ہوجائے گی اور یہی قول راجح ہے اس لئے کہ تعیین کے ساتھ قصاص کے وجوب پر نصوص موجود ہیں۔
قولہ : وعلی القاتل اس عبارت کو محذوف ماننے کا مقصد سابق اعتراض کا دفعیہ ہے وَاَدَاءٌ اِلَیہِ باحسان کا عطف چونکہ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ پر ہے لہٰذا جو اعتراض وہاں ہوتا ہے وہی یہاں ہوتا ہے، اعتراض و جواب کی تقریر سابق میں گزر چکی ہے، ملاحظہ کرلی جائے۔ قولہ : الحکم المذکور اس عبارت کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : ذٰلک اسم اشارہ واحد ہے حالانکہ اس کے مشار الیہ تین ہیں : (١) جوازِ قصاص (٢) العفو عنہ (٣) دیت۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ذٰلک کا مرجع الحکم المذکور ہے، جس میں یہ تینوں احکام آجاتے ہیں۔ قولہ : عذابٌ الیمٌ مؤلَم، مؤلِمٌ میں لام کا فتحہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں فتحہ میں مبالغہ زیادہ ہے۔
تفسیر و تشریح
لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مشرق و مغرب کا ذکر تو محض تمثیل کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ اصل مقصد سمت پرستی کی تردید ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشین کرانا ہے کہ مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کردینا اور صرف ضابطہ کی خانہ پری کردینا ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اصل نیکی وہ ہے جس کو لکنَّ البرَّ مَن آمَنَ سے بیان فرمایا ہے، بعض مفسرین کو مشرق و مغرب کے لفظ سے دھوکا ہوا ہے جیسا کہ خود صاحب جلالین علامہ سیوطی کو مغالطہ ہوا ہے کہ مشرق سے مراد نصاریٰ کا قبلہ اور مغرب سے مراد یہود کا قبلہ لیا ہے، اس لئے کہ مغرب کی سمت یہود کا قبلہ نہیں ہے ان کا قبلہ بیت المقدس ہے جو مدینہ سے شمال کی جانب ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے بیشمار گمراہیوں میں سے ایک گمراہی سمت پرستی بھی تھی یعنی بےجان دیوتاؤں، مورتیوں، پتھروں، درختوں، پہاڑوں، دریاؤں کے علاوہ خود سمتوں کی بھی پرستش ہوتی تھی، اور مختلف جاہل قوموں نے یہ اعتقاد جما لیا تھا کہ فلاں سمت مثلاً مشرق کی سمت بھی مقدس ہے یا مثلاً مغرب کی سمت قابل پرستش ہے قرآن کریم یہاں شرک کی اسی مخصوص قسم کی تردید کر رہا ہے، فرماتا ہے کہ کوئی سمت و جہت، سمت و جہت ہونے کے اعتبار سے ہرگز قابل تقدیس نہیں اور نہ طاعت و بر سے اس کا کوئی تعلق، بعض مفسرین کو اس آیت میں جو اشکال ہوا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے، انہوں نے جہت مشرق و مغرب سے مخصوص سمت سمجھ لی حالانکہ مطلقاً سمت پرستی کی تردید مقصود ہے۔ اسلام نے بھی کسی سمت کو بحیثیت سمت ہرگز متعین نہیں کیا، اسلام نے صرف ایک متعین مکان یعنی خانہ کعبہ کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے خواہ کسی سمت میں پڑجائے جیسا کہ مشاہدہ ہے، کعبہ مصر و طرابلس اور حبشہ سے مشرق میں پڑتا ہے اور ہندوستان پاکستان چین و افغانستان وغیرہ سے مغرب میں، شام و فلسطین و مدینہ سے جنوب میں اور یمن اور بحر قلزم کے جنوبی ساحلوں سے شمال میں، اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے تو تمام اشکالات خود بخود رفع ہوجاتے ہیں، اور نہ کسی تاویل کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ (ماجدی) مشرق یعنی سورج دیوتا، دنیائے شرک کا معبود اعظم رہا ہے، سورج چونکہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اس لئے عموماً جاہلی قوموں نے سمت مشرق کو بھی مقدس سمجھ لیا اور عبادت کے لئے مشرق رخی کو متعین کرلیا۔
وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ (الآیۃ) مشرکانہ ذہنیت پر کاری ضرب لگانے کے بعد قرآن نے اصلاح عقیدہ کی طرف توجہ فرمائی جو کہ ایک اہم اور نبی ادی ضرورت ہے، عقیدہ کی صحت کے بغیر نہ کوئی عمل معتبر ہے اور نہ عبادت مقبول، عقائد میں سب سے پہلی چیز ایمان باللہ ہے، اس کا ذکر مَنْ آمَنَ باللہِ میں آگیا، ایمان کے بقیہ اجزاء کا ذکر وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَالْمَلآئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیِّیْنَ میں آگیا، اس کے بعد عبادات کا درجہ ہے جن کا ذکر وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ الخ میں کیا گیا، اس کے بعد تیسرا درجہ معاملات کا ہے جس کا ذکر وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ الخ سے فرما دیا۔
10 Tafsir as-Saadi
﴿ لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ﴾” نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو‘‘ یعنی یہ وہ نیکی نہیں ہے جو بندوں سے مطلوب ہے جس کے بارے میں اس کثرت سے بحث و مباحثہ کی مشقت برداشت کی جائے جس سے سوائے دشمنی اور مخالفت کے کچھ اور جنم نہیں لیتا۔ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی نظیر ہے جس میں آپ نے فرمایا :
(ليسَ الشَّدِيدُ بالصُّرَعَةِ، إنَّما الشَّدِيدُ الذي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ) [صحيح البخاري، كتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حديث: 6114]
” طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں طاقتور ہے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔“ ﴿ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ﴾ ”لیکن نیکی تو یہ ہے جو ایمان لایا اللہ پر“ یعنی وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے، وہ صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے۔ ﴿ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾” اور آخرت کے دن پر“ یعنی وہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو انسان کو موت کے بعد پیش آئیں گی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے۔ ﴿ وَالْمَلٰۗیِٕکَۃِ﴾” اور فرشتوں پر“۔ فرشتے وہ ہستیاں ہیں جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ ﴿ وَالْکِتٰبِ﴾ ” اور کتاب پر“ اس سے مراد جنس ہے، یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان لاتا ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں۔ ان میں سب سے عظیم کتاب قرآن مجید ہے۔ پس وہ ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لاتا ہے جن پر یہ کتابیں مشتمل ہیں۔ ﴿وَالنَّبِیّٖنَ ۚ﴾” اور پیغمبروں پر“ یعنی وہ تمام انبیاء علیہم السلام پر عام طور پر اور ان میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خاص طور پر ایمان لاتا ہے۔ ﴿ وَاٰتَی الْمَالَ ﴾” اور دیتا ہے وہ مال“ مال کے زمرے میں ہر وہ چیز آتی ہے جو مال کے طور پر انسان اپنے لیے جمع کرتا ہے۔ خواہ یہ کم ہو یا زیادہ۔ ﴿ عَلٰی حُبِّہٖ﴾ اس کی محبت کے باوجود“ (حُبّہ) میں ضمیر کا مرجمع مال ہے۔ یعنی وہ مال کی محبت رکھنے کے باوجود مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ بھی واضح فرمایا کہ مال نفوس انسانی کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ بندہ اسے مشکل ہی سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اس لیے جو کوئی اس مال سے محبت کے باوجود اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطرخرچ کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مال سے محبت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ اس حال میں مال خرچ کرے کہ وہ صحت مند ہو، مال کا حریص ہو، فراخی کی امید رکھتا ہو اور محتاجی سے ڈرتا ہو۔ اسی طرح اگر قلیل مال میں سے صدقہ نکالا جائے تو یہ افضل ہے کیونکہ بندے کی یہی وہ حالت ہے جب وہ مال کو اس وہم سے روکے رکھنا پسند کرتا ہے کہ کہیں وہ محتاج نہ ہوجائے۔
اسی طرح جب مال نفیس ہو اور وہ اس مال سے محبت کرتا ہو اور پھر بھی وہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ ﴾(آل عمران: 92؍3 )” تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔“ پس یہ سب وہ لوگ ہیں جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن پر مال خرچ کیا جانا چاہئے۔ یہی لوگ تیری نیکی اور تیرے احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ﴿ ذَوِی الْقُرْبٰی﴾” رشتے داروں کو“ ان قریبی رشتہ داروں پر جن کے مصائب پر تو تکلیف اور ان کی خوشی پر خوشی محسوس کرے جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور دیت ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ پس بہترین نیکی یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ ان کے قرب اور ان کی حاجت کے مطابق مالی اور قولی احسان سے پیش آیا جائے۔ ﴿ وَالْیَـتٰمٰی﴾” اور یتیموں کو“ ان یتیموں پر جن کا کوئی کمانے والا نہ ہو اور نہ خود ان میں اتنی قوت ہو کہ وہ کما کر مستغنی ہوجائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عظیم رحمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتناباپ اپنی اولاد پر ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو وصیت کی ہے اور ان پر ان کے اموال میں فرض قرار دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی سے پیش آئیں حتی کہ وہ یوں محسوس کریں کہ گویا ان کے والدین فوت ہی نہیں ہوئے، کیونکہ عمل کا بدلہ عمل کی جنس ہی سے ہوتا ہے جو کسی دوسرے کے یتیم پر رحم کرتا ہے تو اس کے یتیم کے سر پر بھی دست شفقت رکھا جاتا ہے۔
﴿ وَالْمَسٰکِیْنَ﴾” اور مسکینوں کو“ مساکین وہ لوگ ہیں جن کو حاجت نے بے دست و پا اور فقر نے ذلیل کردیا ہو۔ پس مال دار لوگوں پر ان کا اتنا حق ہے جس سے ان کی مسکینی دور ہوجائے یا کم از کم اس میں کمی ہوجائے۔ مال دار لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اور جو کچھ ان کو میسر ہے (اس سے ان کی مدد کریں)
﴿ وَابْنَ السَّبِیْلِ ۙ﴾” اور مسافر کو“ یہ اس اجنبی کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے شہر میں ہو اور وہ اپنے شہر سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اجنبی مسافر کو اتنا مال عطا کریں جو سفر میں اس کا مددگار ہو۔ اس گمان پر کہ وہ حاجت مند ہے اور اس کے سفر کے مصارف بہت زیادہ ہیں۔ پس اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے وطن سے اور اس کی راحت سے نوازا ہے اور اسے نعمتیں عطا کی ہیں، فرض ہے کہ وہ اپنے اس قسم کے غریب الوطن بھائی پر اپنی استطاعت کے مطابق ترس کھائے خواہ اسے زاد راہ عطا کر دے، یا سفر کا کوئی آلہ (سواری وغیرہ) دے دے، یا اس کو پہنچنے والے مظالم وغیرہ کا ازالہ کر دے۔
﴿ وَالسَّاۗیِٕلِیْنَ﴾” اور مانگنے والوں کو“ سائلین وہ لوگ ہیں جن پر کوئی ایسی ضرورت آن پڑے جو ان کو سوال کرنے پر مجبور کر دے، مثلاً ایسا شخص جو کسی دیت کی ادائیگی میں مبتلا ہوگیا ہو یا حکومت کی طرف سے اس پر کوئی جرمانہ عائد کردیا گیا ہو یا وہ مصالح عامہ کے لیے کوئی عمارت، مثلاً مسجد، مدرسہ اور پل وغیرہ تعمیر کروا رہا ہو۔ اس حوالے سے سوال کرنا اس کا حق ہے خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَفِي الرِّقَابِ﴾” اور گردونوں کے آزاد کرنے میں“ غلاموں کو آزاد کرنا اور آزادی پر اعانت کرنا، مکاتب کو آزادی کے لیے مالی مدد دینا، تاکہ وہ اپنے مالک کو ادائیگی کرسکے۔ جنگی قیدی جو کفار یا ظالموں کی قید میں ہوں۔ سب اس مد میں شامل ہیں۔ ﴿ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ ﴾” اور قائم کرے وہ نماز اور ادا کرے زکوٰۃ“ گزشتہ صفحات میں متعدد بار گزر چکا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے سب سے افضل عبادت ہونے، تقرب الٰہی کا کامل ترین ذریعہ ہونے، اور قلبی، بدنی اور مالی عبادت ہونے کی بنا پر ان دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ ہی کے ذریعے سے ایمان کا وزن ہوتا ہے اور انہیں سے معلوم کیا جاتا ہے کہ صاحب ایمان کتنے یقین کا مالک ہے۔ ﴿ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ ﴾ ”اور وہ اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں“ اللہ تعالیٰ یا خود بندے کی طرف سے لازم کیے ہوئے امر کا التزام کرنا عہد کہلاتا ہے۔ پس تمام حقوق اللہ اس میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ان کو لازم قرار دیا ہے اور وہ اس التزام کو قبول کر کے اس عہد میں داخل ہوگئے اور ان کا ادا کرنا ان پر فرض قرار پایا۔ نیز اس عہد میں وہ حقوق العباد بھی داخل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے اور اس میں وہ حقوق بھی شامل ہیں جن کو بندے اپنے آپ پر لازم قرار دے لیتے ہیں، مثلاً قسم اور نذر وغیرہ۔
﴿ وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَاۗءِ ﴾” اور صبر کرنے والے ہیں وہ سختی میں“ یعنی فقر اور محتاجی میں صبر کرتے ہیں، کیونکہ محتاج شخص بہت سے پہلوؤں سے صبر کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ دائمی طور پر ایسی قلبی اور بدنی تکالیف میں مبتلا ہوتا ہے جس میں کوئی اور شخص مبتلا نہیں ہوتا۔ اگر مال دار دنیاوی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں، تو فقیر آدمی ان نعمتوں سے استفادے پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے رنج و الم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جب وہ اور اس کے اہل و عیال بھوک کا شکار ہوتے ہیں تو اسے دکھ ہوتا ہے جب وہ کوئی ایسا کھانا کھاتا ہے جو اس کی چاہت کے مطابق نہ ہو، تب بھی اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ اگر وہ عریاں ہوتا ہے یا عریانی کی حالت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو دکھ محسوس کرتا ہے۔ جب وہ اپنے سامنے کی یا مستقبل میں متوقع کسی چیز کو دیکھتا ہے، تو غم زدہ ہوجاتا ہے۔ اگر وہ سردی محسوس کرتا ہے جس سے بچنے پر وہ قادر نہیں ہوتا، تو اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ پس یہ تمام چیزیں مصائب کے زمرے میں آتی ہیں جن پر صبر کرنے کا اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
﴿ وَالضَّرَّاۗءِ ﴾” اور تکلیف میں“ یعنی مختلف قسم کے امراض مثلاً بخار، زخم، ریح کا درد، کسی عضو میں درد کا ہونا حتی کہ دانت اور انگلی کا درد وغیرہ، ان تمام تکالیف میں بندہ صبر کا محتاج ہے، کیونکہ نفس کمزور ہوتا ہے اور بدن درد محسوس کرتا ہے اور یہ مرحلہ نفس انسانی کے لیے نہایت مشقت آزما ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب بیماری طول پکڑ جائے۔ پس اسے حکم ہے کہ وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے۔ ﴿ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۭ﴾” اور لڑائی کے وقت“ یعنی ان دشمنوں سے لڑائی کے وقت جن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ صبر و استقلال سے جواں مردی کا مظاہرہ نفس انسانی کے لیے نہایت گراں بار ہے اور انسان قتل ہونے، زخمی ہنے یا قید ہونے سے بہت گھبراتا ہے۔ پس وہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرنے کا سخت محتاج ہے جس کی طرف سے فتح و نصرت ہوتی ہے جس کا وعدہ اس نے صبر کرنے والوں کے ساتھ کر رکھا ہے﴿ اُولٰۗئِکَ﴾” یہی“ یعنی جو ان عقائد حسنہ اور اعمال صالحہ سے متصف ہیں جو ایمان کے آثار، اس کی برہان اور اس کا نور ہیں اور ان اخلاق کے مالک ہیں جو انسان کا حسن و جمال اور انسانیت کی حقیقت ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ۭ ﴾” جو سچے ہیں۔“ یعنی یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں، کیونکہ ان کے اعمال ان کے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ﴿ وَ اُولٰۗئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ﴾” اور یہی لوگ متقی ہیں“ کیونکہ انہوں نے محظورات کو ترک کردیا اور مامورات پر عمل کیا، اس لیے کہ یہ امور تمام اچھی خصلتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں، چاہے ضمناً یا لزوماً، کیونکہ ایفائے عہد میں پورا دین ہی آجاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جن عبادات کی صراحت ہے، وہ سب عبادات سے اہم اور بڑی ہیں اور جو ان عبادات کا التزام کرتا ہے وہ دیگر امور کو زیادہ آسانی سے سر انجام دے سکتا ہے۔ پس یہی لوگ نیک، سچے اور متقی ہیں۔ ان تین امور پر اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی اور اخروی ثواب مرتب کیا ہے وہ سب کو معلوم ہے جس کی تفصیل اس مقام پر ممکن نہیں۔
11 Mufti Taqi Usmani
naiki bus yehi to nahi hai kay apney chehray mashriq ya maghrib ki taraf kerlo , balkay naiki yeh hai kay log Allah per , aakhirat kay din per , farishton per aur Allah ki kitabon aur uss kay nabiyon per emaan layen , aur Allah ki mohabbat mein apna maal rishta daaron , yateemon , miskeeno , musfiron aur saeelon ko den , aur ghulamon ko azad keraney mein kharch keren , aur namaz qaeem keren aur zakat ada keren , aur jab koi ehad kerlen to apney ehad ko poora kernay kay aadi hon , aur tangi aur takleef mein , neez jang kay waqt , sabar o istaqlal kay khoogar hon . aesay log hain jo sachay ( kehlaney kay mustahiq ) hain , aur yehi log hain jo muttaqi hain .
12 Tafsir Ibn Kathir
ایمان کا ایک پہلو
اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے حضرت ابوذر (رض) نے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا حضور نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے (ابن ابی حاتم) لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد حضرت ابوذر سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حالانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے حضرت ابوذر سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا حضرت میں آپ سے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا میرا سوال ایمان کے بارے میں ہے تو آپ نے فرمایا سن ایک شخص نے یہی سوال حضور سے کیا آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرما دی وہ بھی تمہاری طرح راضی نہ ہوا تو آپ نے فرمایا مومن جب نیک کام کرتا ہے تو اس کا جی خوش ہوجاتا ہے اور اسے ثواب کی امید ہوتی ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل غمیگین ہوجاتا ہے اور وہ عذاب سے ڈرنے لگتا ہے (ابن مردویہ) یہ روایت بھی منقطع ہے اب اس آیت کی تفسیر سنئے۔ مومنوں کو پہلے تو حکم ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں پھر انہیں کعبہ کی طرف گھما دیا گیا جو اہل کتاب پر اور بعض ایمان والوں پر بھی شاق گزرا پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا اصل مقصد اطاعت فرمان اللہ ہے وہ جدھر منہ کرنے کو کہے کرلو، اہل تقویٰ اصل بھلائی اور کامل ایمان یہی ہے کہ مالک کے زیر فرمان رہو، اگر کوئی مشرق کیطرف منہ کرے یا مغرب کی طرف منہ پھیر لے اور اللہ کا حکم نہ ہو تو وہ اس توجہ سے ایماندار نہیں ہوجائے گا بلکہ حقیقت میں باایمان وہ ہے جس میں وہ اوصاف ہوں جو اس آیت میں بیان ہوئے، قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا ہے آیت (لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ ) 22 ۔ الحج :37) یعنی تمہاری قربانیوں کے گوشت اور لہو اللہ کو نہیں پہنچتے بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں۔ یہ حکم اس وقت تھا جب مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے تھے لیکن پھر اس کے بعد اور فرائض اور احکام نازل ہوئے اور ان پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا، مشرق و مغرب کو اس کے لئے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں بھلائی یہ ہے کہ اطاعت کا مادہ دل میں پیدا ہوجائے، فرائض پابندی کے ساتھ ادا ہوں، تمام بھلائیوں کا عامل ہو، حق تو یہ ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کرلیا اس نے کامل اسلام پا لیا اور دل کھول کر بھلائی سمیٹ لی، اس کا ذات باری پر ایمان ہے یہ وہ جانتا ہے کہ معبود برحق وہی ہے فرشتوں کے وجود کو اور اس بات کو کہ وہ اللہ کا پیغام اللہ کے مخصوص بندوں پر لاتے ہیں یہ مانتا ہے، کل آسمانی کتابوں کو برحق جانتا ہے اور سب سے آخری کتاب قرآن کریم کو جو کہ تمام اگلی کتابوں کو سچا کہنے والی تمام بھلائیوں کی جامع اور دین و دنیا کی سعادت پر مشتمل ہے وہ مانتا ہے، اسی طرح اول سے آخر تک کے تمام انبیاء پر بھی اس کا ایمان ہے، بالخصوص خاتم الانبیاء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی۔ مال کو باوجود مال کی محبت کے راہ اللہ میں خرچ کرتا ہے، صحیح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو (بخاری ومسلم) مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت (وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا) 2 ۔ البقرۃ :177) پڑھ کر فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے تم صحت میں اور مال کی چاہت کی حالت میں فقیری سے ڈرتے ہوئے اور امیری کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کرو، لیکن اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے، اصل میں یہ فرمان حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا ہے، قرآن کریم میں سورة دھر میں فرمایا آیت (وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا) 76 ۔ الانسان :8) مسلمان باوجود کھانے کی چاہت کے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ اور جگہ فرمایا آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :92) جب تک تم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام نہ دو تم حقیقی بھلائی نہیں پاسکتے۔ اور جگہ فرمایا آیت ( وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ) 59 ۔ الحشر :9) یعنی باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا۔ ذوی القربی انہیں کہتے ہیں جو رشتہ دار ہوں صدقہ دیتے وقت یہ دوسروں سے زیادہ مقدم ہیں۔ حدیث میں ہے مسکین کو دینا اکہرا ثواب ہے اور قرابت دار مسکین کو دینا دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا۔ تمہاری بخشش اور خیراتوں کے زیادہ مستحق یہ ہیں، قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم کئی جگہ ہے۔ یتیم سے مراد وہ چھوٹے بچے ہیں جن کے والد مرگئے ہوں اور ان کا کمانے والا کوئی نہ ہو نہ خود انہیں اپنی روزی حاصل کرنے کی قوت وطاقت ہو، حدیث شریف میں ہے بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی مساکین وہ ہیں جن کے پاس اتنا ہو جو ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کا کافی ہو سکے، ان کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے جس سے ان کی حاجت پوری ہو اور فقر و فاقہ اور قلت وذلت کی حالت سے بچ سکیں، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو مانگتے پھرتے ہوں اور ایک ایک دو دو کھجوریں یا ایک ایک دو دو لقمے روٹی کے لے جاتے ہوں بلکہ مسکین وہ بھی ہیں جن کے پاس اتنا نہ ہو کہ ان کے سب کام نکل جائیں نہ وہ اپنی حالت ایسی بنائیں جس سے لوگوں کو علم ہوجائے اور انہیں کوئی کچھ دے دے۔ ابن السبیل مسافر کو کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص بھی جو اطاعت اللہ میں سفر کر رہا ہو اسے جانے آنے کا خرچ دینا، مہمان بھی اسی حکم میں ہے، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) مہمان کو بھی ابن السبیل میں داخل کرتے ہیں اور دوسرے بزرگ سلف بھی۔ سائلین وہ لوگ ہیں جو اپنی حاجت ظاہر کر کے لوگوں سے کچھ مانگیں، انہیں بھی صدقہ زکوٰۃ دینا چاہئے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آئے (ابوداؤد) آیت (فی الرقاب) سے مراد غلاموں کو آزادی دلانا ہے خواہ یہ وہ غلام ہوں جنہوں نے اپنے مالکوں کو مقررہ قیمت کی ادائیگی کا لکھ دیا ہو کہ اتنی رقم ہم تمہیں ادا کردیں گے تو ہم آزاد ہیں لیکن اب ان بیچاروں سے ادا نہیں ہوسکی تو ان کی امداد کر کے انہیں آزاد کرانا، ان تمام قسموں کی اور دوسرے اسی قسم کے لوگوں کی پوری تفسیر سورة برات میں آیت (انما الصدقات) کی تفسیر میں بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ ، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس حدیث کا ایک راوی ابو حمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔ پھر فرمایا نماز کو وقت پر پورے رکوع سجدے اطمینان اور آرام خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرے جس طرح ادائیگی کا شریعت کا حکم ہے اور زکوٰۃ کو بھی ادا کرے یا یہ معنی کہ اپنے نفس کو بےمعنی باتوں اور رذیل اخلاقوں سے پاک کرے جیسے فرمایا آیت (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) 91 ۔ الشمس :9) یعنی اپنے نفس کو پاک کرنے والا فلاح پا گیا اور اسے گندگی میں لتھیڑنے (لت پت کرنے والا) تباہ ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہی فرمایا تھا کہ آیت (ھل لک الی ان تزکی) الخ اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ۙ ) 41 ۔ فصلت :6) یعنی ان مشرکوں کو ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے یا یہ کہ جو اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے، پس یہاں مندرجہ بالا آیت زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ نفس یعنی اپنے آپ کو گندگیوں اور شرک وکفر سے پاک کرنا ہے، اور ممکن ہے مال کی زکوٰۃ مراد ہو تو اور احکام نفلی صدقہ سے متعلق سمجھے جائیں گے جیسے اوپر حدیث بیان ہوئی کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور حق بھی ہیں۔ پھر فرمایا وعدے پورے کرنے والے جیسے اور جگہ ہے آیت (يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ ) 13 ۔ الرعد :20) یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے، وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے، جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا، ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا۔ پھر فرمایا فقر و فقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعل یکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں۔