Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَۗ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

ثُمَّ
پھر
اَفِيْضُوْا
تم پلٹو
مِنْ حَيْثُ
جہاں سے
اَفَاضَ
پلٹتے ہیں
النَّاسُ
لوگ
وَاسْتَغْفِرُوا
اور بخشش مانگو
اللّٰهَ ۭ
اللہ سے
اِنَّ
بیشک
اللّٰهَ
اللہ تعالیٰ
غَفُوْرٌ
بخشنے والا
رَّحِيْمٌ
مہربان ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ابوالاعلی مودودی

پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

احمد رضا خان

پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

احمد علی

پھر تم لوٹ کر آؤ جہاں سے لوٹ کر آتے ہیں اور الله سے بخشش مانگو بے شک الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

جالندہری

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

محمد جوناگڑھی

پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے

محمد حسین نجفی

پھر جہاں سے اور لوگ چل کھڑے ہوں تم بھی چل کھڑے ہو اور خدا سے مغفرت و بخشش طلب کرو یقینا خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

علامہ جوادی

پھر تمام لوگوں کی طرح تم بھی کوچ کرو اور اللہ سے استغفار کروکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے

طاہر القادری

پھر تم وہیں سے جاکر واپس آیا کرو جہاں سے (اور) لوگ واپس آتے ہیں اور اﷲ سے (خوب) بخشش طلب کرو، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے،

تفسير ابن كثير

قریش سے خطاب اور معمول نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
" ثم " یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لئے ہے تاکہ ترتیب ہوجائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرسکے، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے، جیسے کہ عام لوگ یہاں ٹھہرتے تھے البتہ قریشیوں نے فخروتکبر اور نشان امتیاز کے طور پر یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ حد حرم سے باہر نہیں جاتے تھے، اور حرم کی آخری حد پر ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ والے ہیں اسی کے شہر کے رئیس ہیں اور اس کے گھر کے مجاور ہیں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں ہی رک جایا کرتے تھے اور اپنا نام حمس رکھتے تھے باقی کل عرب عرفات میں جا کر ٹھہرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے اسی لئے اسلام نے حکم دیا کہ جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں تم وہی سے لوٹا کرو، حضرت ابن عباس، حضرت مجاہد، حضرت عطاء، حضرت قتادہ، حضرت سدی (رض) وغیرہ یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر بھی اسی تفسیر کو پسند کرتے ہیں اور اسی پر اجماع بتاتے ہیں، مسند احمد میں ہے حضرت جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ عرفات میں گم ہوگیا میں اسے ڈھونڈنے کے لئے نکلا تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہاں ٹھہرے ہوئے دیکھا کہنے لگا یہ کیا بات ہے کہ یہ حمس ہیں اور پھر یہاں حرم کے باہر آکر ٹھہرے ہیں، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ افاضہ سے مراد یہاں مزدلفہ سے رمی جمار کے لئے منی کو جاتا ہے، واللہ اعلم، اور الناس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ہیں، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا۔ پھر استغفار کا ارشاد ہوتا ہے جو عموما عبادات کے بعد فرمایا جاتا ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے (مسلم) آپ لوگوں کو سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے (بخاری مسلم) یہ بھی مروی ہے کہ عرفہ کے دن شام کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کے لئے استغفار کیا (ابن جریر) آپ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ تمام استغفاروں کا سردار یہ استغفار ہے دعا (اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عہدک ووعدک ما ستطعت اعوذ بک من شرماصنعت ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جو شخص اسے رات کے وقت پڑھ لے اگر اسی رات مرجائے گا تو قطعا جنتی ہوگا اور جو شخص اسے دن کے وقت پڑھے گا اور اسی دن مرے گا تو وہ بھی جنتی ہے (بخاری) حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ پڑھو دعا (اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفر لی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم) ۔ (بخاری ومسلم) استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔