Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِىْۤ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍۗ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِىْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى ۗ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّکُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ

وَاذْكُرُوا
اور یاد کرو
اللّٰهَ
اللہ کو
فِيْٓ اَيَّامٍ
دنوں میں
مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ
گنے چنے
فَمَنْ
تو جو کوئی
تَعَـجَّلَ
جلدی کرے
فِيْ يَوْمَيْنِ
دو دنوں میں
فَلَآ
تو نہیں ہے
اِثْمَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِ ۚ
اس پر
وَمَنْ
اور جو
تَاَخَّرَ
تاخیر کرے۔ دیرے کرے
فَلَآ
تو نہیں ہے
اِثْمَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِ ۙ
اس پر
لِمَنِ
واسطے اس کے جو
اتَّقٰى ۭ
تقوی اختیار کرے
وَاتَّقُوا
اور ڈرو
اللّٰهَ
اللہ سے
وَاعْلَمُوْٓا
اور جان لو
اَنَّكُمْ
بیشک تم
اِلَيْهِ
اس کی طرف
تُحْشَرُوْنَ
تم اکٹھے کیے جاؤ گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ گنتی کے چند روز ہیں، جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہییں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہو اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے

ابوالاعلی مودودی

یہ گنتی کے چند روز ہیں، جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہییں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہو اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے

احمد رضا خان

اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے،

احمد علی

اور الله کو چند گنتی کے دنوں میں یاد کرو پھر جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں جو (الله سے) ڈرتا ہے اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

جالندہری

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

محمد جوناگڑھی

اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے

محمد حسین نجفی

اور گنتی کے چند دنوں میں خدا کو یاد کرو پس جو جلدی کرے گا اور (منٰی سے) دو ہی دن میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو دیر کرے (تیسرے دن تک ٹھہرا رہے) اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے مگر یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جو (شکار سے) بچتا رہا ہو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو اور یقین رکھو کہ تم اسی کے حضور اکھٹے کئے جاؤگے (پلٹ کر جاؤ گے)۔

علامہ جوادی

اور چند معین دنوں میں ذک» خدا کرو. اسکے بعد جو دو دن کے اندر جلدی کرے گا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تاخیر کرے گا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ پرہیزگار رہا ہو اور اللہ سے ڈرو اور یہ یاد رکھو کہ تم سب اسی کی طرف محشور کئے جاؤ گے

طاہر القادری

اور اﷲ کو (ان) گنتی کے چند دنوں میں (خوب) یاد کیا کرو، پھر جس کسی نے (منیٰ سے واپسی میں) دو ہی دنوں میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے (اس میں) تاخیر کی تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، یہ اس کے لئے ہے جو پرہیزگاری اختیار کرے، اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم سب کو اسی کے پاس جمع کیا جائے گا،

تفسير ابن كثير

ایام تشریق
آیت (ایام معدودات) سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں عرفے کا دن قربانی کا دن اور ایام تشریق ہمارے یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ دن کھانے پینے کے ہیں (احمد) اور حدیث میں ہے ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں (احمد) پہلے یہ حدیث بھی بیان ہوچکی ہے کہ عرفات کل ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایام تشریق سب قربانی کے دن ہیں، اور یہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ منی کے دن تین ہیں دو دن میں جلدی یا دو دیر کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے کہ ایام تشریق کھانے اور ذکر اللہ کرنے کے دن ہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن حذافہ (رض) کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم کر منادی کردیں کہ ان دنوں میں کوئی روزہ نہ رکھیں یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں، ایک اور مرسل روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مگر جس پر قربانی کے بدلے روزے ہوں اس کے لئے یہ زائد نیکی ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ منادی بشر بن سحیم (رض) تھے اور حدیث میں ہے کہ آپ نے ان دنوں کے روزوں کی ممانعت فرمائی ہے ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفید خچر پر سوار ہو کر شعب انصار میں کھڑے ہو کر یہ حکم سنایا تھا، کہ لوگو یہ دن روزوں کے نہیں بلکہ کھانے پینے اور ذکر اللہ کرنے کے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایام معدودات ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہیں دسویں ذی الحجہ کی اور تین دن اس کے بعد کے یعنی دس سے تیرہ تک، ابن عمر، ابن زبیر، ابو موسیٰ ، عطاء مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو مالک، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حسن، قتادہ، سدی، زہری، ربیع بن انس، ضحاک، مقاتل بن حیان، عطاء خراسانی، امام مالک وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یہ تین دن ہیں دسویں گیارہویں اور بارہویں ان میں جب چاہو قربانی کرو لیکن افضل پہلا دن ہے مگر مشہور قول یہی ہے اور آیت کریمہ کے الفاظ کی ظاہری دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ دو دن میں جلدی یا دیر معاف ہے تو ثابت ہوا کہ عید کے بعد تین دن ہونے چاہئیں اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنا قربانیوں کے ذبح کے وقت ہے، اور یہ بھی پہلے بیان ہوچکا ہے کہ راجح مذہب اس میں حضرت امام شافعی کا ہے کہ قربانی کا وقت عید کے دن سے ایام تشریق کے ختم ہونے تک ہے، اور اس سے مراد نمازوں کے بعد کا مقررہ ذکر بھی ہے اور ویسے عام طور پر یہی اللہ کا ذکر مراد ہے، اور اس کے مقررہ وقت میں گو علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن زیادہ مشہور قول جس پر عمل درآمد بھی ہے یہ ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر دن کی عصر کی نماز تک، اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی دار قطنی میں ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں واللہ اعلم، حضرت عمر (رض) اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے اور آپ کی تکبیر پر بازار والے لوگ تکبیر کہتے ہیں یہاں تک کہ منی کا میدان گونج اٹھتا اسی طرح یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے وقت تکبیر اور اللہ کا ذکر کیا جائے جو ایام تشریق کے ہر دن ہوگا، ابو داود وغیرہ میں حدیث ہے کہ بیت اللہ کا طواف صفا مروہ کی سعی شیطانوں کو کنکریاں مارنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کی پہلی اور دوسری واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعد لوگ ان پاک مقامات کو چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں اور مقامات کو لوٹ جائیں گے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس کے سامنے جمع ہونا ہے اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا پھر وہی سمیٹ لے گا پھر اسی کی طرف حشر ہوگا پس جہاں کہیں ہو اس سے ڈرتے رہا کرو۔