Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

لِّـلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۤٮِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍۚ فَاِنْ فَاۤءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

لِّلَّذِينَ
ان لوگوں کے لیے
يُؤْلُونَ
جو قسم کھالیتے ہیں
مِن
سے
نِّسَآئِهِمْ
اپنی بیویوں
تَرَبُّصُ
انتظار کرنا ہے
أَرْبَعَةِ
چار
أَشْهُرٍۖ
مہینے
فَإِن
پھر اگر
فَآءُو
وہ رجوع کریں۔ وہ لوٹیں
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
غَفُورٌ
بخشنے والا
رَّحِيمٌ
مہربان ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

احمد علی Ahmed Ali

جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو الله بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کی چار مہینے کی مدت (١) ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ تعالٰی بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

٢٢٦۔١ یعنی کوئی شوہر اگر قسم کھا لے کہ اپنی بیوی سے ایک مہینہ یا دو مہینے تعلق نہیں رکھوں گا پھر قسم کی مدت پوری کر کے تعلق قائم کر لیتا ہے تو کوئی کفارہ نہیں ہاں اگر مدت پوری ہونے سے قبل تعلق قائم کرے گا کفارہ قسم ادا کرنا پڑے گا اور اگر چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے یا مدت مقرر کئے بغیر قسم کھاتا ہے تو اس آیت میں ایسے لوگوں کے لئے مدت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ چار مہینے گزرنے کے بعد یا تو بیوی سے تعلق قائم کرلیں یا پھر اسے طلاق دے دیں پہلی صورت میں اسے کفارہ قسم ادا کرنا ہوگا اگر دونوں میں سے کوئی صورت اختیار نہیں کرے گا تو عدالت اسکو دونوں میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرے گی کہ وہ اس سے تعلق قائم کرے یا طلاق دے تاکہ عورت پر ظلم نہ ہو۔ (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کے لئے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وه لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے واﻻ مہربان ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جو لوگ اپنی بیویوں سے الگ رہنے (مباشرت نہ کرنے) کی قسم کھا لیتے ہیں (ان کے لیے) چار مہینے کی مہلت ہے۔ پس اگر اس کے بعد (اپنی قسم سے) رجوع کریں تو بے شک خدا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جو لوگ اپنی بیویوں سے ترک جماع کی قسم کھا لیتے ہیں انہیں چار مہینے کی مہلت ہے. اس کے بعد واپس آگئے تو خدا غفوررحیم ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کر لیں تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ایلاء اور اس کی وضاحت ;
ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھالے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہوگی یا زیادہ ہوگی، اگر کم ہوگی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کرسکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ کیلئے قسم کھالی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کرلے یا طلاق دے دے، اور اس خاوند کا حکم ان دو باتوں میں سے ایک کے کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ عورت کو ضرر نہ پہنچے۔ یہی بیان یہاں ہو رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کریں یعنی ان سے مجامعت نہ کرنے کی قسم کھائیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ " ایلاء " خاص بیویوں کیلئے ہے، لونڈیوں کیلئے نہیں۔ یہی مذہب جمہور علماء کرام کا ہے، یہ لوگ چار مہینہ تک آزاد ہیں، اس کے بعد انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی بیویوں سے مل لیں یا طلاق دے دیں، یہ نہیں کہ اب بھی وہ اسی طرح چھوڑے رہیں، پھر اگر وہ لوٹ آئیں یہ اشارہ جماع کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی بخش دے گا اور جو تقصیر عورت کے حق میں ان سے ہوئی ہے اسے اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا، اس میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کے ذمہ کفارہ کچھ بھی نہیں۔ امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی کہ قسم کھانے والا اگر اپنی قسم توڑ ڈالنے میں نیکی دیکھتا ہو تو توڑ ڈالے، یہی اس کا کفارہ ہے، اور علماء کرام کی ایک دوسری جماعت کا یہ مذہب ہے کہ اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، واللہ اعلم۔