Skip to main content

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِىْۤ اَيْمَانِكُمْ وَلٰـكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْۗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ

لَّا
نہیں
يُؤَاخِذُكُمُ
مواخذہ کرے گا تمہارا
ٱللَّهُ
اللہ
بِٱللَّغْوِ
ساتھ لغو کے
فِىٓ
میں
أَيْمَٰنِكُمْ
تمہاری قسموں
وَلَٰكِن
لیکن
يُؤَاخِذُكُم
مواخذہ کرے گا تمہارا
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَسَبَتْ
کمائی کی
قُلُوبُكُمْۗ
تمہارے دلوں نے
وَٱللَّهُ
اور اللہ
غَفُورٌ
مغفرت کرنے والا
حَلِيمٌ
حلم والا۔ بردبار ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بردبار ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بردبار ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

الله تمہیں تمہاری قسموں میں بے ہودہ گوئی پر نہیں پکڑتا لیکن تم سے ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو اور الله بڑا بحشنے والا بردبار ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اللہ تعالٰی تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں (١) ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو، اللہ تعالٰی بخشنے والا اور بردبار ہے۔

٢٢٥۔١ یعنی جو غیر ارادے اور عادت کے طور پر ہوں البتہ عملاً جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور بردبار ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

خدا تمہاری لایعنی (غیر ارادی) قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم دل سے کروگے (کھاؤ گے) اس کا مواخذہ کرے گا اور خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا برداشت کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

خدا تمہاری لغواور غیر ارادی قسموںکا مواخذہ نہیں کرتا ہے لیکن جس کو تمہارے دلوں نے حاصل کیا ہے اس کا ضرور مواخذہ کرے گا. وہ بخشنے والا بھی ہے اور برداشت کرنے والا بھی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اﷲ تمہاری بے ہودہ قَسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرمائے گا مگر ان کا ضرور مؤاخذہ فرمائے گا جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بہت حلم والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت (لا الہ الا اللہ) پڑھ لے۔ یہ ارشاد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہوجائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ ;89) ہیں، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور انہیں اللہ کی قسم، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر اس کی قسم کے خلاف ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرلے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کردو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ ;89) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھالو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔