Skip to main content

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَـقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَـقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

وَلَا
اور نہ
تَلْبِسُوا۟
تم ملاؤ / گڈ مڈ کرو
ٱلْحَقَّ
حق کو
بِٱلْبَٰطِلِ
ساتھ باطل کے
وَتَكْتُمُوا۟
اورنہ تم چھپاؤ / تم چھپاتے ہو
ٱلْحَقَّ
حق کو
وَأَنتُمْ
حالانکہ تم
تَعْلَمُونَ
تم جانتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ -

احمد علی Ahmed Ali

اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے۔

nilnil

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور جانتے بوجھتے ہوئے حق کو نہ چھپاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

حقکو باطل سے مخلوط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کی پردہ پوشی نہ کرو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بدخو یہودی
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کردیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپالیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابت پیشنگوئیاں جو تمہاری کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ تکتموا مجزوم بھی ہوسکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔ ابن مسعود کی قرأت میں تکتمون بھی ہے۔ یہ حال ہوگا اور اس کے بعد کا جملہ بھی حال ہے معین یہ ہوئے کہ حق کو حق جانتے ہوئے ایسی بےحیائی نہ کرو۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ علم کے باوجود اسے چھپانے اور ملاوٹ کرنے کا کیسا عذاب ہوگا۔ اس کا علم ہو کر بھی افسوس کہ تم بدکرداری پر آمادہ نظر آتے ہو۔ پھر انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نمازیں پڑھو زکوٰۃ دو اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رکوع و سجود میں شامل رہا کرو، انہیں میں مل جاؤ اور خود بھی آپ ہی امت بن جاؤ، اطاعت و اخلاص کو بھی زکوٰۃ کہتے ہیں۔ ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں زکوٰۃ دو سو درہم پر۔ پھر اس سے زیادہ رقم پر واجب ہوتی ہے نماز و زکوٰۃ و فرض و واجب ہے۔ اس کے بغیر سبھی اعمال غارت ہیں۔ زکوٰۃ سے بعض لوگوں نے فطرہ بھی مراد لیا ہے۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو سے مراد یہ ہے کہ اچھے اعمال میں ایمانداروں کا ساتھ دو اور ان میں بہترین چیز نماز ہے اس آیت سے اکثر علماء نے نماز باجماعت کے فرض ہونے پر بھی استدلال کیا ہے اور یہاں پر امام قرطبی نے مسائل جماعت کو سبط سے بیان فرمایا ہے۔