Skip to main content

يَوْمَٮِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَـهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِىَ لَـهٗ قَوْلًا

يَوْمَئِذٍ
اس دن
لَّا
نہ
تَنفَعُ
فائدہ دے گی
ٱلشَّفَٰعَةُ
سفارش
إِلَّا
مگر
مَنْ
جس کو
أَذِنَ
اجازت دے
لَهُ
واسطے اس کے
ٱلرَّحْمَٰنُ
رحمن
وَرَضِىَ
اور پسند کرے
لَهُۥ
اس کے لیے
قَوْلًا
بات کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،

احمد علی Ahmed Ali

اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس دن سفارش کچھ کام نہ آئیگی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے (١)

١٠٩۔١ یعنی اس دن کسی کی سفارش کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، سوائے ان کے جن کو رحمٰن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، اور وہ بھی ہر کسی کی سفارش نہیں کریں گے بلکہ صرف ان کی سفارش کریں گے جن کی بابت سفارش کو اللہ پسند فرمائے گا اور یہ کون لوگ ہونگے؟ صرف اہل توحید، جن کے حق میں اللہ تعالٰی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورہ نجم،۲ ٦ ، سورہ انبیاء، ۲۸۔ سورہ سباء،۲۳۔ سورہ النباء ۳۸۔ اور آیت الکرسی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اس دن کوئی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس کے جس کو خدا اجازت دے گا اور اس کے بولنے کو پسند کرے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنہیں خدا نے اجازت دے دی ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اس دن سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہوگیا ہے (جیسا کہ انبیاء و مرسلین، اولیاء، متقین، معصوم بچوں اور دیگر کئی بندوں کا شفاعت کرنا ثابت ہے)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نوعیت شفاعت اور روز قیامت۔
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہوگی کہ دوسرے کے لئے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ نہ آسمان کے فرشتے بےاجازت کسی کی سفارش کرسکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہوگا بےاجازت کسی کی سفارش نہ ہوگی۔ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بےاجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اللہ کی خوب حمد وثنا کریں گے دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر حد مقرر ہوگی آپ ان کی شفاعت کرکے جنت میں لے جائیں گے پھر لوٹیں گے پھر یہی ہوگا چار مرتبہ یہی ہوگا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء۔ اور حدیث میں ہے کہ حکم ہوگا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں مثقال ایمان ہو۔ پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم ایمان ہو اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے مخلوق اس کے علم کا احاطہ کر نہیں سکتی۔ جیسے فرمان ہے اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کرسکتے ہیں جو وہ چاہے۔ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت ونرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں اس لئے کہ وہ موت وفوت سے پاک ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہر چیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہوگا۔ کیونکہ ہر حق دار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کا حق دلوائے گا یہاں تک کہ بےسینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ صحیح حدیث میں ہے لوگوظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرے بن کر آئے گا اور سب سے بڑھ کر نقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا وہ تباہ و برباد ہوا، اس لئے کہ شرک ظلم عظیم ہے۔ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بےکھٹکے ہیں۔