Skip to main content

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى

قَالَ
اس نے کہا
فَمَن
پھر کون ہے
رَّبُّكُمَا
تم دونوں کا رب
يَٰمُوسَىٰ
اے موسیٰ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،

احمد علی Ahmed Ali

کہا اے موسیٰ پھر تمہارا رب کون ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

فرعون نے پوچھا کہ اے موسٰی! تم دونوں کا رب کون ہے؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(چنانچہ وہ گئے) اور فرعون نے کہا اے موسیٰ! تمہارا پروردگار کون ہے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس نے کہا کہ موسٰی تم دونوں کا رب کون ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(فرعون نے) کہا: تو اے موسٰی! تم دونوں کا رب کون ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مکالمات موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون۔
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا۔ پیغام الٰہی کلیم اللہ کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کردی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ چوپائے الگ صورت میں ہیں درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا کھانے پینے کی چیزیں جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ خلق کا خالق تقدیروں کا مقرر کرنے والا اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے ؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ بیان کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہوگیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اسکی ذات بھول چوک سے پاک ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔