Skip to main content

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى

فَتَوَلَّىٰ
تو پلٹا
فِرْعَوْنُ
فرعون
فَجَمَعَ
تو اس نے اکٹھی کیں
كَيْدَهُۥ
اپنی چالیں۔ ہتھکنڈے
ثُمَّ
پھر
أَتَىٰ
آگیا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو فرعون پھرا اور اپنے داؤں (فریب) اکٹھے کیے پھر آیا

احمد علی Ahmed Ali

پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کئے پھر آگیا (١)

٦٠۔١ یعنی مختلف شہروں سے ماہر جادو گروں کو جمع کر کے اجتماع گاہ میں آ گیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کیے پھر آگیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اس کے بعد فرعون واپس چلا گیا اور اپنے سب مکر و فریب (داؤ) جمع کئے اور پھر (مقابلہ کیلئے) آگیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس کے بعد فرعون واپس چلا گیا اور اپنے مکر کو اکٹھا کرنے لگا اور اس کے بعد پھر سامنے آیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر فرعون (مجلس سے) واپس مڑ گیا سو اس نے اپنے مکر و فریب (کی تدبیروں) کو اکٹھا کیا پھر (مقررہ وقت پر) آگیا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مقابلہ اور نتیجہ۔
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو ۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا ؟ کہا کیوں نہیں ؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو ۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کرسکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ (ان ھذن) کی دوسری قرأت (ان ھذین) بھی ہے مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے بادشاہ کا قرب نصیب ہے مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہوجائے گی تمہیں ملک سے نکال دیں گے عوام ان کے ماتحت ہوجائیں گے ان کا زور بند بندھ جائے گا یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کردیں گے۔ بادشاہت عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔ شرافت عقلمندی ریاست سب ان کے قبضے میں آجائے گی تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہوجائیں گے امیر فقیر بن جائیں گے ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں یہ سب ان کے ساتھ ہوجائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہوجائے گی۔ تم سب اتفاق کرلو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہوجائے دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہوجائے گی اور اگر ہم غالب آگئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔