Skip to main content

قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِىَ وَاِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
يَٰمُوسَىٰٓ
اے موسیٰ
إِمَّآ
یا
أَن
یہ کہ
تُلْقِىَ
تم ڈالو
وَإِمَّآ
اور یا
أَن
یہ کہ
نَّكُونَ
ہوں ہم
أَوَّلَ
پہلے
مَنْ
جو
أَلْقَىٰ
ڈالے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جادوگر بولے "موسیٰؑ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جادوگر بولے "موسیٰؑ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں

احمد علی Ahmed Ali

کہا اے موسیٰ یا تو ڈال اوریا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہنے لگے اے موسٰی! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان لوگوں (جادوگروں) نے کہا اے موسیٰ تم پہلے پھینکوگے یا پہلے ہم پھینکیں؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان لوگوں نے کہا کہ موسٰی تم اپنے جادو کو پھینکو گے یا ہم لوگ پہل کریں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(جادوگر) بولے: اے موسٰی! یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو اور یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجائیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مقابلہ شروع ہوا۔
جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہوگیا وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے۔ اس منظر نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہوجائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو ہراساں نہ ہو۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بےمثال اژدھا بن گئی، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کردیا۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے سب کو ہڑپ کرلیا۔ اب سب پر حق واضح ہوگیا، معجزے اور جادو میں تمیز ہوگئی۔ حق و باطل میں پہچان ہوگئی۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آسکتے۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو مار ڈالو، پھر آپنے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے وہ جادو کے فن میں ماہر تھے بیک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہوجاتا ہے۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہوگیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سربہ سجود ہوگئے اور پکار اٹھے کہ ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے پروردگار پر ایمان لائے۔ سبحان اللہ صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے۔ صبح جادوگر شام کو شہید۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔