Skip to main content

قَالَ يَابْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِىْ وَلَا بِرَأْسِىْۚ اِنِّىْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِىْ

قَالَ
کہا
يَبْنَؤُمَّ
اے میری ماں کے بیٹے
لَا
نہ
تَأْخُذْ
تم پکڑو
بِلِحْيَتِى
میری داڑھی کو
وَلَا
اور نہ
بِرَأْسِىٓۖ
میرے سر کو
إِنِّى
بیشک میں
خَشِيتُ
ڈر گیا تھا
أَن
کہ
تَقُولَ
تم کہو گے
فَرَّقْتَ
تو نے جدائی ڈال دی۔ تفرقہ ڈال دیا
بَيْنَ
درمیان
بَنِىٓ
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل کے
وَلَمْ
اور نہ
تَرْقُبْ
تم نے انتظار کیا
قَوْلِى
میری بات کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا

احمد علی Ahmed Ali

کہا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں (١) کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔ (۲)

٩٤۔١ حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو شرک کی گمراہی میں دیکھ کر سخت غضب ناک تھے اور سمجھتے تھے کہ شاید اس میں ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کی، جن کو وہ اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے، خوش آمد کا بھی دخل ہو، اس لئے سخت غصے میں ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر پکڑ کر انہیں جھنجھوڑنا اور پوچھنا شروع کیا، جس پر حضرت ہارون علیہ السلام نے انہیں اتنا سخت رویہ اپنانے سے روکا۔
٩٤۔۲ سورہ اعراف میں حضرت ہارون علیہ السلام کا جواب یہ نقل ہوا ہے کہ قوم نے مجھے کمزور خیال کیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئی (آیت۔ ۱٤۲) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنی ذمے داری پوری طرح نبھائی اور انہیں سمجھا نے اور گو سالہ پرستی سے روکنے میں مداہنت اور کوتاہی نہیں کی۔ لیکن معاملے کو اس حد تک نہیں جانے دیا کہ خانہ جنگی شروع ہو جائے کیونکہ ہارون علیہ السلام کے قتل کا مطلب پھر ان کے حامیوں اور مخالفوں میں آپس میں خونی تصادم ہوتا اور بنی اسرائیل واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ جاتے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے حضرت موسیٰ علیہ السلام چوں کہ خود وہاں موجود نہ تھے اس لیے صورت حال کی نزاکت سے بےخبر تھے اسی بنا پر حضرت ہارون علیہ السلام کو انہوں نے سخت سست کہا لیکن پھر وضاحت پر وہ اصل مجرم کی طرف متوجہ ہوئے اس لیے یہ استدلال صحیح نہیں (جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں) کہ مسلمانوں کے اتحاد وارفاق کی خاطر شرکیہ امور اور باطل چیزوں کو بھی برداشت کر لینا چاہیے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام نے نہ ایسا کیا ہی ہے نہ ان کے قول کا یہ مطلب ہی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہارون نے کہا: اے میرے ماں جائے! میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑئیے! مجھے تو یہ ڈر تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا۔ اور میری بات کا خیال نہیں کیا (یا میرے حکم کا انتظار نہ کیا؟)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ہارون نے کہا کہ بھیّا آپ میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑیں مجھے تو یہ خوف تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں اختلاف پیدا کردیا ہے اور میری بات کا انتظار نہیں کیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ہارون علیہ السلام نے) کہا: اے میری ماں کے بیٹے! آپ نہ میری داڑھی پکڑیں اور نہ میرا سر، میں (سختی کرنے میں) اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ (نہ) کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان فرقہ بندی کردی ہے اور میرے قول کی نگہداشت نہیں کی،