Skip to main content

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۤبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ ۗ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۤءُ ۗ

أَلَمْ
کیا تم نے
تَرَ
دیکھا نہیں
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ (کو)
يَسْجُدُ
سجدہ کر رہے ہیں
لَهُۥ
اس کو
مَن
جو (کچھ)
فِى
میں ہیں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَمَن
اور جو (کچھ)
فِى
میں ہیں
ٱلْأَرْضِ
زمین
وَٱلشَّمْسُ
اور سورج
وَٱلْقَمَرُ
اور چاند
وَٱلنُّجُومُ
اور ستارے
وَٱلْجِبَالُ
اور پہاڑ
وَٱلشَّجَرُ
اور درخت
وَٱلدَّوَآبُّ
اور جانور
وَكَثِيرٌ
اور بہت سے
مِّنَ
میں سے
ٱلنَّاسِۖ
لوگوں
وَكَثِيرٌ
اور بہت سے
حَقَّ
ثابت ہوگیا۔ چسپاں ہوگیا
عَلَيْهِ
اس پر
ٱلْعَذَابُۗ
عذاب
وَمَن
اور جس کو
يُهِنِ
رسوا کردے
ٱللَّهُ
اللہ
فَمَا
تو نہیں
لَهُۥ
اس کے لیے
مِن
کوئی
مُّكْرِمٍۚ
عزت دینے والا
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
يَفْعَلُ
کرتا ہے
مَا
جو وہ
يَشَآءُ۩
چاہتا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة) ۶

احمد علی Ahmed Ali

کیا تم نےنہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچار پائے اور بہت سے آدمی الله ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے الله ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دےسکتا بے شک الله جو چاہتا ہے کرتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور (١) اور بہت سے انسان بھی (٢) ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے (٣) جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (٤) اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

١٨۔١ بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کر سکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا ( من فی السموات) سے مراد فرشتے ہیں ومن فی الارض سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ) 17۔ الاسراء;44) سورہ بنی اسرائیل۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے رہے ہیں اللہ تعالٰی نے بیان فرمایا تم ان کو سجدہ کرتے ہو یہ تو اللہ تعالٰی کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اس کے ماتحت ہیں اس لیے تم انہیں سجدہ مت کرو اس ذات کو سجدہ کرو جو ان کا خالق ہے (حم سجدہ ۳۷) صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سورج جاتا ہے اور عرش کے نیچے جاکر سجدہ ریز ہو جاتا ہے پھر اسے (طلوع ہونے کا) حکم دیا جاتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اسے کہا جائے گا واپس لوٹ جا یعنی جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جا۔ (صحیح بخاری) اسی طرح صحابی کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے خواب میں اپنے ساتھ درخت کو سجدہ کرتے دیکھا (ترمذی) اور پہاڑوں اور درختوں کے سجدے میں ان سایوں کا دائیں بائیں پھرنا یا جھکنا بھی شامل ہے جس طرف اشارہ سورۃ الرعد اور النحل ٤۷،٤۸میں بھی کیا گیا ہے۔
١٨۔٢ یہ سجدہ اطاعت و عبادت ہی ہے جس کو انسانوں کی ایک بڑی تعداد کرتی ہے اور اللہ کی رضا کی مستحق قرار پاتی ہے۔
١٨۔٣ یہ وہ ہیں جو سجدہ اطاعت سے انکار کرکے کفر اختیار کرتے ہیں، ورنہ تکوینی احکام یعنی سجدہ انقیاد میں تو انہیں بھی مجال انکار نہیں۔
١٨۔٤ کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ذلت و رسوائی اور آخرت کا دائمی عذاب ہے، جس سے بچا کر کافروں کو عزت دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز اللہ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی اور بہت سے انسان وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے بیشک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان میں جس قدر بھی صاحبانِ عقل و شعور ہیں اور آفتاب و ماہتاب اور ستارے ,پہاڑ ,درخت ,چوپائے اور انسانوں کی ایک کثرت سب ہی اللہ کے لئے سجدہ گزار ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور ظاہر ہے کہ جسے خدا ذلیل کرنا چاہے اسے کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے کہ یقینا اللہ جو چاہتا ہے وہ کرسکتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ ہی کے لئے (وہ ساری مخلوق) سجدہ ریز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج (بھی) اور چاند (بھی) اور ستارے (بھی) اور پہاڑ (بھی) اور درخت (بھی) اور جانور (بھی) اور بہت سے انسان (بھی)، اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں جن پر (ان کے کفر و شرک کے باعث) عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور اﷲ جسے ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اﷲ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

چاند سورج ستارے سب سجدہ ریز۔
مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بےخوشی۔ ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع ہر چیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے۔ چناچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سربہ سجود ہونا بھی آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀) 16 ۔ النحل ;48) میں بیان فرمایا ہے۔ آسمانوں کے فرشتے، زمین کے حیوان، انسان، جنات، پرند، چرند، سب اس کے سامنے سربہ سجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کررہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔ ان تینوں چیزوں کو الگ اس لئے بیان کیا گیا کہ بعض لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اسے لئے فرمایا سورج چاند کو سجدے نہ کرو اسے سجدے کرو جو ان کا خالق ہے بخاری ومسلم میں ہے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر (رض) سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اللہ کو علم ہے اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو۔ آپ نے فرمایا یہ عرش تلے جاکر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر اس سے اجازت طلب کرتا ہے وقت آرہا ہے کہ اس سے ایک دن کہہ دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا۔ سنن ابی داؤد، نسائی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں گرہن کی حدیث میں ہے کہ سورج چاند اللہ کی مخلوق ہے وہ کسی کی موت پیدائش سے گرہن میں نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی میں سے جس کس پر تجلی ڈالتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں سورج چاند اور کل ستارے غروب ہو کر سجدے میں جاتے ہیں اور اللہ سے اجازت مانگ کر داہنی طرف سے لوٹ کر پھر اپنے مطلع میں پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں اور درختوں کا سجدے میں ان کے سائے کا دائیں بائیں پڑنا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں جب سجدے میں گیا تو وہ درخت بھی سجدے میں گیا اور میں نے سنا کہ وہ اپنے سجدے میں یہ پڑھ رہا تھا۔ دعا (اللہم اکتب لی بہا عندک اجرا وضع عنی بہا وزرا واجعلہا لی عندک ذخرا و تقبلہا منی کما تقبلتہا من عبدک) داود۔ یعنی اے اللہ اس سجدے کی وجہ سے میرے لئے اپنے پاس اجروثواب لکھ اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اسے ذخیرہ آخرت کر اور اسے قبول فرما جسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) کا سجدہ قبول فرمایا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک دن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدے کی آیت پڑھی۔ سجدہ کیا اور یہی دعا آپ نے اپنے اس سجدے میں پڑھی جسے میں سن رہا تھا (ترمذی وغیرہ) تمام حیوانات بھی اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چناچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اپنے جانور کی پیٹھ کو اپنا منبر نہ بنا لیا کرو بہت سی سواریاں اپنے سوار سے زیادہ اچھی ہوتی ہیں اور زیادہ ذکر اللہ کرنے والی ہوتی ہیں اور اکثر انسان بھی اپنی خوشی سے عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں ہاں وہ بھی ہیں جو اس سے محروم ہیں تکبر کرتے ہیں۔ سرکشی کرتے ہیں اللہ جسے ذلیل کرے اسے عزیز کون کرسکتا ہے ؟ رب فاعل خود مختار ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی (رض) سے کسی نے کہا یہاں ایک شخص ہے جو اللہ کے ارادوں اور اس کی مشیت کو نہیں مانتا۔ آپ نے اسے فرمایا اے شخض بتا تیری پیدائش اللہ تعالیٰ نے تیری چاہت کے مطابق کی یا اپنی ؟ اس نے کہا اپنی چاہت کے مطابق۔ فرمایا یہ بھی بتا کہ جب تو چاہتا ہے مریض ہوجاتا ہے یا جب اللہ چاہتا ہے ؟ اس نے کہا جب وہ چاہتا ہے۔ پوچھا پھر تجھے شفا تیری چاہت سے ہوتی ہے یا اللہ کے ارادے سے ؟ جواب دیا اللہ کے ارادے سے۔ فرمایا اچھا یہ بھی بتا کہ اب وہ جہاں چاہے گا تجھے لے جائے گا یا جہاں تو چاہے گا ؟ کہا جہاں وہ چاہے۔ فرمایا پھر کیا بات باقی رہ گئی ؟ سن اگر تو اس کے خلاف جواب دیتا تو واللہ میں تیرا سراڑا دیتا۔ مسلم شریف میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہٹ کر رونے لگتا ہے کہ افسوس ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا اس نے سجدہ کرلیا جنتی ہوگیا میں نے انکار کردیا جہنمی بن گیا۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ یارسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة حج کو اور تمام سورتوں پر یہ فضیلت ملی کہ اس میں دو آیتیں سجدے کی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جو ان دونوں پر سجدہ نہ کرے اسے چاہے کہ اسے پڑھے ہی نہیں۔ (ترمذی وغیرہ) امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث قوی نہیں لیکن امام صاحب (رح) کا یہ قول قابل غور ہے کیونکہ اس کے راوی ابن لہیہ (رح) نے اپنی سماعت کی اس میں تصریح کردی ہے اور ان پر بڑی جرح وتدلیس کی ہے جو اس سے اٹھ جاتی ہے۔ ابو داؤد میں فرمان رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے کہ سورة حج کو قرآن کی اور سورتوں پر یہ فضیلت دی گئی ہے اس میں دوسجدے ہیں۔ امام ابو داؤد (رح) فرماتے ہیں اس سند سے تو یہ حدیث مستند نہیں لیکن اور سند سے یہ مسند بھی بیان کی گئی ہے مگر صحیح نہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حدیبہ میں اس سورت کی تلاوت کی اور دو بار سجدہ کیا اور فرمایا اسے ان سجدوں سے فضیلت دی گئی۔ (ابوبکر بن عدی) حضرت عمرو بن عاص (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پورے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، تین مفصل میں دو سورة حج میں۔ (ابن ماجہ وغیرہ) یہ سب روایتیں اس بات کو پوری طرح مضبوط کردیتی ہیں۔