اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں اتنا کچھ) دیتے ہیں جتنا وہ دے سکتے ہیں اور (اس کے باوجود) ان کے دل خائف رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں (کہیں یہ نامقبول نہ ہو جائے)،
English Sahih:
And they who give what they give while their hearts are fearful because they will be returning to their Lord.
1 Abul A'ala Maududi
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے،
3 Ahmed Ali
اور جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
4 Ahsanul Bayan
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (١)۔
٦٠۔١ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا ' ڈرنے والے کون ہیں؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں ' (ترمذی تفسیر سورہ المومنون۔ مسند احمد ٦۔١٩٥۔١٦٠)۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی لوٹ کر جانا ہے
6 Muhammad Junagarhi
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں (پھر بھی) ان کے دل اس خیال سے ترساں رہتے یں کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور وہ لوگ جو بقدر امکان راسِ خدا میں دیتے رہتے ہیں اور انہیں یہ خوف لگا رہتا ہے کہ پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جانے والے ہیں
9 Tafsir Jalalayn
اور جو دے سکتے ہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے
10 Tafsir as-Saadi
﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا ﴾ ” اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں۔“ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں، مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَّ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ ﴾ ” اس کے دل خوف زدہ ہیں۔“ ﴿أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ﴾ ” اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش کئے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur woh jo amal bhi kertay hain , ussay kertay waqt unn kay dil iss baat say sehmay hotay hain kay unhen apney perwerdigar kay paas wapis jana hai ,