Skip to main content

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَأْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا ۗ ذٰ لِكُمْ خَيْرٌ لَّـكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَدْخُلُوا۟
تم داخل ہو
بُيُوتًا
گھروں میں
غَيْرَ
سوائے
بُيُوتِكُمْ
اپنے گھروں کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَسْتَأْنِسُوا۟
تم انس حاصل کرو۔ مانوس ہوجاؤ
وَتُسَلِّمُوا۟
اور تم سلام بھیجو
عَلَىٰٓ
پر
أَهْلِهَاۚ
اس کے گھر والوں (پر)
ذَٰلِكُمْ
یہ بات
خَيْرٌ
بہتر ہے
لَّكُمْ
تمہارے لیے
لَعَلَّكُمْ
تاکہ تم
تَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو،

احمد علی Ahmed Ali

اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو او رگھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو (١) یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاک تم نصیحت حاصل کرو (٢)

٢٧۔١گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالٰی گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اَسْتِیْنَاس کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت طلب فرماتے اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آتے۔ اور یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، تاکہ ایک دم سامنا نہ ہو جائے جس بےپردگی کا امکان رہتا ہے (ملاحظہ ہو صحیح بخاری) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں (البخاری) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ جب اندر سے صاحب بیت پوچھے ، کون ہے؟ تو اس کے جواب میں "میں""میں"کہا جاءے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے (صحیح بخاری)
٢٧۔٢ یعنی عمل کرو، مطلب یہ ہے کہ اجازت طلبی اور سلام کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہونا، دونوں کے لئے اچانک داخل ہونے سے بہتر ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔ اور گھر والوں پر سلام نہ کرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ تاکہ نصیحت حاصل کرو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحبِ خانہ سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کرلو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے کہ شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرسکو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو،